Advertisement

برطانیہ میں نفرت انگیز تقاریر پر کئی افراد کو سزائیں اور جرمانے ہوئے

June 12, 2019
 

لاہور(صابرشاہ)گزشتہ کئی سال کےدوران برطانیہ میں تشدد پر اُکسانے اوردھمکانےیاغیراخلاقی کام جن کاواضح مقصددوسروں کوتنگ کرنایاتکلیف پہچاناتھاانھیں نفرت انگیزتقاریر بھی کہاجاسکتاہے، اس پرکئی افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔مثال کےطورپر اگست2011میں انگلینڈمیں فسادات کےدوران فیس بک پر تشدد کوہوادینےپرچارافرادکو چارسال قید کی سزادی گئی۔’’بی بی سی نیوز‘‘نے رپورٹ کیاکہ جورڈن بلیک شااور پیری سٹکلف کویونائیٹڈکنگڈم کےسیرئیس کرائم ایکٹ کی سیکشن 44اور 46کےتحت مجرم قراردےکر جیل بھیج دیاگیا۔ اس سے قبل جولائی 2009میں برطانیہ میں پہلی بار آن لائن نسلی منافرت پھیلانے پردوافرادکو جیل بھیج دیاگیا۔ سائمن شیپرڈ کوچار سال اور دس ماہ قید کی سزاسنائی گئی جبکہ سٹیفن ویٹل کودوسال اور چارماہ قید کی سزاہوئی۔ دی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا:’’ ان افرادنےنسلی منافرت کےموادپرمبنی کتابچےچھاپےاورویب سائٹس پرجاری کیا، اورگزشتہ سال نفرت پھیلانےکےایک مقدمے میں مجرم قرارپانے پر وہ امریکا فرارہوگئے۔ وہاں پہنچنے پر ان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کردی گئی اور انھیں واپس برطانیہ ڈی پورٹ کردیاگیا۔ لیدزکرائون کورٹ کوبتایاگیاکہ ویٹل نے نفرت آمیز مضامین تحریر کیے جنھیں شیپرڈنےانٹرنیٹ پر شائع کردیا۔ شائع شدہ مواد میں قتل ہونےوالے یہودیوں کےمزاحیہ کارٹون اور کئی نسلی گروہوں کے بارے میں مزاحیہ مضامین شامل تھے۔ ’’دی ٹیلی گراف‘‘کےمطابق فروری2006میں ایک عدالت نے شدت پسند شخص ابوحمزہ کوقتل پر اکسانے،نسلی منافرت پھیلانےاور دہشتگردوں کیلئے فائدہ مند دستاویزات رکھنےپرسات سال قید کی سزا سنائی۔ دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا:’’جسٹس ہیوز نےکہاکہ حمزہ نےتشددکوقانونی حیثیت دینےاورانصاف کےحصول کیلئےقتل وغارت کو اخلاقی اور مذہبی فریضہ قراردینےکیلئےاپنااختیاراستعمال کیا۔‘‘ 47سالہ حمزہ نےکھڑےہونےسےانکارکردیاتھا کیونکہ اسے سزاہوئی تھی اور بعد میں اس کے پیروکار پبلک گیلری سے اس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اسے دہشتگردی کی عالمی تحریک میں ایک اہم کردار قراردیا۔ اسےعدالت کی جانب سےچار دن تک مشاورت کےبعد15میں سے 11الزامات کےتحت سزا ہوئی۔‘‘ ’’بی بی سی نیوز‘‘اور ’’ٹائمز آن لائن‘‘ کےمطابق جہاں تک برطانیہ میں نفرت آمیزتقریرپرسزاکاتعلق ہےتواکتوبر2001میں ایک ایونجلسٹ ہنری ہیمنڈ پرفردِ جرم عائد کی گئی اورپبلک آرڈرایکٹ1986کی سیکشن5کےتحت مجسٹریٹ نےہیمنڈکومجرم قراردیا، 300پائونڈ جرمانہ کیااور395پائونڈکی ادائیگی کاحکم دیا۔‘‘ ایک پلے کارڈ جس پر لکھاتھاکہ ’’حضرت عیسیٰؑ زندہ ہیں‘‘، ’’ہم جنس پرستی بند کرو‘‘ اور حضرت عیسیٰ ؑ ہمیں امن دیجئے‘‘، ان کے ساتھ ہنری نے ہینری نے انگلینڈ کے جنوبی ساحل پر واقع قصبے بورن مائوتھ میں مظاہرہ کیا۔ اس پر کچھ راہگیر ناراض ہوگئے اور انھوں نے اسے ہٹانے کی کوشش کی؛ کچھ نے ہیمنڈ پر پانی اور ریت پھینکی جس سے سڑک پر افراتفری پھیل گئی۔ اگرچہ ہجوم میں سے کسی کو کچھ نہیں کہاگیا۔ ستمبر2006میں ایک شخص سٹیفن گرین کو کارڈف شہرمیں ایسے پمفلٹ تقسیم کرنےپرگرفتارکرلیاگیاجن پر ہم جنس پرستی کوگناہ قراردینے کی تحریر لکھی ہوئی تھی۔ بی بی سی کے مطابق اس پر مقدمہ نہیں چلایاگیا۔ 2009 میں ایک ہوٹل بین اینڈ شیرون ووگلینزانگ کےمالکوں پراس وقت فردِ جرم عائد کی گئی جب ایک مہمان نے شکایت کی کہ اس کے حجاب پہنے پر مالکان نے اس کی بےعزتی کی ہے۔ ’’سنڈے ٹائمز‘‘ نےرپورٹ کیاانھیں بری کردیاگیاتھا۔ 2010میں ایک شخص ہنری ٹیلر پر اس لیے فردِ جرم عائد کی گئی کیونکہ اس نے2008میں تین مواقع پرلیورپول ایئرپورٹ کےدعامانگنے کے کمرے میں مذہب مخالف کارٹون پھینکا تھا۔ ایئرپورٹ کے پادری کیجانب سے شکایت پر ٹیلر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اسے پبلک مقامات پر مذہب مخالف مواد لےجانے سے روک دیاگیا، عدالت نے اسے بغیر تنخواہ کے 100گھنٹے کام کرنےکاحکم دیااور 250پائونڈ اداکرنے کی ہدایت کی۔ 2018میں سوشل میڈیا کارکن مارک مکین پر قانون نے اپنی گرفت کی، اس نے ایک اشتعال انگیز ویڈیو یو ٹیوب پرڈالی تھی جسے تیس لاکھ بار دیکھا گیا۔ یہودی کمیونٹی اشتعال دلانے کیلئے اس نے اپنی گرل فرینڈ کو ہٹلر کے نازی انداز میں سیلوٹ کرنے کی ٹریننگ دی تھی۔ 23اپریل 2018کواسے800پائونڈ جرمانہ ہوا۔ ’’دی انڈیپنڈنٹ‘‘، ’’ٹیلی گراف‘‘ اور ایوننگ سٹینڈرڈ‘‘ کےمطابق لندن میں 2017میں 500افرادنے ایک مظاہرہ کیاتھا۔ 2017میں ایک ٹین ایج رسل پرایک پیغام رسانی کے نیٹورک ’’انسٹاگرام‘‘ کے ذریعے کئی اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ کئی برطانوی میڈیاہائوسزنے رپورٹ کیاکہ رسل کو مجرم قراردیاگیا اور 585پائونڈ جرمانہ کیاگیا، نقل وحرکت پر پانبدی اور ایک مانیٹرنگ بریسلٹ بھی پہنایاگیا۔ لیورپول کرائون کورٹ نے فروری 2019کو رسل کی سزا ختم کردی تھی۔


مکمل خبر پڑھیں