| |
Home Page
پیر 28 ذیقعدہ 1438ھ 21 اگست 2017ء
June 18, 2017 | 01:44 pm
کسی بھی وقت عام انتخابات یا تحریک کااعلان ہوسکتا ہے، فوادچوہدری

May At Any Time Announce The Election Campaign Fawad Cohadary

May At Any Time Announce The Election Campaign Fawad Cohadary

رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی وقت عام انتخابات یا کسی تحریک کااعلان ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف نے کارکنوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاررہنے کی ہدایت کردی ہے۔

لاہور میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کی جس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 22جون کے بعد کسی بھی وقت فیصلہ آسکتا ہے ۔سپریم کورٹ میں اپارٹمنٹس کے بارے میں جواب نہیں دیا گیا اور جو شہادتیں موجود ہیں یہ لوگ انہیں چھپانا چاہتے ہیں ۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز بہت بڑا اسکینڈل ہےجبکہ شریف جتنا اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے اتنا پھنس رہے ہیں۔تاریخ رقم نہیں کرنی انہوں نے رقم واپس کرنی ہے اور پرندے کی طرح یہ لوگ جال میں پھڑ پھڑا رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حدیبیہ کی رقم موٹروے کے کمیشن سے آئی تھی اور ہم کہہ رہے تھے کہ بڑے منصوبوں میں کمیشن ہے۔ پنجاب میں شہبازشریف نے 80 ہزار کروڑ روپے کا کام کیا ہے جبکہ گھراورسستی روٹی سمیت دیگر منصوبوں میں کرپشن ہوئی ۔

انہوں نے کہاکہ ریکارڈ مل جائے تو چوریوں کا پتہ چل جائے گا۔انعام الرحمان کو تحفظ فراہم کیا جائے،وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں۔کرپشن ایک ناسور ہے مگر منی لانڈرنگ اس سے بڑا جرم ہے، ایک تو کرپشن کی گئی دوسرا وہ رقم ملک سے باہر لےگئے۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ جے آئی ٹی نے عید سے قبل اپنی 15 روزہ رپورٹ پیش کرے گی اور جس طرح تفتیش آگے بڑھی ہے امیدہے نتیجہ جلد آجائے گا۔سپریم کورٹ کسی وقت بھی فیصلہ دے سکتی ہےتاہم عمران خان نے تمام لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلیے کمر کس لیں۔

فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ہم نے رانا ثنااللہ سمیت دیگر رہنماوں کے متعلق ایک کیس سپریم کورٹ میں دائر کیا ہےاور کیس میں ان سیاستدانوں کے بیانات کی سی ڈیز پیش کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں کسی وقت بھی الیکشن یا ہنگامی صورت کا اعلان ہوسکتا ہے، تحریک انصاف کے لوگ کمر کس لیں۔وفاقی حکومت نے معاملہ کی تحقیقات کرنی ہےاور جب وفاقی حکومت کا سربراہ ملوث ہے تو پاناما پیپرز کی تحقیقات کون کرے گا؟