کلکتہ، یہودی مسلم تعلقات کی صدیوں پرانی کہانی | Daily Jang News
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
June 17, 2017 | 02:42 pm
کلکتہ، یہودی مسلم تعلقات کی صدیوں پرانی کہانی

Muslims Keep Alive Kolkatas Jewish Schools Stores And Traditions

Muslims Keep Alive Kolkatas Jewish Schools Stores And Traditions

پاکستان میں یہودی مسلم تعلقات جیسے بھی ہوں بھارت کے تیسرے بڑے میٹروپولیٹن شہر کلکتہ میں یہودی مسلم مثبت تعلقات کی برسوں پرانی تاریخ اب بھی زندہ ہے بلکہ بہت سو مواقع پر ان کی تجدید بھی ہوتی رہتی ہے ۔

1975 میں مٹانا الیگزینڈرجو ایک یہودی طالب علم تھیں ، انہوںنے جب کلکتہ میں قائم یہودی گرلز اسکول کو خیر آباد کہا تووہ اسکول کی آخری یہودی طالب علم کہلائیں کیونکہ اسکول کے زیر تعلیم بچوںکا بڑاحصہ مسلمان طالبعلم لڑکیوں پر مشتمل تھا ۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے مسلمان لڑکیاں اسکول میں داخلہ نہیں لے رہیں جبکہ الیگزینڈر کے والدین نے انھیں اسکول سے باہر اس خوف کی بنا پر نکالا جس کے مطابق الیگزینڈر یہودی ہاسٹل میں وہ آخری لڑکی تھیں جنھیں اسرائیل یا امریکہ اور یورپ سے ہجرت کر کے آنے والی یہودی لڑکی کے طور پر جانا جاتا تھا اس لئے ان کے والدین پریشان تھے۔

اور اب 50سال کی عمر میں ہاسٹل میںرات کے وقت اکیلے رہنے پر اس بات نے ان کے والدین خوف میں مبتلا تھے لیکن ان کے اسکول سے جانے میں مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ کلکتہ کے یہودی اسکول میں مسلمان لڑکیوں کی اکثریت مسلمانوں اور کلکتہ میں قائم یہودی کمیونٹی کے درمیان گہرے تعلقات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے ۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق کلکتہ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے کل 1400طالبعلموں میں سے 1200 سے زائد مسلمان ہیں جن میں اسکول کے وائس پرنسپل سمیت نصف فیکلٹی کا تعلق بھی اسلام سے ہے ۔

یہ تبدیلی 1950 کے بعد شروع ہوئی جب کلکتہ میں خاص طور پر یہودی اقدار کو ذہن نشین کرنےکے لئے قائم کئے گئے ادارے میںصرف یہودی خاندانادارے کی ضرورت کو پوراکرنے سے قاصر تھے

جس کے بعد یہودی حکام نےدیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دینے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے فوری بعد سب سے زیادہ مثبت ردعمل جس فرقے سے آیا وہ قریبی علاقوں میں رہائش پذیر مسلمان تھے ۔

اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے اسکول میں مسلمان طالبات کی تعداد یہودیوں سے بھی تجاوز کرگئی جس کے بعدا سکول حکام نے ایسے والدین کے لئے جو اپنی بچیوں کے اسکول اسکرٹس میں باہر نکلنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے، ان کے لئے اسکول میں چینج روم تیارکروایا تاکہ ایسی بچیاں گھر سے والدین کی پسند کا لباس پہن کر اسکول آئیں اور چینج روم میںآکر یونیفارم چینج کریں ۔

جب وہاں موجود 17سالہ طالبعلم زارا احمد سے بات کی گئی تو اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے والدین کو یہ پسند نہیں کہ ہم گھروں سے اسکرٹس پہن کر اسکول آئیں جس کے باعث اسکول حکام کی جانب سے مسلمان لڑکیوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ اسکول برقعہ پہن کر آسکتی ہیں اور چینج روم میں برقعہ اتار کر کلاسز لیتی ہیں ۔

مینیجنگ ٹرسٹی آئلن جو کوہن کا کہنا ہے کہ ایسے اسکول کلکتہ میں یہود مسلم ہم آہنگی کی علامتی تصویر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

عبادت خانوں اور بازاروں میں یہودی مسلم ہم آہنگی !
مسلم یہود ی ہم آہنگی نہ صرف اسکولوں میں قائم ہے بلکہ کلکتہ میں قائم یہودی عبادت خانوں کی نگرانی بھی مسلمان ہی کرتےنظرآتے ہیں ۔اس کے علاوہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میںمسلمان ہی یہودی لاشوں کی تدفین اور ان کی ڈریسنگ میں مدد فراہم کرتےبھی دکھائی دیتے ہیں ۔

دوسری جانب یہودی عبادت خانوں کے قریب ہی مسلمان چوڑی فروخت کنندگان مسلم ٹوپی پہنے فٹ پاتھ پر قائم دکانوں میں چوڑی فروخت کرتے ہیں۔

کلکتہ میں پیدا ہونے والے یہودی دانشور اور مصنف اور خواتین کی لووا یونیورسٹی کے سابق ایسوسی ایٹ پروفیسرکا کہنا ہے کہ مسلمان اور یہودیوں کے درمیان قریبی اور مثبت تعلقات کلکتہ کے مقامی تناظر کی جڑوں میں شامل ہیں ۔

4اگست 1798شالم ہاکوہن پہلے یہودی تھےجو ہجرت کے بعد کلکتہ پہنچے ابتدا میں شالم شمالی بھارت میں مسلمان بادشاہ کے عدالتی سنارتھے۔ کلکتہ میں پہلے یہودی شالم کی خوشحالی سےمغربی ایشیا کے یہودیوں متاثر ہوکرکلکتہ کی جانب ہجرت کرنا شروع کردی اور کمیونٹی ریکارڈ کے مطابق 1830کے بعد 600تجاوز کرگئی جبکہ 1947میں بھارت کی برطانوی راج سے آزادکے بعدیہ تعداد 4000پر پہنچ گئی تھی ۔

کلکتہ کے یہودی مسلم گھرانوں کے تعلقات
آج کلکتہ میں یہودی کی تعداد 22 فیصد ہے جبکہ یہودی گرلز اسکول میں مسلم یہودی تعلقات کی روایت کو اسکول کی وائس پرنسپل عابدہ رازق زندہ رکھے ہوئے ہیں جوالیگزینڈر کے والد کے کالج کی سب سے اچھی دوست تھی جبکہ الیگزینڈر کے والد یہودی تھے جن کا خاندان 115 سال پرانے کنفیکشنری کی دکان سے چلتا ہے اور دونوں خاندانوں میں دوستانہ تعلقات قائم ہیں ۔

دونوں خاندان تہواروں مسلم تہوار ہوں یا یہودی تحائف کے تبادلے سے گریز نہیں کرتے جبکہ عابدہ چاہے ایسٹر کا تہوارہو یاکرسمس یہ مسلم لڑکی ہندو اکثریت کے شہر کلکتہ میں یہودی بیکری میں کیک ریپنگ میں بھی مدد فراہم کرتی ہے ۔

ان کا کہناہے کہ ان کی گہری دوستی کے پیچھے چھپا مقصد کلکتہ میں مسلم یہودی تعلقات کو فروغ دینا ہے ۔