| |
Home Page
منگل 29 ذیقعدہ 1438ھ 22 اگست 2017ء
August 13, 2017 | 08:05 pm
کیوبا میں سفارت کاروں پر’ پراسرار حملے‘ امریکا کا ردعمل

Us Reaction To Mysterious Attack On Diplomats In Cuba

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کیوبا میں مغربی سفارت کاروں کے حملے پر ردعمل کااظہار کیا اور کہا کہ یہ بتانا ہمارے بس میں نہیں کہ ان پراسرار صوتی حملوں کا ذمہ دار کون ہے۔

گزشتہ دونوں کیوبا میں اپنی نوعیت کے انوکھے حملے ہوئے جن میں مغربی سفارت کاراپنی سماعت کھوبیٹھے تھے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نورٹ نے بھی دو روز قبل واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیاتھا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کیوبا سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں کو جن صوتی حملوں کا نشانہ بنایا گیا اْن سے متعلق حالات اور واقعات کو منظر عام پر لایا جائے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایک صحافی کے سوال کا جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بتانا واشنگٹن کے بس میں نہیں کہ ان پراسرار صوتی حملوں کا ذمے دار کون ہے۔

ٹیلرسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ کیوبا کے حکام اس بات کو ضرور معلوم کرلیں گے کہ یہ حملے کون کر رہا ہے، جو نہ صرف امریکی بلکہ دیگر ممالک کے سفارت کاروں کی جان کے لیے خطرہ ہیں۔

واضح رہے کہ واقعے کے بعد ہوانا میں متعین امریکی سفارت کار کیوبا سے کوچ کر گئے ہیں۔

ادھر ہوانا حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نے واقعے کی’جامع اور جلد‘ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اگرچہ اس پراسرار معاملے کا انکشاف رواں ہفتے سامنے آیا ہے تاہم اس کے ڈانڈے چند ماہ پہلے سے ملتے ہیں۔

رواں برس 23 مئی کو امریکا نے مزید کسی وضاحت کا انتظار کیے بغیر واشنگٹن سے کیوبا کے دو سفارت کاروں کو نکال دیا تھا۔