تنقید اور فکشن کی جمالیات

August 28, 2019
 

ہمارے ہاں تنقید کے باب میں اکثر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ شعر پر تنقید کرنے والے کو شاعر، افسانے اور ناول پر تنقید کرنے والے کو فکشن نگار ہونا چاہیے، ورنہ وہ اس ماحول اور مزاج کو نہیں سمجھ پائے گا،جس نے تخلیق کرنے کی تحریک پیدا کی ۔ ایسا کہنے والے گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کو کسی ایسے مریض کا علاج نہیں کرنا چاہیے جس کامرض اس نے خود نہ بھگتا ہو۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی؟کیا ایسی ہی پابندی آپ ایک تخلیق کار پر بھی لگانا پسند فرمائیں گے ؟ ۔ منٹو کوچوان نہیں تھا ، اس نے ’’نیا قانون ‘‘ میں منگو کو کیسے لکھ دیا؟۔بیدی کو’’ لاجونتی‘‘ کی لاجو کا تجربہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو ایک مرد تھا ۔۔ اور اس کا اغوا بھی نہیں ہوا تھا۔ انتظار حسین نے ’’زرد کتا‘‘ میں لومڑی جیسی ایک چیز کا ذکر کیوں کر دیا جو منہ سے نکلتی تھی اورجسے پائوں تلے جتنا کچلا جاتا وہ بڑی ہو جاتی تھی کہ ایسا تجربہ تو ممکن ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ جو اصول آپ وضع فرما رہے ہیں یہ چلنے اور بِکنے والے نہیں ہیں۔ دیکھیں ،جس طرح ڈاکٹر اور مریض دوالگ وجود ہیں اور اُن کا تجربہ بھی اپنا اپنا ہے ، حالاں کہ دونوں ایک ہی مرض سے معاملہ کر رہے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح تخلیق کار اور فن پارے کو اپنے تئیں تعبیر دینے والا یا اس کی تعیین قدر کرنے والانقاد دونوں کا وظیفہ الگ ہو جاتا ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی معلومات ، علم اور اپنے اپنے لوازمات ہیں۔ ایک ناقد، قدم قدم چلتا ہے ، مگر ایک تخلیق کار کے لیے یہ لازم نہیں ہے کیوں کہ اس کی’ تمنا کا دوسرا قدم‘ کہیں بھی پڑ سکتا ہے ۔ اس کی’ صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث‘ ٹپکتے رہتے ہیں۔ ایک ناقد ان قطروں کو گنتا ہے اور عقب میں جاکر علت اور معلول کا رشتہ قائم کرتے ہوئے نئی معنویت قائم کرتا ہے ۔ ایک اور بات ؛جس طرح ایک عروضی کی بابت یہ فیصلہ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ لازماً اچھا شاعر بھی ہو گا، اسی طرح ایک اچھے شاعر کی بابت یہ گمان باندھ لینا کہ وہ اپنے اشعار کی جامع تعبیر بھی کر پائے گا ایک غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ مستثنیات کی بات الگ ہے مگر اسے کلیہ نہیں بنایا جاسکتا کہ شعر پر بات کرنے والے کو شاعر بھی ہونا چاہیے ۔ یہی بات میں افسانہ نگاری اور افسانے کی تنقید کے حوالے سے بھی کہوں گا۔ فکشن لکھنے والا ایک زندگی نہیں جیتا وہ ایک جسم میں کئی زندگیاں جی رہا ہوتا ہے ۔ وہ جو منشایاد کہتے تھے کہ لکھتے ہوئے وہ اپنے کرداروں کی کھال میں بیٹھ جایا کرتے تھے ، تو بات اس سے بھی آگے بڑھ جایا کرتی ہے ۔لکھنے والا محض کرداروں کی کھال نہیں اوڑھتا ، اپنے وجود کو معطل کرکے اپنے کردار کے وجودکو اس کی روح سمیت اپنی کھال کے اندر کھینچ لایا کرتا ہے ۔ اسے وہیں بسا لیتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے کہ متن احساس کی سطح پر تعمیر ہونے لگتا ہے۔ احساس کی یہ اتھل پتھل زمان و مکان میں اکھاڑ پچھاڑ پیدا کردیتی ہے، یوں جیسے ایک غوطہ خور شفاف پانی کی ہموار سطح کو پھاڑتا، اس میں اتھل پتھل پیدا کرتا ہے تو پانی کے اندر اس کی چشم پر زمین و آسمان کا نظارہ بھی اشرفیوں کی طرح کھنکتی اچھلتی پانی کی بوندوں میں گڈمڈ ہو جاتا ہے۔ ایک پینسل کو بھرے ہوئے گلاس میں ڈبو کر نظارہ کر سکتے ہیں کہ وہ ٹیڑھی ہے حالاں کہ وہ ٹیڑھی نہیں ہوتی یہ پانی ہی ہے جو اس کے وجود میں رخنے کا ایک بھید بھر دیتا ہے ۔ایک تخلیق کارکا تجربہ محض نظارہ کرنے والے یا اس کی سائنسی توجیح کرنے والے کا نہیں ہوتا ،وہ زندگی کو حسی سطح پرجھیل کر ایک متن میں مرتب کرتا ہے ، جس کی اپنی جمالیات بھی مرتب ہو رہی ہوتی ہے ۔ اس میں پانی کی بوندیں اشرفی کی طرح کھنک کر موجود منظر میں اضافہ کرکے ایک نئے منظر میں ڈھال سکتی ہیں۔ایک سیدھے وجود میں رخنہ دکھا سکتی ہیں ۔ اور ہاں یہ جو پانی کی بوند کے اشرفی بن جانے والا خیال ہے ، یہ مجھے یوں ہی نہیں آگیا شاید میرے دھیان میں فیض کی وہ نظم تھی، جو انہوں نے ایرانی طلبا کے نام لکھی تھی:

’’یہ کون سخی ہیں

جن کے لہو کی

اشرفیاں چھن چھن چھن چھن

دھرتی کے پیہم پیاسے

کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں

کشکول کو بھرتی جاتی ہیں۔۔۔‘‘

اب اگر مجوزہ اصول لے کر چلیں تو فیض کا تجربہ لائق اعتنا نہیں رہے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لہو کے قطرے چھن چھن کرتی اشرفی کی صورت دیکھی جا سکیں مگر تخلیق کار یہ دیکھتا ہے اور دِکھا سکتا ہے۔یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تخلیق کا محرک بہت معمولی اور عام سا واقعہ ، خیال یا احساس ہو سکتا ہے، مگر تخلیقی عمل اس کی کیمسٹری بدل دیا کرتاہے،اس لیے کہ تخلیق نہ تو محض وقوعہ یاموضوع رہتی ہے نہ محض انشاپردازی۔ موضوع، مواد اور زبان یہ سب ایک خالص تخلیقی لمحے میں بہم ہو کر ہی فن پارہ بنتے ہیں اور جس تناسب اور ترکیب میں بہم ہوتے ہیں ، انہیں غیر تخلیقی لمحوں میںپھر سے بہم نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر آپ اس کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک تخلیق کار اپنے فن پارے کی درست اور کلی تفہیم سے قاصررہتا ہے اوراکثر تخلیق کے محرک سے ایک تعلق کے سبب اس کی تعبیر بھی محدود ہو جاتی ہے۔ایک ناقد کو بہ ہر حال ایک آزادی ہوتی ہے کہ وہ فن پارے کو فاصلے سے دیکھے ۔ حسن اور بھید ہمیشہ فاصلے کے سبب قائم رہتے ہیں ۔ اور ناقدین، فن پاروں سے کسی جذباتی وابستگی کے بغیر بہتر تفہیم کرلیا کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ماننا ہو گا کہ ایک ناقد ایک فن پارے کی ایک حد تک ہی تحسین کر سکتا ہے ایک عمدہ تخلیق میں ہر تعبیر کے بعد کچھ نہ کچھ پہلو رہ جاتے ہیں جوکسی اورناقدپر ظاہر ہونا ہوتے ہیں یا کسی اور زمانے میں کھلنا ہوتے ہیں ۔ میری اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک ناقد تخلیق کار نہیں ہوسکتا یا ایک تخلیق کار کو تنقید کرنے سے باز رہنا چاہیے ۔ ایک تخلیق کار جب اپنے تخلیقی عمل کاآغاز ہوتے ہی ایک ہیئت کاا نتخاب کر رہا ہوتا ہے یامتن کی حسی تشکیل کرتے ہوئے ایک جمالیات مرتب کر رہا ہوتا ہے تو ایک ناقد بھی اس کے اندر چوکس اپنا فریضہ سر انجام دے رہا ہوتا ہے ۔ یہ ناقد بڑبولا نہیں ہوتا ، اعلان کرکے فکر، مواد، یا ذخیرہ الفاظ پر نہیں جھپٹتا ، چپکے چپکے اپنا کام کرتا اور متن میں تخلیقی بھید بھر دیتا ہے۔ فن پارے کی تکمیل کے بعد جس ناقد سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے وہ اپنے تنقیدی قرینوں کا اعلان کرکے متن کی طرف بڑھتا ہے اور یہیں سے دونوں الگ ہو جاتے ہیں۔ یہیں ایک اورسوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا کوئی افسانہ یا ناول کسی فلسفے کی تعبیر کے لیے نہیں ہوتا۔جواب یہ ہے کہ :’’ نہیں، بالکل نہیں‘‘۔ مگر یوں صاف صاف نفی میں جواب اس مسئلے کو اور الجھا دیتا ہے ۔دیکھیے ایک مچھلی پر آپ کیسے قدغن لگا سکتے ہیں کہ وہ پانی میں تیرتی رہے مگر گیلی نہ ہو ۔ فکریات میں رچے بسے آدمی کی تخلیقات سے اس کی فکریات کا چھلک پڑنا خلاف واقعہ نہیں ہے ۔ تاہم میرا اس بات پرایمان ہے کہ ادب کی روایت انسان دوستی کی روایت ہے ۔ اس کا مطالعہ کسی بھی فلسفے کی روشنی میں یا کسی نظریے اور فکر کے حوالے سے کیا توجا سکتا ہے مگر تخلیقی عمل میں فکریات کا شعوری التزام فن پارے کو ناقص، اُتھلا اور محدود بنا دِیتا ہے ۔جب میں انسان دوستی کی بات کرتا ہوں تو کسی خاص فکر کے زیر اثر ایسا نہیں کرتا ، کیوں کہ میںسمجھتا ہوں کہ یہ متنوع اور متصادم نظریات کا وہ عطر ہے جس کی مہک سب کو آتی ہے ۔ جب ہم نظریات کی زمین پر قدم رکھتے ہیں توساتھ ہی اس یقین کی زمین پر بھی قدم رکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم ہی درست ہیں ۔ نظریات ہمیشہ تضاد کی فضا میں پروان چڑھتے ہیں ۔ دوسروں کی فکریات کی نفی کے بغیر آپ کا اپنا دعویٰ مکمل نہیں ہو پاتا ۔ اگر تجزیہ کرنے بیٹھیں تو اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ لگ بھگ سب نظریات انسان اور انسانیت کی فلاح اور سلامتی کو یقینی بنانے کے دعوے پر بنیاد کرتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے سب کی منزل ایک ہے مگر ہرایک کا راستہ جدا ہے ۔کہہ لیجئے کہ نظریات اور فکریات سے وابستگی منزل سے وابستگی نہیں بلکہ ان راستوں سے وابستگی ہے جو فکریات نے اپنے تئیں بنائے ہوتے ہیں۔ لکھنے والے کا تخیل جتنا ہرا بھرا ہوگا، اتنا ہی وہ اِنسانی نفسیات کے قریب ترین صورت حال کو گرفت میں لے لینے پر قادر ہو گااور پڑھنے والا بہ قول غالب یہ محسوس کرے گا’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔ متخیلہ کے عقب میں مطالعہ اور مشاہدہ بھی کام کر رہا ہوتاہے ۔افسانہ لکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو آپ لکھ رہے ہوں ، ویسا ہی عین مین آپ کے مشاہدے میں آیا ہو ، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا ہونا ممکن ہونا چاہیے تو اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ ایسا طبعی صورت میں ہوتا نظر آئے یا آ سکتا ہو، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ احساس اور خیال کی سطح پر اسے ہوتا دیکھ رہے ہوں ۔یادرہے ایک افسانہ نگار کو زبان کا تخیلی اور حساس ترین سطح پر تخلیقی اظہار کرنا ہوتا ہے اور اسی سے وہ اپنے قاری کی متخیلہ کو تحریک دِے کر ایک حقیقت کا تماشا اس کے سامنے سجا دِیتا ہے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں فکشن لکھتا ہوں اور وہ سچ ہو جاتا ہے، تو اس کامطلب بھی یہی ہے کہ جتنا ہرا بھرا تخیل ہو گا اتنا ہی وہ اس حقیقت کے قریب تر ین ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کو ایک نہج پر ڈالتی ہے۔جی ،حقیقت نہیں حقیقت کا تماشا۔ یہاں مجھے غالب کی ایک معروف غزل کا مطلع یاد آگیا ہے:

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

جی ، یہ دنیا، یہ زندگی، وہ جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر نہیں دیکھنا چاہتے مگر دیکھتے ہیں، سب ایک تماشاہی تو ہے اور ہم اس تماشے میں ایک پتلی کی طرح ہیں ۔ ایک افسانہ نگار کے لیے حقیقت کا تصور (چاہے وہ دیکھی بھالی ہو یا ان دیکھی ) ، اس حقیقت سے انسانی سطح پر وابستہ ہونے کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔ محض بے جان پتلی ہو کر نہیں، ایک جیتا جاگتا زندہ وجود مگر پتلی۔ ہر شخص اپنے اپنے تجربے کا قیدی ہوتا ہے مگر ایک عمدہ ناقد اس قید خانے یا پنجرے کو توڑنے کی استطاعت رکھتا ہے۔لیکن کیا سب انسان ایک سے ہوتے ہیں ؟ سب کی پسند ناپسند ایک سی ہوتی ہے؟، سب نے زندگی کو ایک انداز میں برتا ہوتاہے؟ ۔ جب ہر ایک کا تجربہ اور ذوق الگ الگ ہے تو کسی فن پارے کی بابت ایک رائے کیسے ہو سکتی ہے ؟ تنقید میں مثبت اور منفی کا ادل بدل ہمارے ہاں سفاک ہونے کی حد تک ہونے لگا ہے ۔ ادب میں یہ انتہا پسندی یا محض ذوقی رائے نہیں چلتی ایک فن پارے کو جانچنے کے کئی قرینے ہیں۔ کہانی کیا ہے، پلاٹ کیسا ہے؟ پلاٹ ہے بھی یا نہیں ؟کہانی علامت بنی ہے یا محض ایک واقعہ ہو کر رہ گئی ہے؟،جس تیکنیک کو برتا گیا ہے کیا اس میں کہانی اپنا تخلیقی جو ہر دکھا رہی ہے؟ایک ناقد کے پاس توکہنے کو بہت کچھ ہوتاہے ہر ناقد اپنے مطالعے، مزاج اور فکری فنی رویوں کی روشنی میں فن پارے کا متن دیکھتا ہے اور اپنے تئیں فیصلے کرتا ہے جو محض منفی یا مثبت نہیں ہوتے ، کئی سطحوں پر تعبیری اورفنی سطح پرتعیین قدر کے باب میں ہوتے ہیں ۔ وارث علوی نے کہیں لکھا تھا کہ’’تعبیر ایک خود سر ‘ خود پسندمغرور حسینہ ہے۔‘‘ اور درست لکھا تھا، کیوں کہ ایک عمدہ فن پارہ ایک پرت والا نہیں ہوتا ،محض معنی اور مفہوم کی سطح پر نہیں اپنی مرتبہ جمالیات کے حوالے سے بھی ۔ جمالیات کے اپنے اصول ہیں ۔ ایک ناقد کو وہ قرینہ تلاشنا اور تراشنا ہوتا ہے جو مہین پردے کی طرح فن پارے کی جمالیات قائم کر رہا ہوتا ہے ۔یہ سب فیصلے جس سطح کی سنجیدگی اور جس قسم کا سلجھا ہوا ذہن مانگتے ہیں وہ محض کسی فن پارے کو’’ اعلی‘‘ یا ’’گھٹیا‘‘ قرار دے کر مطمئن ہونے والا نہیں ہو سکتا۔