Advertisement

’’کارل مارکس‘‘ جدید مادیت اور سائنسی اشتراکیت کے بانی

June 30, 2019
 

فلسفی، سماجی سائنسدان،مورخ،صحافی، ماہر اقتصادیات اور انقلابی کارل مارکس بلاشک و شبہ 19ویں صدی کے انتہائی اثر پذیر مفکر اور فلسفی بن کر اُبھرے، جنھیں ان کی زندگی میں ہم عصر فلسفی اور دانشورنظر انداز کرتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد دنیا کی نصف سے زائد آبادی مارکس کے نظریات کی اسیر بن گئی۔جہاں سے سرمایہ داروں کو کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی یاد آئی۔

پردۂ حیات

کارل مارکس 5مئی 1818ء کو پروشیا (موجودہ جرمنی) کے صوبہ رہائن کے شہر ٹرائیر (Trier) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ہینرچ مارکس روشن خیال اور پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ان کی والدہ ہینری پریس برگ(مارکس) انھیں صفائی ستھرائی کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ ان کا بچپن خوشحال گھرانے میں گزرا،لیکن انقلابی جدوجہد نے انھیں چین سے سونے نہ دیا۔ ٹرائیر میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے پہلے بون، پھر برلن یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1841ء میں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔ ایپیکیورَس (Epicurus) کے فلسفے پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ تب وہ ہیگل کے عینی (خیال پرستانہ) نظریے سے متاثر اور ینگ ہیگلین کے فعال رکن تھے۔ گریجویشن کے بعد وہ بون آگئے، جہاں پروفیسر بننے کا ارادہ تھا، تاہم حکومت کی پالیسی سخت رجعتی تھی۔ فلسفی لڈوگ فیور باخ کو 1832ء میں جب یونیورسٹی کی مسند سے نکال دیاگیا تو یہ سلوک دیکھ کر کارل مارکس نے پروفیسر بننے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کرکے صحافت کو اظہار و رزق کا وسیلہ بنایا۔

صحافتی کیریئر

بائیں بازو کے ہیگلیوں سے رابطے میں رہنے والےرہائن کے کچھ ریڈیکل بورژوا لوگوں نے کولون شہر سے ایک مخالفانہ پرچہ ’رہائن کا اخبار‘ (Rheinische Zeitung) نکالا۔ یکم جنوری 1842ء کو اس کا پہلا شمارہ آیا۔ مارکس کو خاص طور سے اس پر چے کے لئے لکھنے کی دعوت دی گئی۔ اکتوبر 1842ء میں وہ پرچے کے مدیر اعلیٰ ہوئے اور بون سے کولون منتقل ہو گئے۔ ان کی ادارت میں پرچے کا انقلابی جمہور ی رنگ نکھرتا چلا گیا۔ حکومت نےپہلے تو دوہری تہری سنسر شپ لگائی، پھر یکم جنوری 1843ء کو پرچے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1843ء میں کروزناخ شہر میں اپنی بچپن کی دوست،جینی وون ویسٹ فالن، جس سے زمانہ طالب علمی میں ہی شادی طے ہو چکی تھی، سےرشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ 1843ء کے موسم خزاں میں پیرس گئے اور انقلابی لکھاری کے طور پر سامنے آئے۔

جلاوطنی

ستمبر 1844ء میں فریڈرک اینگلز کچھ دنوں کے لئے پیرس آئے تو ہم خیال نظریات سےقریب ترین دوست اور پیرس میں انقلابی گروہوں کی جوش کھاتی زندگی کا سرگرم حصہ بن گئے۔ اُس وقت پرودھون (Proudhon) کا نظریہ خاص اہمیت کا حامل تھا، جسے بعد میں مارکس نے 1847ء میں اپنی تصنیف ’فلسفے کی غربت‘ میں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر پارہ پارہ کر دیا۔ مارکس اور اینگلز نے پیٹی بورژوا سوشلزم کے مختلف نظریات کے خلاف سخت جدوجہد کا آغاز کرکےپرولتاری سوشلزم یا کمیونزم (مارکس ازم) کی حکمت عملی اور نظریات وضع کئے۔ 1845ء میں پروشیائی حکومت کے لگاتار اصرار پر مارکس کو خطرناک انقلابی قرار دے کر پیرس سے نکالا گیاتو وہ برسلز چلے گئے۔ 1847ء کے موسم بہار میں مارکس اوراینگلز نے ایک خفیہ پروپیگنڈا سوسائٹی ’کمیونسٹ لیگ‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ لیگ کی دوسری کانگریس (لندن، نومبر 1847ء) میں بہت نمایاں تھے ۔ اسی کانگریس کے کہنے پر مشہورِ زمانہ ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ مرتب کیا گیا، جو فروری 1848ء میں چھپ کر سامنے آیا اور مادیت، جدلیات، طبقاتی جدوجہد کے نظریے اور ایک نئے کمیونسٹ سماج کے خالق کے طور پر پرولتاریہ کے تاریخی انقلابی کردار پر مبنی تھا۔ فروری 1848ء کا انقلاب شروع ہوا تو مارکس کو بیلجیم سے بھی نکال دیا گیا۔ وہ پیرس واپس آگئے، جہاں سے مارچ کے انقلاب کے بعد وہ کولون چلے گئے۔ کولون میں یکم جون 1848ء سے 19 مئی 1849ء تک رہائن کا نیا اخبار(Neue Rheinische Zeitung) شائع ہوا، جس کے وہ چیف ایڈیٹربنے۔ کچھ عرصے بعد وہ پیرس چلےگئے،تاہم 13جون 1849ء کے مظاہرے کے بعد جب ایک بار پھر وہاں سے نکال دیے گئے تو انھوں نے لندن کا رُخ کیا، جہاںتادمِ مرگ سرمایہ داروں کی بالادستی کے خلاف جدوجہد میں مصروف رہے۔ 28ستمبر 1864ء کو لندن میں’انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن‘قائم کی گئی۔ مارکس اس تنظیم کے رو حِ رواں ، پہلے خطیب اور بے شمار قراردادوں، اعلامیوں اور منشوروں کے لکھاری تھے۔اس ایسوسی ایشن کے لئے انتھک کام اور اس سے بھی بڑھ کر فکری مصروفیات نے مارکس کی صحت کو بری طرح متاثر کیا،تاہم سیاسی معاشیات کو ازسر نو مرتب کرنے اور ’سرمایہ‘ کو مکمل کرنے کا کام جاری رکھا۔ صحت کی خرابی نے انھیں ’سرمایہ‘ کی تصنیف مکمل نہ کرنے دی،جسے ان کے دست راست فریڈرک اینگلز نے دوسری اور تیسری جِلد کی صورت مکمل کیا۔2دسمبر 1881ء کو جب کارل مارکس کی وفاشعارشریک حیات وفات پا گئیں تو ان کے لیے جینا دوبھر ہوگیا اور بالآخر 14مارچ 1883ء کو مارکس اپنی آرام کرسی پر اَبدی نیند سو گئے۔


مکمل خبر پڑھیں