Advertisement

جامعہ کراچی میں داخلےکےخواہشمندتمام معذورافرادکوفری شپ کی سہولت دیں گے،وی سی

June 12, 2019
 

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک بلین افراد کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی بسرکررہے ہیں۔اگر ان افراد کو ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات مہیا کی جائیں تو وہ بھی اپنے روزمرہ کے کام بہتر انداز میں سرانجام دے سکیں گے اور اپنی زندگی زیادہ بہتر انداز میں گزارنے کے قابل ہوجائیں گے۔ان افراد کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیئے جبکہ معلومات تک رسائی بھی ان کی دسترس میں ہونی چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ خصوصی تعلیم کے زیر اہتمام کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ”مستقبل قابل رسائی ہے“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ شعبہ ہذا کی جانب سے خصوصی افراد کے لئے کی جانے والی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔دریں اثناءرئیس کلیہ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ناصر سلمان کی جانب سے کی جانے والی نشاندہی کرانے پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی میں داخلے کے خواہشمند تمام معذور افراد کو فری شپ کی سہولت دی جائے گی۔معذور افراد سے متعلق معلومات کو جامعہ کراچی کی ویب سائٹ کا حصہ بنایا جائے گا اور انہوں نے شعبہ خصوصی تعلیم کی الگ عمارت کے قیام کے لئے پی سی ون منصوبہ بنانے کی ذمہ داری رئیس کلیہ تعلیم کو تفویض کردی۔ جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر نبیل احمد زبیری نے کہا کہ دنیا کی کل آبادی کاتقریباً15 فیصد کسی نہ کسی معذوری کا شکا رہیں جبکہ پاکستان میں 5.04 ملین افراد اس حوالے سے متاثر ہیں ۔افسوناک امر یہ ہے کہ ان افراد کی تعداد ملتان ،حیدرآباد اورپشاور کے شہروں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے اور ان افراد میں 41.6 فیصدخواتین شامل ہیں۔سندھ اور بلوچستان میں معذور افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس میں 43 فیصدخواتین شامل ہیں۔لونگ ووڈیونیورسٹی ورجینیا امریکہ کے ڈاکٹر آفتاب خان نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیا دی مقصد یہ ہے کہ اس بات کو اجاگر کیا جائے کہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔فیفا میڈیکل سینٹر آف ایکسلینس دبئی کے اسپورٹس فزیکل تھراپسٹ عرفان علی نے کہا کہ معذوربچوںکا زیاد ہ تروقت بیٹھنے میں گزرتاہے اور غلط طریقے سے بیٹھنا جس میں جسمانی وزن میں مناسب تناسب کا خیال نہ رکھنا بھی شامل ہے جس کی وجہ سے وہ السر اور دیگر جسمانی پیچیدگیوں کا شکارہوجاتے ہیں۔امریکن بورڈ آف ڈس ایبیلیٹی اینالسٹ کے ڈپلومیٹ شکیل احمد نے کہا کہ اسپیچ لینگویج تھراپی میں نئے زوایے تلاش کرکے ڈسفیگیا کے علاج میں مددمل سکتی ہے۔رئیس کلیہ تعلیم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ناصر سلمان نے کہا کہ اس ملک میں خصوصی تعلیم ایسے ہی ہے جیسے یورپ اور ایشیاءہیں ۔ایجوکیشن اور خصوصی تعلیم میںبنیادی فرق بہت زیادہ ہے۔مگر ہمیں یہ بات یادرکھنی چاہیئے کہ یورپ بھی ایسی ہی صورتحال سے گزر چکا ہے۔انہوں نے شیخ الجامعہ سے درخواست کی کہ شعبہ خصوصی تعلیم کے لئے نئی عمارت کی ضرورت ہے اور معذور افراد کے حوالے سے جامعہ کراچی کی ویب سائٹ پر بھی معلومات اپ لوڈہونی چاہیئے۔انہوں نے صرف نابنیا افراد کو فری شپ کی سہولت حاصل ہے جوکہ دیگر معذور افراد کو بھی ملنی چاہیئے۔شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی کی چیئر پرسن ڈاکٹر حمیراعزیز نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آج اس کانفرنس کے ذریعے معذورافراد کودرپیش مسائل کو صحیح طور پر اجاگرکیا گیاہے اوراس کے ادراک کے لئے قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں جس پرعملدرآمد سے ان افراد کے مسائل کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں