کشمیر.... ماضی، حال، مستقبل

February 28, 2021

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:محمد رفیق مانگٹ

کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی شروع دن سے ہی کوئی جامع پالیسی نہیں رہی،قبائلیوں کے بھیجے جانے پر بھارت کو مداخلت کی راہ ملی ،آزادکشمیرکے انتخابات ہونے والے ہیںتو وزیر اعظم نے قوم پرست عناصر کو دھوکا دینے کے لئے پتہ کھیلا ہے،شیخ عبداللہ یا محبوبہ مفتی جیسے رہنما پاکستان کی طرف دیکھ رہے تھے توپاکستان نے ان کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

سردار محمد اشرف خان
سیاسی و معاشی تجزیہ کار

پاکستان کشمیر کے معاملے میں بھارتی پالیسی کی پیروی کرتا رہا ،پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سفارت کاروں یا حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا،وادی کے لوگ پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں، جب بھی وہاں کوئی شہید ہوتا ہے تو وہ پاکستانی پرچم میں دفن کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اگر جموں و کشمیر کا کوئی حل ہے تو وہ بین الاقوامی ثالثی یا طاقت سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ اس میں امریکا،چین برطانیہ،روس سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں بھارت پردباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیر کو خصوصی مقام دیں،بیرونی دنیا میں مقیم کشمیری کسی تحریک کے ذریعے اس کا حل نکال لیں تو ممکن ہے مگر پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی حل نکال سکے

سردار اشرف خان

13 جولائی 1931 شہداء کشمیر کی عظیم قربانیوں کا نقطہء آغاز اور تحریک آزادی کشمیر کی خونی تاریخ کا باب اول تھا اور آج کل مقبوضہ جمو ںکشمیر کے مجاہدین ، غازی اور شہداء اس تاریخ کا آخری باب رقم کررہے ہیں۔

سردار مقبول الزماں
چیئرمین،کشمیر فورم، انٹرنیشنل

مودی سرکار جب سے بھارت پر مسلط ہوئی ہے اس نے سابقہ تمام حکومتوں کے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ 5اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل نمبر 370اور 35۔اے کو غیر موثر کرکے کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر نہ ختم ہونے والا لاک ڈائون نافذ کردیا ،مقبوضہ جموں کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے،ان مذاکرات میں ہر سطح کی کشمیری قیادت کو بنیادی فریق کے طور پر لازمی شریک کیا جائے اور مذاکرات سے قبل کشمیریوں پر نا فذ لاک ڈائون اور دیگر تمام غیر آئینی پابندیاں ختم کی جائیں اور تحریک آزادی کشمیر کے تمام رہنمائوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے ،سال بھر میں ایک یا دوبار کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا

سردار مقبول الزماں

سردار بابر عباسی
صدر،کشمیر وائس

اگر دنیا کو امن کی خواہش ہے تو اسے مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداتوں کے مطابق حل کرنا ہوگا،پاکستان اور مسلم ممالک بھارت پر زور دیں کہ وہ انسانی حقو ق سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کر نے کے ساتھ ساتھ اقوام متحد ہ کی قرار داوں کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی بھی تکمیل کر ے، پاکستان کو ان مظالم پر خا موش نہیں رہنا چاہیے،سفارتی محاذ پر عالمی روابط اور عالمی ادارو ں و تنظیموں میں کشمیر یوں کے حق خو دارادیت کے لیے آواز بلند کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم ، انسانی حقو ق کی بد ترین خلا ف وزریوں اور درند گی پر مبنی اقداما ت کو عالمی برادری کے سامنے لانے کے لیے کشمیر ی عوام کی ہر سطح پر مدد و رہنمائی کرے،حکومت کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی امن وا مان کی صورتحال کو مثالی بنا نے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر میں امن ،آزادی اور تحفظ کے مثالی ماحول کو دنیا کے سامنے ایسی مثال کے طور پیش کیا جا نا چاہیے جو بھارتی سفاکیت کا پول کھولنے میں مدد گار ثابت ہو

سردار بابر عباسی

آزادی کے بعد سے ہی یہ نعرہ کانوں میں گونج رہا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور یہ کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیریوں کی مدد اور انہیں پاکستانی قرار دینے کا دعوا بھی کرتے ہیں، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ آج کشمیر کو بھارت نے اپنا حصہ قرار دے کر اپنے نقشے میں شامل کر دیا ہے، آج یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس شہہ رگ کی ہم کتنی حفاظت کر پائے ہیں؟ کیا کشمیر کبھی پاکستان کا حصہ بن سکے گا، عالمی اداروں اور قوتوں کا اس مسئلے کے حل میں کیا کردار ہے، خود پاکستان نے کشمیر کے حصول کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں، پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے کتنی مؤثر ہے؟ اور کیا ہونی چاہیے؟ یہ سب جاننے کے لئے کشمیر بنے گا پاکستان، کب اور کیسے؟ کے موضوع پر جنگ فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں سرداد محمد اشرف خان (سیاسی و معاشی تجزیہ کار) سردار مقبول الزماں (چیئرمین، کشمیر فورم، انٹرنیشنل)اور بابر عباسی (صدر، کشمیر وائس) نے اظہارِ خیال کیا، ٹیلی فونک فورم کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔

سردار محمد اشرف خان

سیاسی و معاشی تجزیہ کار

میں اپنی بات کا آغاز عمران خان کے کوٹھی میں اپنے کارکنوں سے خطاب سے کرنا چاہتا ہوں جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب میں کشمیریوں کو پیش کش کی کہ پہلے آپ پاکستان سے الحاق کرلیں اس کے بعد پھر ہم آپ کو موقع دیں گے کہ آپ پاکستان کے ساتھ رہیں یا نہ رہیں۔ در اصل یہ ایک بے سروپا سی بات ہے ۔ افسوس ناک بات کہ کشمیریوں کے ساتھ ایک طرح کا مذاق بلکہ بدترین مذاق ہے کیونکہ عمران خان کو بھی پتہ ہے اور حکومت پاکستان کو بھی کہ نہ تو رائے شماری اور نہ استصواب رائے ہونا ہے اور نہ کشمیریوں کی اکثریت نے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ رائے شماری والی قراردادہندوستان کے کہنے پر پاس ہوئی تھی۔ہندوستان نے کبھی بھی اس پر عمل داری کی کوشش نہیں کی بلکہ اقوام متحدہ کے جتنے بھی مشن بنے ان سب کی یہ متفقہ رائے ہے کہ ہندوستان کبھی بھی رائے شماری کے معاملے میں سنجیدہ نہیں تھا بلکہ اس نے امریکا کا نمائندہ جوکہ کمیشن کا چیئر مین تھا اسے کہا تھا کہ میں اس معاملے کو خود حل کرلوں گا آپ اس میں مداخلت نہ کرو،اس کمیشن میں اقوام متحدہ اور سپر پاورز کے لوگ تھے۔

لہذا عمران خان کا یہ بیان تو ہے ہی ایک مذاق۔ دوسری بات کہ جب پاکستان اپنا بنیادی کمنٹ منٹ کشمیریوں کے ساتھ نبھانے میں ناکام ہوا ، جیسا کہ پاکستان نے پا نچ اگست کے بھارتی ایکشن کو نہ صرف ہونے دیا بلکہ بعض لوگ کہتے ہے کہ پاکستا ن کو اس کا پوری طرح سے علم تھا اور اس کا فیصلہ وزیر اعظم کے امریکی دورے کے دوران ہی ہوگیا تھا اور کچھ حلقوں کے نزدیک یہ بات طے ہوئی تھی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جو بھی کرنا چاہتا ہے،اسے کرنے دیا جائے لہذا پاکستان کی طرف سے کوئی بڑا ردعمل نہیں آئے گااور آ نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔ اب کیونکہ الیکشن کا وقت ہے اس وقت آزاد کشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے قوم پرست عناصر کے جذبات میں کافی ہیجان ہے تو ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک دہوکا دینے والا بیان دینے کی کوشش کی ہے جس کی کوئی حیثیت بھی نہیں جب کہ وزارت خارجہ نے دوسرے دن ہی اس بیان کی تردید بھی کردی اور کہا کہ پاکستان کا یہ موقف نہیں ہے۔

اہم بات تو یہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی شروع دن سے ہی کوئی جامع پالیسی نہیں رہی ۔1948میں قبائیلیوں کو بھیجا جانا خود دپاکستان کی اس پالیسی کا مظہرتھا کہ جب پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ نے جناح صاحب کے کہنے پر فوجی مداخلت کرنے سے انکار کردیا تھا تواس کے بعد قبائلیوں کا بھیجنا کوئی فائدہ مند فیصلہ نہیں تھا۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے یہ علاقے پہلے ہی آزاد ہو چکے تھے یعنی آزاد کشمیر،مظفر آباد، میر پور ،پونچھ کے جو علاقے اس وقت پاکستان میں ہیں آزاد کشمیر کے نام جانے جاتے ہیں یہ پہلے ہی آزاد ہوچکے تھے ۔قبائلیوں کے بھیجے جانے پر بھارت کو مداخلت کی راہ ملی اس نے کشمیر پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ کشمیر میں فوج بھیجی، اور فوج کشی کے نتیجے میں قبائل بھی بہت بری طرح پسپا ہوئے۔

اگرچہ وہ سری نگر تک پہنچے تھے،مگر انہوں نے وہاں کوئی جنگ نہیں لڑی تھی، بلکہ کشمیریوں کو کسی نے اعتماد میں لیا ہوا نہیں تھا۔1948میں کشمیری جذبات پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن ایک غلط بات کو ثابت کرنے کے لئے لوگ جھوٹی باتیں بھی کرتے ہیں اور وعدے بھی کرتے ہیں ۔یہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے کہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر مقامی لوگوں نے آزاد کرائے۔اس میں نہ تو پاکستان کی مسلح افواج کا کوئی حصہ تھا اور نہ ہی پاکستان کے قبائلیوں کاکوئی حصہ تھا، اب جب کہ آزادکشمیرکے انتخابات ہونے والے ہیں تو وزیر اعظم نے قوم پرست عناصر کو دھوکا دینے کے لئے پتہ کھیلا ہے، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ پاکستان کی پالیسی کا اس سے اندازہ کریں کہ کشمیر وادی کی اصل لیڈر شپ شیخ عبداللہ،محبوبہ مفتی یا حریت کانفرنس اور دوسرے لوگوں سے اس حکومت نے ایک عرصے سے رابطہ ہی ختم کردیا ہے جب شیخ عبداللہ یا محبوبہ مفتی جیسے رہنما پاکستان کی طرف دیکھ رہے تھے توپاکستان نے ان کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔اب معلوم نہیں کہ وادی سے کس طرح کاردعمل آتا ہے۔

بھارت نے کشمیر کی خصوصی احیثیت کے حامل سیکشن 370کو ختم کیا، تو عرض ہے کہ یہ شق تو پہلے ہی غیر موثر کی جاچکی تھی ، اس میں تو کچھ بھی نہیں تھا سوائے کشمیر کی اسمبلی کی منظوری کے بغیر وفاق سے کوئی قانون پاس نہیں ہوگا۔35اے جائیداد کی خریداری کے حقوق تھے جو انہوں نے ختم کردیئے جب کہ پاکستان تو اس حق کوگلگت بلتستان میں بہت پہلے ہی نافذ کرچکا ہے۔پاکستان کشمیر کے معاملے میں بھارتی پالیسی کی پیروی کرتا رہا یہ بات تلخ ہے لیکن سچ یہی ہے۔

جوبائیڈن کے آنے سے جمہوریت اور انسانی حقوق کے رویے کے حوالے سے جہاں تک بات ہے کہ ان کے آنے سے کشمیر پر کوئی فرق پڑ ے گا۔ تویہ درست ہے کہ کشمیر کے معاملے میں امریکا کا ہمیشہ سے نرم رویہ رہا ہے اورخاص طور پر کشمیریوں کے ساتھ، جب کہ امریکا اس حوالے سے پاکستان کے موقف کو بہت حد تک اسپورٹ کرتا رہاہے۔اب حالات بہت بدل چکے ہیں،بائیڈن انتظامیہ کشمیر کے بارے میں اگر کوئی بات کرے گا جیسا کہ نیویارک کی اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی تو صرف انسانی حقوق کی بات کرے گا۔ کشمیری جو امریکا یا دیگر ممالک میں ہیںوہ کافی متحرک ہیں۔ ان کی لابنگ اور اثرورسوخ سے اور اس کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کے متحرک ہونے سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کتنا اثر ہوگا۔

لیکن اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ امریکی انتظامیہ بھارت کے ساتھ اسٹریٹجیک پارٹنرشپ بنانے جا رہی ہے ۔میں نہیں سمجھتا کہ امریکا کی طرف سے کشمیریوں کے لئے کوئی بڑا کام ہو، آزادی یا رائے شماری کے حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی آئے۔ٹرمپ نے جو کیا وہ ایک دہوکا تھا ،پاکستان کی حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کا اپنا مفاد بھی یہی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہمارے پاس رہ جائیں، کشمیری جانیں یا ہندوستان جانے۔ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ زبانی جمع خرچ کرتے رہیں گے، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سالوں سے جیل میں پڑے ہیں۔ انسانی حقوق کی اس سے بڑی خلاف ورزی کیا ہوگی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سفارت کاروں یا حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑوں گا،تو انہوں نے اب تک کیا کیا۔

جہاں تک کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کا تعلق ہے تو یہ سردار قیوم اور چوہدری غلام عباس کی ایجاد ہے جس کا مقصد پاکستان کی اسٹیبشلمنٹ کو خوش کرنا تھا ، ان کی گڈ بک میں رہنے کے لیے انہوں نے نعرہ لگایا۔ کشمیر کیسے بنے گا پاکستان۔ اگر62میں پاکستان ملٹری ایکشن کرتا تو ضروراس وقت ہوسکتا تھا،نعرے میں کوئی حقیقت نہیں،پاکستان کی کشمیر سے دلچسپی نہ تھی نہ ہے۔ ان کی دلچسپی صرف آزادکشمیر ،گلگت بلتستان کی حد تک تھی، اس لئے ہماری ساری دوڑ دھوپ اس کے گرد گھوم رہی ہے کبھی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی بات ہو رہی ہے کبھی آزادکشمیر کو پاکستان کے مختلف اضلاع کے ساتھ ضم کرنے کی بات ہو رہی ہے، اسی طرح کشمیریوں کے ساتھ بلی چو ہے کا کھیل کھیلاجارہا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں کے دوران بھی کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔ اب کشمیر بنے گا پاکستان ،کب بنے گا اور رکون بنائے گا۔ یہ درست ہے کہ وادی کے لوگ پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں، جب بھی وہاں کوئی شہید ہوتا ہے تو وہ پاکستانی پرچم میں دفن کرتے ہیں یہ ان کی پاکستان سے محبت اور عقیدت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر جموں و کشمیر کا کوئی حل ہے تو وہ بین الاقوامی ثالثی یا طاقت سے ہی حل ہوسکتا ہے۔

اس میں امریکا،چین برطانیہ،روس سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں بھارت پردباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیر کو خصوصی مقام دیں، کشمیر کی قیادت یہ چاہتی ہے کہ وہ پاکستان یابھارت کا صوبہ بننے کی بجائے انہیںخودمختار احیثیت دی جائے۔وہ 1948سے پہلے والی احیثیت چاہتے ہیں مہاراجہ کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی یہی بات ہے کشمیر کے دفاعی اور خارجہ امور بھارت کے پاس ہوں گے باقی سار ے معاملات تجارت، انفراسٹرکچر، کمیونی کیشن وغیر پاکستان کے حوالے ہوں گے۔ پاکستان کشمیر یوں کے لیے اکنامک کوریڈور ہے۔ اب وہ معاہدہ ماضی کا حصہ ہے اب کیا ہوگا یہ تو کشمیریوں پر ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ وادی کی قیادت،تنظیمیں اور بیرونی دنیا میں مقیم کشمیری کسی تحریک کے ذریعے اس کا حل نکال لیں تو ممکن ہے مگر پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی حل نکال سکے۔

سردار مقبول الزماں

چیئرمین،کشمیر فورم ،انٹرنیشنل

وادیِ کشمیر کی تاریخ لازوال اور بے مثال قربانیاں اپنے اوراق میں سیمٹے ہوئے ہے جس کا آغاز 13جولائی 1931کو اس وقت ہوا تھا جب سرینگر میں جیلا کے باہر عبدالقدیر شہید کے مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے جمع ہونے والے کشمیری مسلمانوں نے نماز ظہر کے وقت اذان دینے کے لیے اپنے ایک ساتھی کو کہا تھا اس نے جیسے ہی اللہ اکبر کی صدا بلند کی ڈوگر ہ فوج کے سپاہیوں نے فائر نگ کرکے اُسے شہید کردیا۔ اس کے بعد اذان مکمل ہونے تک یکے بعد دیگر ے 22کشمیری مسلمانوں نے شہید ہو کر اذان مکمل کی ،شہدا کشمیر کی یہ ایک ایسی منفرد اور عظیم مثال ہے کہ دنیا بھر میں جاری آزادی اور مزاحمتی تحریکوں میں اس کی نظیرنہیں ملتی۔

13 جولائی 1931 شہداء کشمیر کی عظیم قربانیوں کا نقطہء آغاز اور تحریک آزادی کشمیر کی خون چکاں تاریخ کا باب اول تھا اور آج کل مقبوضہ جمو ںکشمیر کے مجاہدین، غازی اور شہداء اس تاریخ کا آخری باب رقم کررہے ہیں۔ انشاء اللہ اب جلد ہی کشمیر آزاد ہوگا لیکن اہلیان کشمیر کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ پاکستا ن سمیت پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو اپنی کوششیں اور کاوشیں بڑھانی ہوں گی اور جس طرح امریکا کے ایماء پر اقوام متحدہ نے انڈونیشیا ء پر دبائو بڑھاکر عیسائی اکثریتی علاقے مشرقی تیمور کو گزشتہ دہائی میں آزاد کروالیا تھا، اسی طرح کم از کم مسلم ممالک اور او آئی سی کو اقوام متحدہ اور ہندو ستان پر اپنا دبائو ہر سطح پر بڑھانا چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو گزشتہ صدی کے آغاز سے لے کر آج تک دی گئی لاکھوں قربانیاں رائیگاں ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ موجودہ ہندوتواکے فلسفے پر عمل پیرا مودی سرکار جب سے بھارت پر مسلط ہوئی ہے اس نے سابقہ تمام حکومتوں کے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

5اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل نمبر 370اور 35۔اے کو غیر موثر کرکے کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر نہ ختم ہونے والا لاک ڈائون نافذ کردیا اور آج مقبوضہ وادی کے کشمیر ی 9لاکھ سے زائد موجود بھارتی سامراج کی فوج کے سنگینوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ جہاں پر معصوم و مجبور مقہورو و مقید کشمیریوں ہر رو ز ظلم وجبر کے تاز یانے برداشت کررہے ہیں ۔مودی سامراج نے تمام کشمیری قیادت کو بھی مختلف جیلوں میں مقید کرکے ظالم عفریت کے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔80لاکھ سے زائد معصوم و بے بس کشمیری گھروں میں جبری قید ہیں جبکہ 17ہزار سے زائد نوجوان کشمیریوں کو گھروں سے اُٹھا کرMissing persons میں ڈالادیا گیا ہے ۔

ہزاروں کشمیریوں کو بیگار کیمپوں میں سزا کے طور پر رکھا ہوا ہے بچے اسکولوں سے جبکہ بزرگ و معذور افراد تک علاج و معالجے کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 90کی دہائی کے آغاز سے لے کر 2020کے اختتام تک بھارتی سفاک درندے فوجیوں نے ایک لاکھ 1192کشمیروں کو شہد کیا ۔17ہزار 900خواتین کی بے حرمتی کی گئی ایک لاکھ 20ہزار آٹھ سو بچے یتیم ہوئے 2لاکھ سے زائد املاک تباہ ہوئیں اور اسرائیل و دیگر یورپی ممالک سے درآمد شدہ پلیٹ گنوں سے ہزاروں بچے بوڑھے اور جوان کشمیری اندھے ہوگئے لیکن پھر بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کیا جاسکا اور ان سے بڑھ کر بھی اگر ظلم کئے جائینگے تب بھی جذبہ آزادی ختم نہیں کیا جاس کے گا۔ آج بھی ہر روز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کے قتل و غارت کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے اور مظلوم کشمیری گزشتہ 74 سالوں سے دنیا بھر میں آواز اٹھاس رہے ہیں مگر ان کی آواز صدا بصحر ا ثابت ہورہی ہے ۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جانوروں کی ہلاکتوں پر تو شور مچاتی ہیں اور دنیا بھر میں آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہیں مگر ان کو مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ مظلوم کشمیری نظر نہیں آتے جنہیں ظالم مودی سرکار نے 9لاکھ مسلح فوجیوں کے حصار میں دے رکھا ہے عالمی برادری کا ضمیر بھی سویا ہوا ہے جو صرف غیر مسلم کے قتل پر جاگتا ہے،اگر کسی کو دنیا میں فکر نہیں تو کشمیر کے جلتے چناروں کی فکر نہیں جہا ں پر ہر روز بہتے لہو، کٹتے سروں بھوک و پیاس سے بلبلاتے اور تڑپتے ، مرتے معصوم بچوں کی فکر نہیں، عالمی برادری کا یہ کیا برتائو اور سلو ک ہے کہ وہ کشمیر میں بہتے ٹھنڈے چشموں اور گنگناتی آبشاروں کے بجائے لہو کی بہتی ندیاں دیکھنا چاہتی ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری آج بھارت میں بھارتی کسانوں اور سکھوں کے حقوق کے حصول کے لیے چلائی جانے والی تحریک کو تو حق پر سمجھتی ہے لیکن معصوم و مظلوم کشمیریوں کے جائز حقوق اور ان پر پون صدی سے ہونے والے درد ناک مظالم نظر نہیں آتے جبکہ کشمیر ،ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے جو بپھرے ہوئے آگ کے سمندر کی مانند ہے جس میں نہ صرف کشمیری بلکہ پاک وہند کے عوام بھی جل کر خاکستر ہوسکتے ہیں اور یہ آگ مزید پھیل کر ا قوام عالم کے امن کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے چناچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر جلد از جلد ایسے ٹھوس اور دیرپا اقدامات عمل میں لائے جائیں جن کے باعث مسئلہ کشمیر جلد از جلد حل ہوسکے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق استصواب رائے(حق خود ارادیت) دیا اس کے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے جنوری 1948سے لے کر اب تک کم وبیش ایسی 18 قراردادیں مختلف اوقات میں اقوام متحدہ کے فورم پر منظور کی جاچکی ہیں جوسب مقبوضہ جموں و کشمیر کے باسیوں اور باشندوں کو ان کا حق خود ارادیت تفویض کرتی ہیں جبکہ کشمیریوں کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں اسی طرح گزشتہ 74سالوں کے دوران مختلف سطحوں پر پاک و ہند مذاکرات بھی متعدد بار ہوچکے ہیں مگر سب بے نتیجہ ثابت ہوئے تاہم اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ فریقین کے مابین خواہ کتنی ہی جنگیں کیوں نہ ہو جائیں پھر بھی انہیں مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہوتا ہے لہٰذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دو طرفہ مذاکرا ت ایک بار پھر شروع کیے جائیں ۔

تاہم ان مذاکرات میں ہر سطح کی کشمیری قیادت کو بنیادی فریق کے طور پر لازمی شریک کیا جائے اور مذاکرات سے قبل کشمیریوں پر نا فذ لاک ڈائون اور دیگر تمام غیر آئینی پابندیاں ختم کی جائیں اور تحریک آزادی کشمیر کے تمام رہنمائوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور یہ بھی واضح رہے کہ سال بھر میں ایک یا دوبار کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ۔ یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں ہے ہمیں مسلسل جدوجہد کرنا ہوگی اور ہر فورم پر پوری قوت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو اُٹھانا ہوگا حال ہی میں کچھ اتنا اطمینان ضرور ہوا ہے کہ تحریک کے ثمرات اب دیا ر غیر میں بھی محسو س کیے جانے لگے ہیں۔

اب مر دہ عالمی ضمیر نے کچھ ذراسی انگڑائی تو لی ہے ،حال ہی میں اس سال کے آغا ز ہی سے کچھ عالمی سطح کی قوتوں کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول ہوئی ہے چنانچہ گزشتہ دنوں 5 فرو ری کو منائے جا نے والے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ میں بھی بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی اور کشمیریوں کے حق میں قرار دادیں منظور کی گئیں۔ اس بار او آئی سی (OIC) نے بھی کشمیر یوں کی حمایت میں کچھ تیزی اور غیرت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ نیو یارک کی ریاستی اسمبلی نے یو م کشمیر امریکا میں منا نے کی قرار دادا منظور کی اور یہ اعلان کیا کہ امریکا میں ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گاجبکہ اسلامی ممالک میں آذر بائیجا ن بھی بھارتی دہشت گردی کے خلا ف کشمیریوں کا ترجمان بن کر سامنے آیا ہے۔

سردار بابر عباسی

صدر، کشمیر وائس

دنیا بھر میں مقبوضہ جموں و کشمیر وہ واحد خطہ ہے جہاں ایک کروڑ کے قریب افراد کو قید کر کے رکھا گیا ہے یعنی اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑ ا قید خانہ ہے حقیقت میں گزشتہ 74 سالوں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی عوام پر ہر سطح پر ظلم روا رکھا ہوا ہے ۔ حریت و آزادی کے متوالے لاکھوں سر وں کی فصل کٹوا چکے ہیں لیکن ابھی تک آزادی و خودمختاری ان کے نصیب میں نہیں ہے۔

اس کی وجہ عالمی برادری کی بے حسی کے ساتھ ساتھ خود عالم اسلام کی بھی مسئلہ کشمیر سے عد م توجہی ہے ۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مسلہ کشمیرکے حل میں جس سست روی سے کام لے رہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ کچھ اور عوامل کارفرما ہیں ۔لیکن عالمی برادری کو سمجھنا ہوگا کہ تنازع کشمیر کی سنگینی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس نے عالمی امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔

اگر دنیا کو امن کی خواہش ہے تو اسے مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداتوں کے مطابق حل کرنا ہوگا،اور ضدو ہٹ دھرمی کی حد تک طاقت کے نشے میں مبتلا بھارت کو لگام دینا ہوگی جس کی ظالمانہ اور سفاکانہ روش اب تک لاکھوں کشمیریوں کو نگل چکی ہے۔ مہذ ب دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ اور باخبر ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر طا قت کے بل بو تے پر قبضہ جما رکھا ہے۔ وادی کے عوام74 سالوںسے انتہائی پر امن طریقے سے یہ مطالبہ کیے جارہے ہیں کہ ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کر نے کا حق دیا جائے۔ اس مطالبے کی بنیاد خود بھارتی حکومت کا وہ وعد ہ ہے جو اس نے اقوام متحدہ میں کیا تھا۔

جب کہ خود اس عالمی ادارے نے اپنی منظور کی گئی قرار دادوں میں یہ یقین دہانی کر ا رکھی ہے کہ مقبوضہ ریا ست جموں و کشمیر کے عوام کو حق خو د ارادیت دیا جائے گا۔ بین الاقوامی حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ کار خوب جانتے ہیں کہ دو ایٹمی طاقتوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایسا حل طلب مسئلہ ہے جس کے با عث کئی بار با قا عدہ جنگ کی نوبت آچکی ہے جبکہ سرحد ی خلا ف ورزیوں اور فائرنگ کے واقعا ت کا کوئی شمار ہی نہیں مقبوضہ وادی میں بھارت کے ظلم و ستم اور جبر و تشد کا سلسلہ لا متناہی ہے اس پر مستزاد یہ کہ بین الا قوامی میڈیا، انسانی حقو ق کے ادارے اور غیر جا نبدار مبصرین کو مقبوضہ وادی میں داخلے کی اجا زت نہیں دی جاتی۔ اسی سبب بجا طور پر یہ تسلیم کیا جا تا ہے کہ مقبوضہ ریاست نے عملی طور پر ’’بھارتی چھائونی‘‘ کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔

جس طرح بھارتی استبداد کو ئی نئی بات نہیں، اسی طرح یہاں کے حریت پسند عوام کی تحریک آزادی اور بھارتی و ریاستی حکومت کے خلاف ان کا احتجاج بھی کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ ظالما نہ حربوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، پاکستان اور مسلم ممالک بھارت پر زور دے کہ وہ انسانی حقو ق سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کر نے کے ساتھ ساتھ اقوام متحد ہ کی قرار داوں کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی بھی تکمیل کر ے۔ کشمیر میں بھارتی حکومت کے سفاکانہ اقداما ت انسانی حقو ق کی خلاف ورزی ہیں بھارتی ہتھکنڈے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کر سکتے، حق خو داردیت کشمیر یوں کا حق ہے۔

بھارت نے طویل عرصے سے حریت رہنمائوں کو قید و نظربند کیا ہوا ہے جس پر پاکستان کوشدید تحفظات ہیں۔عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑتے ہوئے بھارت کو باور کرائے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ رائے شماری سے ممکن ہے۔لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جنونی بھارت پر امن مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں بر سارہی ہے۔ اس ظلم پر کشمیری پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کو ان مظالم پر خا موش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں اور امیدوں کا ترجمان ہے۔اس میں دورائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلا ش کیے بغیر بر صغیر میں امن و سلا متی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔

اس حسا س ترین مسئلے کے بنیا دی فریق ہو نے کی حیثیت سے پاکستان کا فرض اولین ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر عالمی روابط اور عالمی ادارو ں و تنظیموں میں کشمیر یوں کے حق خو دارادیت کے لیے آواز بلند کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم ، انسانی حقو ق کی بد ترین خلا ف وزریوں اور درند گی پر مبنی اقداما ت کو عالمی برادری کے سامنے لانے کے لیے کشمیر ی عوام کی ہر سطح پر مدد و رہنمائی کرے۔ اس موقع پر یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ حکومت کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی امن وا مان کی صورتحال کو مثالی بنا نے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر میں امن ،آزادی اور تحفظ کے مثالی ماحول کو دنیا کے سامنے ایسی مثال کے طور پیش کیا جا نا چاہیے جو بھارتی سفاکیت کا پول کھولنے میں مدد گار ثابت ہو۔ کشمیر ی عوام پاکستان کو امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ان کی امنگیں خواہشا ت اور مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے۔ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ ان احسا سات کو سمجھتے ہوئے دنیا کے سامنے کشمیر یوں کا مقدمہ پیش کرے۔ بھارتی قیادت کو کھلے الفاظ میں احسا س دلا یا جائے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا، پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور مقبو ضہ وادی میں آزادی کا سورج بہر حال طلو ع ہو کر رہے گا۔ اور مجبور اور بے بس کشمیری عوام جلد غلا می کی زنجریں توڑنے میں کامیا ب ہو نگے۔حال ہی میں چیف آف آرمی اسٹا ف جنا ب جنرل قمر جاوید با وجو ہ نے بھی ایک بار پھر مو دی سرکار کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی پیشکش کی ہے۔