Advertisement

پارلیمنٹ چلانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مصالحانہ طرز عمل اپنانا ہوگا

June 20, 2019
 

رانا غلام قادر، اسلام آباد

موسم گرما کے درجہ حرارت کی طرح ملک کا سیاسی درجہ حرارت بھی مسلسل بڑھ رہا ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی جارحانہ انداز اختیار کر چکی ہے لب و لہجے میں تلخی کا عنصر نمایاں نظرآ رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی مزید بڑھے گی اور تصادم کی شکل اختیار کرے گی اگر محاذ آرائی پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب بڑھے گی تو پھر یہ دیوار پر واضح لکھاہے کہ جمہوری عمل کو نقصان پہنچے گا اس محاذ آرائی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہار جائیں گے اور اس کا فائدہ یقیناً تیسری قوت کو ہو گا سوال یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی کا ذمہ دار کون ہے بظاہر دونوں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھراتے نظر آتے ہیں لیکن اگر غیر جانبدرانہ تجزیہ کیا جائے تو زیادہ ذمہ دار حکومت ہے وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کو ہمیشہ سے احتجاج ، واک آئوٹ اور جلسہ جلوس کی سیاست کرتی آئی ہے اپوزیشن کے پاس سوائے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے ہوتا کچھ نہیں ہے ۔ حکو مت کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ وسیع القلبی کا مظا ہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے ۔ اس وقت اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی۔ مسلم لیگ (ن) کو قائد میاں نواز شریف جیل میں ہیں ان کے بھائی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور انکے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو نیب کے ریفرنسز کا سامنا ہے مریم نواز بھی ضمانت پر ہیں شہباز شریف کے داماد بھی کیس میں مطلوب ہیں اسحاق ڈاربھی مفرور ہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال تالپور بھی نیب کے ریفرنس میں گرفتار ہیں ظاہر ہے کہ جب دونوں جماعتوں کی قیادت گرفتار یا ضمانت پر ہو اور ان پر نہ صرف کیسز ہیں بلکہ مزید کیسز کے بننے کا امکان بھی ہے ان حالات میں ان دونوں جماعتوں کے پاس احتجاج کرنے یا تحریک چلانے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا اپوزیشن کی تیسری بڑی جماعت جے یو آئی (ف) ہے جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو موجودہ اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بھی مخالف تھے اور ان کا موقف ہے کہ یہ دھاندلی زوہ الیکشن تھے اور رکنیت کا حلف اٹھانے سے اسمبلی کو جواز مل جائے گا اگرچہ جے یو آئی کے ممبران اسمبلی کی تعداد زیادہ نہیں ہے مگر ان کے پاس ہزاروں دینی مدارس کے لاکھوں طلبہ و علمائے کرام کی قوت ہے جس کا وہ مسلسل مظاہرہ کر رہے ہیں جہاں تک حکمران جماعت پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو اس کی نہ تو قومی اسمبلی میں اکثریت ہے اور نہ پنجاب اسمبلی میں۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں کے سہارے قائم ہے جس دن مرکز میں اختر مینگل یا ایم کیو ایم الگ ہوئے تو حکومت گر جائے گی اسی طرح پنجاب میں جس دن (ق) لیگ الگ ہوئی تو حکومت گر جائے گی۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف الائنس بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی اور دوسرے یہ کہ کیا یہ اپوزیشن الائنس ملک گیر تحریک چلا کر حکومت کو گرا سکتا ہے اپوزیشن الائنس تو سو فیصد بننے والا ہے اس کے لئے رابطے ہو چکے ہیں جہاں تک اس اپوزیشن اتحاد کی جانب سے موثر احتجاجی تحریک چلانے اور حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سوال ہے تو اس کا انحصار حکومت رویے پر ہے کیونکہ احتجاجی تحریک کے لئے ماحول اور عوامل حکومت نے فراہم کرنے ہیں عوام اس وجہ سے ہر گز سڑکوں پر نہیں آئیں گے کہ شریف فیملی یا زرداری فیملی کے کیسز کیوں بنائے گئے ہیں عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کیسز بنائے گئے ہیں تو ان کا سامنا کیا جائے ۔ وزیراعظم نہ گھبرانے کا جتنا بھی درس دیں اور وزراء جتنے مرضی بیانات دیں مگر ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ عوام کو بدترین مہنگائی کا سامنا ہے ڈالر 157 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ، روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف سے معاہدے کا نتیجہ ہے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کے دبائو پر کیا گیا پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نے عام آدمی پر بوجھ ڈالا ہے بجلی گیس ٹیکس ریونیو میں وصولی کا ہدف 5550 ارب مقرر کیا گیا ہے جو کوہ ہمالیہ سر کرنے کے مترادف ہے نئے ٹیکسوں کے اطلاق سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ملازمین کو انکم ٹیکس میں حاصل رعایت واپس لے لی گئی ہے یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کی وجہ سے عوام حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں اور عوام کی ناراضگی اور غم و غصے کا فائدہ اپوزیشن اتحاد اٹھائے گا اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو اس کمزور حکومت کے لئے عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں یہ انوکھی پا ر لیما نی رو ایت دیکھنے کو ملی ہے کہ قومی اسمبلی کا ماحول کشیدہ کرنے میں وزراء پیش پیش ہیں یہ پارلیمانی روایت ہے کہ قائد حزب اختلاف اور قائد ایوان جب تقریر کریں تو اس میں مداخلت نہیں کی جاتی بجٹ پر بحث کے لئے جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب کرنا چاہا تو حکومتی ممبران نے انہیں بار بار مداخلت کر کے تقریر نہیں کرنے دی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا واضح جھکائو بھی حکومت کی جانب نظر آیا دراصل وزیراعظم عمران خان مزاج کے اعتبار سے سخت اور بے لچک ہیں حکومتی ممبران کا یہ رویہ وزیراعظم کے مزاج کا عکاس ہے وزیراعظم بجٹ پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کے نعرے بازی سے غصے میں آئے تو قوم سے خطاب کر ڈالا یہ ریکارڈنگ ایک نجی اشتہاری کمپنی نے کی جو لاکھوں روپے کی ادائیگی کی گئی اور اس کی ناقص ایڈیٹنگ کی وجہ سے سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تقریر رات ساڑھے آٹھ کی بجائے رات 12 بجے نشر کی گئی وزیراعظم تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کریں وہ کرپشن کے خلاف کیسز میں کسی سے کوئی رعایت نہ کریں مگر اپوزیشن سے مفاہمانہ اور مصالحانہ طرز عمل اپنائیں سیاسی اختلاف رائے اور ذاتی دشمنی میں فرق ہوتا ہے اگر وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مصافحہ کر لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپوزیشن سے مرعوب ہو گئے ہیں بلکہ یہ اعلیٰ اخلاقی و پارلیمانی روایات ہیں جن کی پاسداری دونوں جانب سے کی جانی چاہئے ایک دوسرے کے احترام کا رشتہ برقرار رکھا جائے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سنا جائے یہی جمہوریت کی روح ہے جمہوری عمل کا چلنا تمام سیاسی جماعتوں کے مفاد میں ہے یہ نہ ہو کہ پچھتانا پڑے وزیراعظم کو یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ ملک کا سب بڑا چیلنج معاشی استحکام ہے اور معاشی استحکام سیاسی استحکام سے مشروط ہے سیاسی استحکام کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں آخری حملہ یہ کہ قومی سیاست بھی ارتقائی عمل کے تحت نئےسیاسی منظر نامہ میں داخل ہو رہی ہے ۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف اب ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں انکی سیاسی وراثت اب بلاول بھٹو اور مریم نواز کو منتقل ہو رہی ہے بلاول بھٹو کی مریم نواز سے ملاقات نے شہباز شریف کی سیاسی حیثیت بھی ثانوی کر دی ہے ۔


مکمل خبر پڑھیں