Advertisement

ادبی لطائف...

June 12, 2019
 

تخلّص کے بارے میں ایک لطیفہ

مشہور مزاح گو شاعر احمق پھپھوندوی ایک مشاعرے میں بلائے گئے جس میں بہت سے شاعر ان کے ناپسندیدہ تھے ۔ انہوں نے اپنے تخلص کا سہارا لے کر ان پر یہ چوٹ کی:

ادب نوازیِ اہلِ ادب کا کیا کہنا

مشاعروں میں اب احمق بلائے جاتے ہیں

………٭٭………

لیلٰی گورکھ پوری

برسات کا موسم تھا۔ یونیورسٹی میں چاروں طرف گھاس اُگ آئی تھی۔ گھسیارے گھاس کاٹنے میں جتے ہوئے تھے۔

ممتاز شاعر ،پروفیسر مجنوں گورکھ پوری کی کلاس جاری تھی۔ ایک گھسیارن کلاس کے سامنے والے برآمدے سے گزری۔ طلبا کی نظریں لا محالہ اس کی طرف اٹھیں۔ مجنوں نے بھی اس جانب دیکھا اور بے ساختہ بولے:

’’یہ کون ہے؟‘‘

ایک گوشے سے آواز آئی۔۔۔۔۔’’لیلٰی گورکھ پوری‘‘۔

یہ سننا تھا کہ سارے کلاس میں قہقہے گونجنے لگے۔

………٭٭………

نظم کا اعجاز

حفیظ جالندھری، سر عبد القادر کی صدارت میں انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں چندہ جمع کرنے کی غرض سے اپنی نظم سنا رہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر منتظمِ جلسہ نے بتایا کہ 300روپے جمع ہوئے۔

حفیظ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ میری نظم کا اعجاز ہے۔

’’لیکن حضور!‘‘،منتظم نے متانت سے کہا ،’’200 روپے ایک ایسے شخص نے دیے ہیں جو بہرا تھا‘‘۔

………٭٭………

بستر بدل دیجیے

مشہور شاعر ،محسن احسان علیل تھے۔ احمد فراز عیادت کے لیے گئے۔ دیکھا کہ محسن احسان کے بستر پر کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ چادر بھی میلی تھی۔ احمد فراز نے صورت حال دیکھ کر مسکراتے ہوے محسن سے کہا: ’’یار اگر بیوی بدل نہیں سکتے تو کم از کم بستر ہی بدل دیجیے‘‘۔

………٭٭………

پاپ بیتی

مشتاق احمد یوسفی نے کسی کی آپ بیتی احمد فراز کو بہ ذریعہ ڈاک بھیجی۔ ساتھ میں ایک سطری رقعہ لکھا:

’’مطلوبہ آپ بیتی ارسال خدمت ہے۔سنائیں آپ اپنی ’’پاپ بیتی‘‘ کب لکھ رہے ہیں؟


مکمل خبر پڑھیں