| |
Home Page
منگل 03 صفر المظفر 1439ھ 24 اکتوبر 2017ء
February 16, 2017 | 02:30 pm
پولیس مقابلے، مدعی، گواہ اور ملزم پولیس، تفتیش کار اور منصف بھی پولیس

Police Encounter Complainant Witness And Accused Police Investigators And Judges Police

Police Encounter Complainant Witness And Accused Police Investigators And Judges Police
افضل ندیم ڈوگر...کراچی میں 65 مبینہ، مشکوک یا جعلی مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکتوں یا زخمی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف عدالتی حکم پر آئی جی سندھ نے ان سے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران کو ہی منصف مقرر کردیا ہے۔

پولیس کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق مقابلے کرنے والے پولیس اہلکار ہی اپنی تحقیقاتی رپورٹ تیار کریں گے جو اعلیٰ عدالتوں تک پہنچائی جائیں گی۔

ریکارڈ کے مطابق مشکوک پولیس مقابلوں میں جو لوگ ہلاک کئے گئے ان میں بیشتر کو پولیس نے ہی حراست میں لیا تھا جس کا ثبوت بیشتر کے لواحقین کی جانب سے مختلف عدالتوں میں ان کی غیرقانونی حراست کی پٹیشنز ہیں جو ان کی گرفتاری کے روز سے ہی عدالتوں میں دائر ہیں جن میں لواحقین کی جانب سے گرفتار کرنے والے پولیس افسران کو ملزم قرار دیا گیا۔

پولیس کے انہی افسران نے حراست میں لئے گئے ان افراد کو کچھ عرصے بعد مبینہ، مشکوک یا جعلی پولیس مقابلوں میں مار دیا اور ان مقابلوں کے مقدمات میں پولیس کے وہی افسران ہی مدعی بنے۔ ان مقدمات میں پولیس ہی کے اہلکار گواہ یا عینی شاہد ہوتے ہیں جن میں اکثر کو مرنے والوں کی فائرنگ سے جعلی زخمی بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

عدالتوں نے ایسے 65 پولیس مقابلوں کو مشکوک قرار دے کر پولیس اہلکاروں کو ہی ملزم بنا دیا ہے۔ ان ایس ایچ اوز یا پولیس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کیلئے ان کے موجودہ اعلیٰ افسران کو ہی منصف مقرر کیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ نے ان پولیس مقابلوں کی تحقیقات کیلئے کراچی میں ہی کام کرنے والے تین ڈی آئی جیز پرمشتمل کمیٹی قائم کی ہے جو عدالتی حکم پر پولیس کی جانب سے شہریوں کو ہلاک یا زخمی کرنے کے 65 مبینہ مقابلوں کی تحقیقات کرے گی۔

یہ بالکل ایسے ہی لگتا ہے جیسے کسی شخص پر قتل کا الزام ہو اور اس کی تحقیقات کیلئے اس شخص کے والد یا دادا سے انکوائری کرائی جائے۔

ایسی تحقیقات پہلی بار نہیں کرائی جارہیں۔یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ پولیس چیف نے ایک حکمت عملی کے تحت تین الگ الگ ڈی آئی جیز کو ایک دوسرے کے علاقے میں ہونے والے مقابلوں کی تفتیش سونپی ہے۔ یوں افسران ایک ساتھ بیٹھ کر اپنے اپنے ماتحت عملے کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کریں گے۔

کراچی کے ایسٹ زون جس میں ضلع ملیر، ایسٹ اور کورنگی کے علاقے آتے ہیں ۔وہاں کے مبینہ مقابلوں کی تحقیقات ڈی آئی جی سی آئی اے ڈاکٹر جمیل کے سپرد کی گئی ہیں۔ ان مقابلوں میں لگ بھگ تمام مبینہ، مشکوک یا جعلی پولیس مقابلے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار احمد کے کھاتے میں ہیں۔ ڈاکٹر جمیل احمد ان کی تحقیقات کریں گے۔

یہ وہی ڈی آئی جی پولیس ہیں جنہوں نے اس سے قبل بھی ایس ایس پی راؤ انوار احمد کے خلاف تحقیقات کیں۔ پوری دنیا کے سامنے موجود شواہد جھٹلائے گئے اور راؤ انوار احمد خان جعلی سازی، قانون سے بالا تر ہونے اور دیگر سنگین الزامات سے اسی پولیس افسر کے ہاتھوں بریت پاچکے ہیں۔

ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک کراچی کے ساؤتھ زون یعنی ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان کے علاقے میں ہونے والے مشکوک پولیس مقابلوں کی تحقیقات کررہے ہیں۔ اس زون میں جنوبی اور سٹی ایریا آتے ہیں اور ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان کراچی کے ویسٹ زون یعنی ان کے مقابلوں کی تحقیقات کرنے والے ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک کے عملے کے ہاتھوں مبینہ مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کررہے ہیں۔

یہی نہیں تحقیقات کیلئے ان علاقوں کے ایس ایس پی ہی تینوں ڈی آئی جیز کے معاون ہوں گے۔ ایس ایس پی مقدس حیدر، ایس ایس پی فیض اللہ کوریجو اور ایس پی توقیر نعیم کمیٹیوں کے معاون مقرر کئے گئے ہیں جبکہ ایس ایس پی نعمان صدیقی اور ایس پی ڈاکٹر فہد ڈی آئی جی سی آئی اے کی معاونت کر یں گے۔ پولیس میں کام کے طریقہ کار کے مطابق ایس ایس پیز اپنے ماتحت ڈی ایس پیز اور وہ افسران اپنے ماتحت ایس ایچ اوز سے کاغذی خانہ پری کراتے ہیں۔ یوں اسی نوعیت کی تحقیقات میں پولیس مقابلے کرنے والے ایس ایچ اوز اور پولیس اہلکار ہی دراصل اہم کردار ہوتے ہیں۔

ایک طرف تحقیقات دوسری طرف لواحقین کے ساتھ پولیس اہلکار جو کچھ کرتے ہیں، اس میں انصاف کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ پولیس افسران کی یہ کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے گی جو یہ رپورٹس اپنے نام کے ساتھ عدالت کو پیش کریں گے۔