پٹواری کا تبادلہ

July 19, 2019
 

(اِس موسم میں جب ہر طرف سے عمران خان پر لفظی سنگ باری جاری ہے۔ ایک کالم اُن کے نام)۔

میانوالی کی وہ بہار جو رستے میں روک لی گئی تھی اسے میں نمل نالج سٹی کے رستوں پر رنگ بکھیرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ آج عمران خان کوہستان نمک کی مغربی جانب بارہ ارب روپے کی لاگت سے نمل میڈیکل کالج اور پانچ سو بستروں پر مُشتمل اسپتال کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس منصوبے کیلئے فنڈنگ رافع فائونڈیشن نے فراہم کی ہے۔

دنیا صاحبِ ہمت لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ کہتے ہیں ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔ 92کے ورلڈ کپ میں ہارتے ہارتے جیتنے والا عمران خان اِس وقت پھر اُسی پوزیشن میں ہے مگر وہ صاحبِ ہمت شخص ہے۔ اسے ایک ڈوبتی ہوئی کشتی کا ملاح بنایا گیا ہے۔ پاکستانیوں کے دھڑکتے دل کہتے ہیں وہ ضرور اِس کشتی کو کنارے تک پہنچائے گا چاہے اِس میں اُس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ جس نے ’’حال‘‘ خوبصورت رکھا اس کا ماضی خوبصورت تر اور مستقبل خوبصورت ترین ہوگیا۔ عمران خان کا یہی وصف اُس کے گزشتہ کو تابناک بنائے ہوئے ہے اور اِسی وصف کے سبب اُس کا آئندہ بھی روشن ترین ہو گا۔

چاند کی چاندنی صرف اندھیرے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ عمران خان کی اہمیت کا احساس صرف انہی کو ہے جنہیں خبر ہے کہ ہم ایک سنگین رات میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ تاریکیوں کو کامیابی کی تلوار سے قتل کرتے ہیں اور انہیں اتنی گہرائی میں دفن کرتے ہیں کہ جہاں سے دوبارہ برآمد نہ ہو سکیں۔ ٹیکسوں کے معاملے پر اہلِ زر اُنکے بہت خلاف ہو چکے ہیں حالانکہ وہ تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہم سب پاکستانی ایک روپیہ روزانہ دیں تو روزانہ ایک پاکستانی کروڑ پتی ہو سکتا ہے۔ مایوسی کا تعلق توقع سے ہے۔ جیسے کبھی کبھی عمران خان سے ہونے لگتی ہے مگر یہ ہمارے کمزور یقین کی علامت ہے۔ ہم عمران خان کی آواز پر دھیان نہیں دیتے کہ وہ بے شک بلند نہیں مگر پُریقین اور متناسب ضرور ہے۔ ہر دلیل رکھنے والی آواز ایسی ہی ہوتی ہے۔ کاش ہر پاکستانی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے جیسے عمران خان کو معلوم ہو گیا تھا اور اُس نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ عمران خان درخت لگا رہے ہیں یقیناً ان کا ثمر آتی نسلیں کھائیں گی۔ میں میانوالی جاکر جس درخت تلے بیٹھتا ہوں وہ میرے دادا نے لگایا تھا۔

عمران خان ہر اُس ملک میں گئے جہاں نواز شریف کی فتح پر تالیاں بجتی تھیں یعنی انہوں نے ہم سب سے کہا ہے کہ ان کے پاس ضرور جایا کرو جو تمہاری جیت پر تالیاں نہیں مارتے۔ روپے کا مسلسل نشیب کی طرف جانا عمران خان کے لئے کسی حادثے سے کم نہیں۔ روپیہ پانی تو نہیں کہ نیچے کی طرف جانا اُس کی فطرت میں ہو۔ بے شک خارج کو سمجھنے کے لئے باطن سے رابطہ ضروری ہے جیسے عمران خان اُس وقت وزیراعظم بنے جب تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ بابا فرید کے مزار پر گئے اور اُن کا رابطہ اپنے باطن سے مکمل ہوا مگر کامیابی انہیں اپنے کام کے ساتھ عشق سے ملی۔ اُنہوں نے کرکٹ کھیلی تو اس کے ساتھ عشق کیا۔ رفاہ عامہ کے کام کئے تو پوری لگن کے ساتھ اور تبدیلی کے لئے نکلے تو پورے یقین کےساتھ۔ اللہ انہیں اِس مقصد میں بھی کامیاب فرمائے جس کے لئے اُنہوں نے تمام سہولتیں تج دیں۔ کہتے ہیں سچائی کے لئے سہولت کی قربانی فقر کا پہلا قدم ہے۔ وہ حوصلوں اور ارادوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اُس کوہ پیما کی طرح جو ہر مائونٹ ایورسٹ کو سر کر لیتا ہے۔

تیزی سے امیر ہونے والے لوگ شریف نہیں ہوتے۔ وقت آتا ہے تو انہیں اپنی دولت کا حساب دینا پڑ جاتا ہے مگر پاکستان میں کسی کو بھی اس احتساب کی کوئی امید نہیں تھی۔ عمران خان آئے اور سب کے کھاتے کھلنے لگے۔ بڑے بڑوں سے حساب لیا جانے لگا۔ حکمرانوں کی لمبی ’’لوٹ‘‘ کے سربستہ راز افشا ہونے لگے۔ شریف فیملی اور زرداری فیملی کی بھی باری آ گئی۔ چوہدری برادران کی باری بھی آنے والی ہے۔

آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ مشروط رہی ہے۔ وہاں بھی لوٹ مار کا حساب کتاب شروع ہونے لگا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ وہاں کے ایک اہم وزیر کے اثاثے اربوں روپے کے ہیں۔ہاں یاد آیا اقبال نے کہا تھا ’’کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد‘‘۔ پنجاب کے درمیان میں ایک نیا شہر آباد کرنے کے متعلق بھی سوچا جا رہا ہے۔ جسے پنجاب کا دارالحکومت بنایا جائے تاکہ جنوبی پنجاب صوبہ کا قصہ تمام ہو۔ اس کے لئے تین لاکھ کنال زمین کی تلاش جاری ہے۔ ایک لاکھ کنال پر سرکاری عمارتیں تعمیر ہونگی۔ دو لاکھ کنال لوگوں کو فروخت کردی جائے گی۔ کم از کم ایک کنال کی قیمت دس لاکھ روپے ہو گی۔ دو لاکھ سے دس لاکھ کو ضرب دے کر دیکھ لیں کتنے پیسے بنتے ہیں میری ریاضی خاصی کمزور ہے۔ ویسے یہ آئیڈیا بہت اچھا ہے اس سے لاہور پر جو آبادی کا دبائو بڑھتا جارہا ہے وہ بھی کم ہوگا۔ ٹریفک بھی کنٹرول میں آئے گی اور لاہور ایک ثقافتی شہر کے طور پر دنیا میں نمایاں ہوگا۔

اب دیکھتے ہیں اس نئے دارالحکومت کے متعلق نون لیگ کے ارکانِ اسمبلی کیا فرماتے ہیں۔ ویسے پنجاب اسمبلی میں بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ گھوڑوں کی خرید و فروخت جاری ہے حالانکہ اس کی دیوار پر لکھا ہوا ہے کہ ’’چڑیا گھر سڑک کے دوسری طرف ہے‘‘۔ کوہِ نون کی پہاڑیوں پر ہر دور میں گھوڑے کثرت کے ساتھ موجود رہے ہیں۔ یہ وہی گھوڑے ہیں جو کسی زمانے میں چوہدریوں کے اصطبل میں بندھے ہوتے تھے۔ اب البتہ چوہدریوں کی پوری کوشش ہے کہ کوئی گھوڑا پہاڑیوں سے نکل کر شکارگاہ میں نہ آئے۔ شاید نمبرداری ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ شور برپا ہے کچہری میں کہ نمبردار اور تحصیل دار کے تعلقات میں سرد مہری آخری حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ نمبردار اب ہر کام تھانے دار یعنی بندوق والوں کے توسط سے کرا رہا ہے۔ وگرنہ پٹواری کا تبادلہ کیسے ممکن ہے۔