| |
Home Page
اتوار یکم صفر المظفر 1439ھ 22 اکتوبر 2017ء
October 13, 2017 | 10:47 am
احتساب عدالت کے باہر پولیس اور وکلا کے درمیان ہاتھا پائی، وکیل زخمی

Clash Between Lawyers And Policemen Outside Accountability Court Lawyer Injured

Clash Between Lawyers And Policemen Outside Accountability Court Lawyer Injured

مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک بار پھر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر بدنظمی پیدا ہوگئی اور پولیس نے وکلا پر ڈنڈے برسادیئے۔

مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ،جس کے باعث جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ایک بار پھر بد نظمی دیکھنے میں آئی۔

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس اور وکلا کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور اس دوران ایک وکیل زخمی بھی ہوگیا۔

وکلا نے الزام لگایا کہ انہیں پولیس نے عدالت جانے سے روکا اور ڈنڈے برسائے جس کےباعث ان کے ساتھی وکیل کا سر پھٹ گیا جسے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

وکیل جہانگیر اختر جدون نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھی چوہدری فرید اور خواتین کوپولیس نے مارا پیٹا، ایس ایس پی جمیل ہاشمی اور ڈی ایس پی ادریس راٹھور واقعے کے ذمہ دار ہیں، عدالت پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

کیس کی سماعت ملتوی ہونے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آئی جی اسلام آباد کو وکیل پرتشدد کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب تشدد کا نشانہ بننے والے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) کے لائرز ونگ سے ہے، ان کا عدالت کے اندر کسی قسم کی ہنگامہ آرائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، ہم عدالت کے احکامات کے مطابق آئے لیکن پولیس نے خواتین وکلا کے کپڑے پھاڑے اور ڈنڈے مارے۔

وکیل کے مطابق احتساب عدالت کے جج نے ان کا سر پھٹا دیکھ کر غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ وکلا کے ساتھ ایسا ہوگا تو کیس کی سماعت نہیں کروں گا۔

علاوہ ازیں وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کی بھی گاڑی کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر روک لیا گیا جب کہ کارکنان مریم نواز اورمریم اورنگزیب کی گاڑی کے سامنے آکر نعرے بازی کرتے رہے۔

سیکورٹی حکام نے وزیر مملکت مریم اورنگزیب کی گاڑی کو جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں داخل ہونے سے روکا تاہم 15 سے 20 منٹ کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دیدی گئی۔

رکن قومی اسمبلی ملک ابرار کی گاڑی بھی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہی روک لی گئی جب کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہی رہے۔