Advertisement

مَیں عورت ہوں…

July 07, 2019
 

مَیں عورت ہوں

مجھے ہے ناز، اپنی رفعتوں پر

مجھے ہے فخر، اپنی کاوشوں پر

مَیں فخر و انبساط کا باعث ہوں لوگو!

یہ مَیں ہی ہوں کہ جس کی چھاؤں میں اولاد پلتی ہے

یہ مَیں ہی ہوں کہ جس سے یاس امّیدوں میں ڈھلتی ہے

مِرے ہی دَم سے گھر میں زندگی محسوس ہوتی ہے

مِرے ہی بازوؤں میں قوم کی قسمت پنپتی ہے

جب اِک چٹان کی مانند مَیں مقصد پہ ڈٹ جاؤں

تو سیلِ تند رَو کو بھی کبھی خاطر میں نہ لاؤں

مِری تابانیوں میں مجھ کو نہ ڈھونڈو مِرے ہم دَم

مِری پہچان میرا حوصلہ، عزمِ مصمّم

مِری فطرت نہیں ہے پستی و تذلیل کی قائل

مَیں ابرِ نرم رَو، فخرِپدر ہوں، جانِ حرمت ہوں

مَیں عورت ہوں، مجھے ہے ناز اپنی حرمتوں پر

مجھے ہے فخر اپنی رفعتوں پر

(فرناز یاسمین، گلشنِ اقبال، کراچی)


مکمل خبر پڑھیں