Advertisement

5 جولائی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، پی پی فرانس

July 06, 2019
 

پانچ جولائی پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اس روز ایک ڈکٹیٹر ضیاالحق نے پاکستان کے منتخب جمہوری عوامی وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے معزول کرکے ملک میں مارشل لا لگا کر ملک کو تباہ کرنے کی بنیاد رکھی اور ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیا جس کی سزا آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔

یہ بات پاکستان پیپلزپارٹی فرانس کے صدر چوہدری محمد رزاق ڈھل بنگش، خواتین ونگ کی صدر متحرمہ روحی بانو ،سینئر رہنما عتیق الرحمٰن مرزا، جنرل سیکریٹری پرویز صدیقی ،راجہ کرامت حسین اور پیپلزیوتھ فرانس کے صدر راؤ عارف ندیم نے پانچ جولائی کے حوالے سے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سیاہ روز کا نتیجہ ہے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ان کی بیٹی شہید جمہوریت متحرمہ بے نظیر بھٹو نے ضیاالحق اور اس کی باقیات کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں جمہوریت کے پروانےکوڑے کھا نے اور قیدوبند کی مشکلات جھیل کر پاکستان میں جمہوریت کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں اور جمہوریت کی فتح تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آئین کی حکمرانی اور پارلیمان کی بالادستی کے اصول سے نہیں ہٹا سکتی۔ پانچ جولائی نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا۔ اس روز جمہوریت پر شب خون مار کر فرقہ وارانہ تعصب، کلاشنکوف کلچراور ہیروئن کی لعنت کو فروغ دیا گیا، عدم برداشت اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی سوچ کو شکست دینے کی ضرورت ہے، غیر جمہوری عناصر کے پاس صرف الزام تراشی کا ہتھیار ہوتا ہے تاکہ جمہوری سوچ کودبایا جائے۔

پی پی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے وفاق کی مضبوطی کےلئے صوبوں کو خود مختاری کےلئے جو اٹھارویں ترمیم کی، بعض عناصر اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اٹھارویں ترمیم سے صوبوں کو خودمختاری ملی ہے۔

انہوں نے کہا آئین سے انحراف کے مضر اثرات نکلیں گے جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔مضبوط اور مستحکم جمہوریت میں ہی پاکستان کی بقا اور سلامتی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں