Advertisement

’’سادات انجوہی‘‘ شیخ الاسلام ہونے کے ساتھ ادیب و شاعر بھی تھے

July 02, 2019
 

سید میر محمد بن سید بلال ٹھٹھوی کی تصنیف ’’ترخان نامہ‘‘ اس اعتبار سے تاریخ سندھ میں نمایاں اہمیت رکھتی ہے کہ اس سے پہلے ہمیں کسی کتاب میں ترخان حکمرانوں کے حالات تفصیل سے نہیں ملتے ہیں۔ سید میر محمد بن سید جلال ٹھٹھوی نے اس کی وجہ تالیف یوں بیان کی ہے کہ مرزا محمد صالح ترخان پسر مرزا عیسیٰ خان ترخان ثانی نے اپنے گجرات کے قیام کے زمانے میں لکھا ہے کہ اس کے آبائواجداد کے حالات پر مشتمل کتاب ’’ترخان نامہ‘‘ سندھ سے حاصل کر کے مجھے بھیجی جائے۔

سید میر محمد کا بیان ہے کہ مرزا محمد صالح کو اپنے قبیلے سے دلچسپی تھی اور وہ اپنے اجداد و اسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا اور چاہتا تھا کہ اسے ہر ایک کا حسب نسب تفصیل سے معلوم ہو کہ کس کا کیا مقام ہے۔سید میر محمد نے جس وقت ’’ترخان نامہ‘‘ مکمل کیا ،اس وقت مرزا محمد صالح اور اس کے چند اقارب یادگار کے طور پر باقی رہ گئے تھے۔سید میر محمد بن سید جلال ٹھٹھوی شیراز کے اس خانوادہ سادات سے تعلق رکھتے تھے جو انجوہ کہلاتا تھا، ان کےجد امجدسید محمد المعروف میران محمد نے نامعلوم وجوہ کی بناء پر آٹھویں صدی ہجری کے اوائل میں شیراز کی سکونت ترک کی تھی اور اپنے صاحبزادے سید احمد کے ساتھ سندھ میں وارد ہوئے۔ اس وقت سندھ کا ایک قصبہ سید پور اس لحاظ سے بہت معروف تھاکہ وہاں سادات کی آبادی تھی۔ سید محمد المعروف میراں محمد نے اپنی اقامت کے لئے اس کو پسند کیا اور وہیں آباد ہو گئے۔ اس وقت سندھ پر جام صلاح الدین کی حکومت تھی۔ جام صلاح الدین، جام تماچی کے فوت ہونےکے بعد تخت نشین ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ کا نظم و نسق سنبھالتے ہی سب سے پہلے سرحدی علاقوں پر توجہ دی اورخطے کو شرپسندوں اورسماج دشمن عناصر کی قتل و غارت گری اور لوٹ مار سے پاک کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ’’کچھ‘‘ کے حاکموں کو بھی پے در پے شکست دیں اور ان سےبھاری تعداد میں مال غنیمت حاصل کیا جس کی وجہ سے ان کی رعایا خوش حال ہو گئی۔ وہ رعایا اور فوج کی مناسب موقع پر خبر گیری کرتے تھےاور سندھ کے رہنے والوں کو آرام و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتا دیکھنا چاہتے تھے، یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کی بڑی قدر و منزلت کرتے اور انتہائی ادب و احترام سے ان کا نام لیتے تھے۔ جام صلاح الدین علم پروری اور علماء سے عقیدت رکھتے تھے، انہوں نے سید محمد المعروف میراں محمد کی بڑی دل جوئی کی اور ان کی آمد کو اپنے حق میں نیک فال سمجھا۔ جب سید محمد المعروف میراں محمد نے وفات پائی تو سید احمد، سیدپور سے ٹھٹھہ چلے آئے تھے اور یہاںمستقل رہائش اختیار کی۔ اس وقت قاضی نعمت اللہ عباسی کا شمار ٹھٹھہ کےچند نمایاں اور معروف عالموں میں ہوتا تھا۔ سید احمد نے ان کی صاحبزادی سے شادی کی۔ ان کا یکم محرم الحرام 845ھ کو ٹھٹھہ میں انتقال ہوا۔ ان کی اولاد طویل عرصہ تک سندھ میں رہائش پذیر رہی جسے انتہائی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔

سید احمد کے صاحبزادے کا نام محمد حسین تھا۔ وہ سید مراد شیرازی کے لقب سے معروف ہوئے۔ وہ 845ھ کو پیدا ہوئے تھے۔ صغیر سنی ہی سے ان کی پیشانی سے بزرگی کے آثارہویداتھے، چنانچہ جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو ان کی بزرگی اور کرامت کا چرچا دور دراز کے علاقوں تک پھیل گیااور پھر ان کے زہد و تقویٰ اور عبادت گزار شخصیت ہونے کی وجہ سے ان کا شمار سندھ کے مشہور صوفیائے کرام میں ہونے لگا۔ جب ان کے کشف و کرامات کی اطلاع نصرت بہاء الدین ذکریا ملتانی کے نواسے صدرالدین کوبھی پہنچی ۔ سید مراد شیرازی نے چالیس سال کی عمر میں لوگوں سے اپنے خاندانی طریقے کے مطابق بیعت لینا شروع کی تھی ۔ لوگ دور دور سے آتے اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوتے تھے۔ اس وقت ٹھٹھہ میں لکھی کا بت خانہ بہت مشہور تھا۔ سید مراد شیرازی نے چاہا کہ اس بت خانے کو مسجد میں تبدیل کر دیں۔ اس وقت جام نظام الدین سندھ کا حکمراں تھا۔ اس نے انہیںاس کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اس بت خانے کی جگہ ان کی بنائی ہوئی ’’مسجد صفہ‘‘ اب بھی موجود ہے۔ سید مراد شیرازی نے12ربیع الاول 893ء کو وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے برادر بزرگ سید علی اول ان کے جانشین ہوئے۔ ان کے بعد سید جلال (متوفی903ھ) اپنے دور کے مشہور علماء اور صوفیاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کو تفسیر، حدیث، فقہ اور دوسرے علوم پرکامل عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی لوگوں کی رہنمائی اور خدمت میں گزاری۔ سید جلال کے صاحبزادے سید علی ثانی تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی وفات کے بعد مسند رشد و ہدایت سنبھالی۔ ان کے رشد و ہدایت کی وجہ سے لاکھوں افراد ان کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گئے۔ سیکڑوں مشائخ نے ان سے فیضان تربیت پایا اور معرفت و سلوک کے اعلیٰ مقام پر پہنچے۔ ان میں سے سید عبدالکریم بلڑی کاشمار اس اعتبار سے بہت زیادہوتاہے کہ ان کی ذات سے کئی کرامات مشہور ہیں۔ سید علی ثانی ہی کے زمانے میں ارغون سندھ میں آئے تھے اور ان کا پورا دور سید علی ثانی کی نظروں سے گزرا تھا۔ ان کے علاوہ دو ترخانی حکمراں مرزا عیسیٰ خان ترخان اول اور مرزا باقی خان ان کے معاصرین میں سے تھے۔ سید علی ثانی عوام میں نہایت محترم تھے۔ صرف عوام ہی ان کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے بلکہ بڑے بڑےامراء اور حکمرانوں کو بھی ان کے خوان فیض سے استفادہ کرنے کاشرف حاصل تھا۔ خود ہمایوں نے اپنی دشت نووردی کے زمانے میں سید علی ثانی سے ملاقات کی تھی اور ان کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ وہ اس کے حق میں دعا کریں۔ یہ بھی سید علی ثانی کی دعائوں کا نتیجہ تھا کہ ہمایوں کو دوبارہ ہندوستان کی کھوئی ہوئی سلطنت واپس ملی تھی۔

سندھ کے حکمراں مرزا شاہ بیگ ارغون نے961ھ میں وفات پائی تو اس کی لاش کو دو سال تک مکلی کے قبرستان میں بہ طور امانت رکھا گیا تھا۔ جب اس کی لاش تدفین کے لئے مکہ معظمہ بھیجی جا رہی تھی تو اس کی بیوی نے سید علی ثانی سے درخواست کی کہ وہ لاش کے ہمراہ مکہ معظمہ جانے کی زحمت فرمائیں تاکہ ان کی موجودگی موجب خیر و برکت ہو۔ سید علی ثانی، شیخ طریقت ہونےکے ساتھ ساتھ زبردست ادیب اور عالم بھی تھے۔ سندھی، فارسی اور عربی پر ان کو کلی مہارت تھی۔ وہ سندھی زبان میں بھی شعر کہتے تھے۔ میر معصوم بکھری نے اپنی تاریخ میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’سید علی ثانی علم، زہد اور تقویٰ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں چنانچہ اکثر فضلاء اور مسافر ان کے خوان احسان سے فیض

یاب ہوتے رہتے ہیں، ان کو ماہانہ جتنی آمدنی ہوتی ہے وہ ہر سال اس کا نصف حصہ علماء، فضلاء اور حرمین شریفین جانے والوں کے لئے مختص کر دیتے ہیں۔ میر سید علی ثانی نے بارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔ وہ ہر سال اوائل ربیع الاول میں بارہ دن تک ہزاروں غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے اور مکلی کے قبرستان میں میلاد کی محفلیں منعقد کراتے تھے۔‘‘

سید علی ثانی نے981ھ میں وفات پائی۔ اس زمانے میں سندھ پر مرزا باقی خان ترخان کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے ظلم و ستم سے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ سید علی ثانی کے صاحبزادوں میں سید جلال ثانی ، سید علی ثانی کی وفات کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ان کو شیخ الاسلام کا رتبہ بھی حاصل تھا۔ وہ اپنے والد کی طرح اہل دل اور اہل رشد تھے۔ انہوں نے سندھ کے بعض سیاسی مسائل کو بھی حل کیا تھا اور لوگوں کو پریشانیوں سے نجات دلائی تھی۔

جس وقت مرزا باقی ترخان کا ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا اور لوگوں کی فریادیں اکبر بادشاہ کے کانوں تک پہنچیں تو اس نے سندھ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مرزا باقی خان ترخان اس خیال سے لرز گیا کہ مبادا اکبراس کی سلطنت پر حملہ نہ کردے اس نے سید جلال ثانی سے درخواست کی کہ وہ بہ طور سفیر اکبر بادشاہ کے دربار میں تشریف لے جائیں اور اسے سندھ پر حملہ کرنے سے روکنے کی کوشش کریں۔باقی خان ترخان سے ان کے ساتھ اپنی بیٹی کو بھی شہنشاہ ہند کے دربار میں بھیجا تاکہ اکبر بادشاہ اسے حرم شاہی میں شامل کرلے۔ اکبر بادشاہ نے اس لڑکی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن سید جلال کی بزرگی کے پیش نظر ان کو اس امر کا یقین دلایا کہ وہ ان کے کہنے کے مطابق فی الوقت سندھ پر حملے کاقصد نہیں کرے گا۔شہنشاہ اکبر کو سید جلال سے گہری ارادت تھی۔ اس ارادت کی وجہ یہ تھی کہ سید جلال کے والد نے اس کی پیدائش کے وقت اپنے پیراہن مبارک کا وہ پارچہ عنایت فرمایا تھا جس میں پہلی مرتبہ اس کو لپیٹا گیا تھا۔

میر معصوم بکھری، سید جلال ثانی کے معاصرین میں سے تھا۔ اس نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ زہد و تقویٰ سے آراستہ تھا۔ انہوں نے اپنے والد کی روش سے سرمو انحراف نہیں کیا تھا۔ وہ تمام علوم و فنون میں یگانہ روزگار اور وحیدعصر تھا۔ ان کی فیاضی، سخاوت، مہمان نوازی، متانت اور شائستگی کی دور دور تک شہرت تھی۔ ہزاروںافراد ان سے دینی اور روحانی استفادہ کے لئے آتے اور شادکام ہو کر واپس لوٹتے تھے۔

مرزا محمد صالح اول متوفی 970ھ کی لڑکی سید جلال کے عقد میں دی گئی تھی لیکن جس وقت مرزا باقی خان ترخان نے اقتدار سنبھالا تھا اور مرزا صالح اور اس کے خاندان کے خلاف انتقامی کارروائی کی تو سید جلال ثانی کی بیوی کو بھی جیل میں قید کر دیاگیا۔ مرزا باقی خان ترخان کے مرنے کے بعد مرزا جانی بیگ نے زمام حکومت سنبھالی تو اس نے سب سے پہلے سید جلال ثانی کی بیوی کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ رہا کردیا۔

معیار سالکان طریقت کے مولف میر علی شیر قانع کی روایت کے مطابق اس خاتون کے بطن سے میر سید محمد پیدا ہوئے۔ وہ ہر لحاظ سے اپنے والد کے مثل تھے۔ میر علی شیر قانع کے بیان کے مطابق سید میر محمد سندھ کےمشہور بزرگوں میں سے تھے۔ انہوں نے ’’ترخان نامہ‘‘ جیسی مشہور کتاب لکھی۔ سید میر محمد کے دوبیٹے، میر بزرگ اور سید عبداللہ مشہور ہوئے۔ سید میر بزرگ کا ایک لڑکا میر زین العابدین معروف بہ سید لطف اللہ کا اپنے دور کے مشہور فارسی شاعروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے مرزا البشر کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔

میر زین العابدین کے دو لڑکے تھے۔ ایک کا نام سید غلام علی اور دوسرے کا نام سید عبدالولی تھا۔ ان کے علاوہ اور بھی نیک بزرگ اس خاندان میں مشہور ہوئے ہیں جن سے سندھ کے رہنے والوں کو دلی عقیدت رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ہزاروں لوگ پیر مراد شیرازی کے قبرستان میں آتے ہیں اور ان بزرگوں کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں جو اس گورستان میں محوخواب ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں