Advertisement

لیکچرارز کو اپائنٹمنٹ لیٹر جاری نہ کرنے پر جامعہ کراچی کو نوٹس

July 12, 2019
 

سندھ ہائی کورٹ نے شعبۂ اِبلاغ عامہ میں لیکچرار کے لیے منتخب ہونے والے امیدواروں کو اپائنٹمنٹ لیٹر جاری نہ کرنے پر 16 جولائی کو جامعہ کراچی سے جواب طلب کر تے ہوئے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی، رجسٹرارجامعہ کراچی اور سلیکشن بورڈ کو نوٹس جاری کر دیے۔

2 مئی 2019ء کو مرحوم وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل خان کے زیر صدارت ہونے والے سلیکشن بورڈ میں شعبۂ اِبلاغ عامہ کے لیے 5 لیکچرارز اور 3 اسسٹنٹ پروفیسرز کا انتخاب کیا گیا تھا۔

قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی زیر صدارت ہونے والے 29 جون 2019ء کے سینڈیکیٹ اجلاس میں انہیں ’نل اینڈ وائیڈ‘ قرار دیتے ہوئے دوبارہ سلیکشن بورڈ منعقد کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔

9 جولائی کو سینڈیکیٹ کے اس فیصلے کے خلاف لیکچرار کے لیے منتخب چار امیدواروں نے محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ کی مدعیت میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست نمبر 4597/2019 دائر کی ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ختم کر کے سلیکشن بورڈ کی سفارشات پر عمل درآمد کریں اور انہیں اپائنمنٹ لیٹر جاری کیے جائیں۔

جسٹس شفیع صدیقی نے اس آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اس معاملے پر جامعہ کراچی سے 16جولائی کو جواب طلب کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ4 مئی کو وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر اجمل کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ڈاکٹر خالد عراقی کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کیا گیا جبکہ جامعہ کراچی کے مستقل وائس چانسلر کے لیے اشتہار شائع ہوچکا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں