| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
November 01, 2016 | 02:06 pm
وزیراعظم،عمران خان تحقیقات کیلئے کمیشن کے قیام پر رضامند

Prime Minister And Imran Khan Agreed To Establish A Commission To Investigate

Prime Minister And Imran Khan Agreed To Establish A Commission To Investigate
پاناما کیس میں اہم پیشرفت ہوگئی ،وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان پاناما معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن کے قیام پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ نےپاناما کیس میں فریقین کو کمیشن کے حوالے سے اپنے اپنے ٹی او آر تحریری طور پر دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 3نومبر صبح 11 بجے تک ملتوی کردی ہے ۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواستوں پرچیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کو 2دن میں جواب داخل کرانے کا حکم دیدیا ۔

وزیراعظم نوازشریف کے وکیل سلمان بٹ نے عدالت کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے کمیشن کی تشکیل پر آمادگی کااظہار کیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے ٹی او آرز پر کمیشن کی تشکیل پر اعتماد کا اظہار کیا ،جس پر عدالت نے فریقین کو تحریری طور پر ٹی او آرز دینے کی ہدایت کی ۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم کوئی ہدایت نہیں دے رہے،سیاسی سوال میں بھی نہیں پڑیں گے،امید کرتے ہیں کہ فریقین اپنے گھوڑوں کو روک لیں گے ۔

سپریم کورٹ نے ایک موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان کے وکلا سے پاناما پر کمیشن کی تشکیل اور اس کے فیصلوں کی پابندی کے حوالے سے تحریری یقین دہانی مانگی اور کہا کہ کمیشن کے فیصلے کی پابندی لازمی ہوگی ،کمیشن کا فیصلہ ہی عدالت کا فیصلہ ہوگا ۔

عدالت نے استفسارکیا کہ وزیراعظم بتائیں اگر ان کے خلاف فیصلہ آیا تو کیا وہ عہدہ چھوڑ نے کا وعدہ پورا کریں گے ؟

اس سے قبل چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فریقین کوا پنے جواب جمع کرانے کی ہدایت دی اور کہا کہ ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیں گے ،اس حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدالت اور سڑکوں پر ایک ہی سوال کہ جائیداد آمدن سے زائد بنائی گئی۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دئیے کہ پیسہ باہرجائے تو معاملہ نیب کے اختیار میں آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ذرائع آمدن سے زیادہ پیسہ ہو تو نیب تحقیقات کر سکتا ہے،اس نے اب تک کارروائی نہیں کی،چیف جسٹس نے نیب سے سوال کیا کہ کیا پاناما لیکس پر آج تک کوئی تفتیش کی ہے؟

اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ 2ہفتے سے اس کیس میں سنسنی پھیلائی جارہی ہے،ہائی پروفائل کیس ہے، عوام کی نظریں اس پر ہیں،تحریک انصاف کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

قبل ازیں پاناما کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار طارق اسد کے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک نظریاتی بنیاد پر بنا ،حکمران اس سے مخلص نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ملک کو ہیجانی صورتحال سے نکالنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں،عدالت اب اس مسئلے کو حل کرےگی ۔