Advertisement

یورپی یونین کا سعودیہ کو منی لانڈرنگ کی گرے لسٹ میں شامل کرنے پر غور

July 12, 2019
 

کراچی(نیوزڈیسک)یورپی یونین سعودی عرب کو ایک نئی گرے لسٹ میں شامل کرنے کیلئے غور کررہا ہے، نئی بلیک لسٹ میں ایف اے ٹی ایف کے مانیٹر کیے جانے والے تمام ہائی رسک ممالک شامل ہونگے،ایف اے ٹی ایف لسٹ میں حالیہ 14 ممالک شامل ہیں جن میں پاناما،باہماس ایتھوپیا،ایران،پاکستان ،شام،تیونس،یمن اور شمالی کوریا شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین منی لانڈرنگ رسک بننے والے ممالک کو اپنی لسٹ میں لانے کی تیاری کررہا ہے،یورپی یونین کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ریویو میں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ سعودی عرب کو ایک نئی گرے لسٹ میں شامل کرلیا جائے۔یورپی یونین ایگزیکٹو نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے سعودی عرب کو کالے دھن کی ترسیل اور دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا ۔ یورپی یونین کمیشن نے اس سلسلے میں 23 ممالک پر مبنی فہرست جاری کی تھی۔اس لسٹ کے بعد معاشی اثرات کا خوف تھا یورپی یونین حکومتوں جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کررہے ہیں نے کہا کہ یورپی یونین ایگزیکٹو کمیشن نے تحفظات کے اظہار کیلئے سعودی عرب اور دیگر ریاستوں کو تحفظات بتانے کا موقع فراہم نہیں کیا تھا۔دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ شارٹ فال سے براہ راست بلیک لسٹ کرنے کی بجائے نیا طریقہ کار کے مرحلے پر رسائی حاصل ہوگی جس کے تحت رسک ممالک اپنے قوانین میں تبدیلی کی بات کرسکیں گے اور ڈیڈ لائن پر کام کریں گے۔یورپی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اگر مطلوبہ اصلاحات پر عمل کرنے میں بلیک لسٹ ناکام رہا تو وہ عملی طور پر گرے لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا۔سعودی عرب اصل بلیک لسٹ ہونے والی بڑی معشیت تھی جوکہ اب گرے لسٹ میں شامل کیے جانے پر غور کیا جارہا ہے اور سرمایہ کاروں کو اس کے لسٹ میں آنے پر تحفظات ہونگے،یہ معاملات جمعرات کو برسلز میں ہونےو الے ایک اجلاس میں زیر غور لائے گئے،اگر حکومتیں اور یورپی یونین پارلیمنٹ نئے طریقہ کار کے تحت اتفاق کرلیتے ہیں تو نئی لسٹ ستمبر میں لے لی جائے گی۔لیکن ملکوں کو احتیاط کرنا ہوگی اور کچھ اس گرے لسٹ کی مخالفت بھی کریںگے۔نئی بلیک لسٹ میں ایف اے ٹی ایف کے مانیٹر کیے جانے والے تمام ہائی رسک ممالک شامل ہونگے،ایف اے ٹی ایف لسٹ میں حالیہ 14 ممالک شامل ہیں جن میں پاناما،باہماس ایتھوپیا،ایران،پاکستان ،شام،تیونس،یمن اور شمالی کوریا شامل ہیں۔واضح رہے کہ جون میں سعودی عرب مکمل طور پر ایف اے ٹی ایف کا رکن بن چکا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں