| |
Home Page
ہفتہ 30 محرم الحرام 1439ھ 21 اکتوبر 2017ء
October 12, 2017 | 01:01 pm
دبئی، اب ایئرپورٹ میں چیک اِن کا عمل صرف 15 سیکنڈز میں

Smart Tunnels To Speed Up Airport Checks In Dubai

اب ایئرپورٹس میں داخل ہونے کے بعد طیارے میں سوار ہونے کے لیے قطار میں لگ کر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور چیک اِن کا عمل محض 15 سیکنڈز میں مکمل ہو سکے گا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں جلد ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا دی جائے گی جس کی بدولت چیک اِن کا عمل محض 15 سیکنڈز میں مکمل کر لیا جائے گا اور اس سے ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد و رفت کے عمل کو تیز تر کیا جا سکے گا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں گائیٹیکس 37 ٹیکنالوجی شو کے پہلے روز دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنس اینڈ فارنرز افیئرزکے حکام نے شرکاء کو ’’اسمارٹ ٹنل‘‘ ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا۔ ادارے کے اسسٹنٹ جنرل میجر خالد الفیلاصی نے کہا کہ یہ اسمارٹ سرنگیں دبئی میں پاسپورٹ کنٹرول کا مستقبل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی ٹیکنالوجی دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں، پہلی بار دبئی میں اسمارٹ سرنگ کا تجربہ کیا جا رہا ہے جس میں بائیومیٹرک سسٹم اور چہرے کو شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی نصب ہے اور مسافر کو صرف اس سرنگ سے گزرنا ہوتا ہے باقی کام سسٹم خود کر لیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مسافر کو پاسپورٹ دکھانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی کیوں کہ اس ٹنل میں نصب ٹیکنالوجی چہرے کو شناخت کرکے سارا بائیو ڈیٹا نکال لیتی ہے۔ لہٰذا چیک ان کا عمل مکمل ہونے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا ایک شخص اس ٹنل سے گزرنے میں لگاتا ہے یعنی تقریباً 15 سیکنڈز۔

سفید رنگ کے اس سرنگ میں سبز رنگ کی روشنی سے مزین ڈیجیٹل فرش بھی ہے اور جیسے ہی ایک مسافر اس سرنگ سے گزرتا ہے تو فرش کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ چیک ان کا عمل مکمل ہو گیا۔

اس پروجیکٹ میں ٹیسلا کی برقی کاروں کو بھی شامل کیا جائے گا جو مسافروں کو ایئرپورٹ تک لے جانے کی سہولت فراہم کریں گی اور سفر کے دوران مسافر اپنی تمام تفصیلات اسمارٹ فون کے ذریعے ایئرپورٹ حکام کو فراہم کردے گا۔ اس کار کے ذریعے مسافر کی تفصیلات، اس کے سامان کا وزن وغیرہ اکھٹا کر لیا جائے گا اور گاڑی میں ہی اسے بورڈنگ پاس دے دیا جائے گا۔

جب مسافر ایئرپورٹ پہنچے گا تو اس کا سامان خود کار طریقے سے اسمارٹ سسٹم سے گزر جائے گا اور مسافر کو محض اسمارٹ سرنگ سے گزرنا ہو گا جس کے بعد وہ سیدھا طیارے میں سوار ہوجائے گا اور اس کا بہت سا قیمتی وقت بچ جائے گا۔