| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
September 13, 2017 | 03:33 pm

تین پاکستانی نژاد ناروے کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب

Three Pakistani Born Norwegian Parliamentarians Were Elected

Three Pakistani Born Norwegian Parliamentarians Were Elected

پاکستانی پس منظر رکھنے والے تین سیاستدان ناروے کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔ ناروے کی پارلیمنٹ کا انتخابی عمل سوموار گیارہ ستمبر کو مکمل ہوا جس کے نتائج منگل کی صبح سامنے آنا شروع ہوگئے۔

ناروے کی لبرل پارٹی سے وابستہ پاکستانی نژاد سیاستدان عابد قیوم راجہ ایک ماہر قانون دان ہیں اور وہ دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔عابد راجہ کے والد راجہ قیوم اور والدہ نسیم اختر ستر کی دہائی کے دوران پاکستان کے صوبہ پنجاب سے ہجرت کرکے ناروے آئے۔

والد ایک فیکٹری میں ملازم تھے اور والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ایک اور نو منتخب رکن اسمبلی مدثرحسین کپور کے والدین بھی ستر کی دہائی میں پنجاب پاکستان سے ناروے آئے۔ ان کا تعلق دائیں بازو کی حکمراں جماعت ھورے پارٹی سے ہے۔

مدثرکپور بھی دوسری بار منتخب ہوئے ہیں۔وہ مارکیٹنگ کے شعبے کے ماہر ہیں اور انہوں نے اپنا سیاسی کیریئرپانچ سال قبل اپنی پارٹی کی ایک مہم کے دوران شروع کیا۔

لیبرپارٹی کی نومنتخب رکن ھادیہ تاجیک کے والدین بھی ستر کی دہائی میں کوئٹہ پاکستان سے ناروے آئے۔ وہ بھی دوسری بار رکن پارلیمنٹ بنی ہیں۔ وہ چند سال قبل وزیرثقافت بھی رہ چکی ہیں۔ وہ پہلی مسلمان اور ایشین خاتون ہیں جو ناروے کی حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز ہوئیں۔

ان تین پاکستانی نژاد اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ ایک انڈین نژاد، ایک ایرانی اور ایک عراقی بھی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔

ھیمان شو گلتی کے والدین بھی ستر کی دہائی میں نئی دہلی سے ناروے آئے۔ والد پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور والدہ بھی شعبہ صحت سے وابستہ تھے۔ ان کا تعلق دائیں بازو کی جماعت پراگریس پارٹی سے ہے جو اس وقت حکمران اتحاد میں شامل ہے۔

وہ وزارت انصاف و پبلک سیکورٹی میں سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔پارلیمان کے نو منتخب ایک اور رکن مسعود غرہ خانی ہیں جو 1982 میں ایرانی کے دارالحکومت تھران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین نے اسی کی دہائی میں ناروے ہجرت کی۔ وہ لیبر پارٹی سے وابستہ ہیں۔

غیر ملکی پس منظر کے ساتھ ایک اور لیبر پارٹی کے سیاست دان زینب السامرائی کا تعلق عراقی پس منظر سے ہے۔

ناروے کی پارلیمنٹ کے لیے کچھ مزید نارویجن پاکستانی اور دیگر غیرملکی پس منظر رکھنے والے افراد مختلف پارٹیوں کے پلیٹ فارمز سے کھڑے ہوئے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوسکی۔