| |
Home Page
ہفتہ 27 ربیع الاوّل 1439ھ 16 دسمبر2017ء
October 13, 2017 | 11:23 am

خواتین کرکٹرز کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں

Womens Cricketers Salaries Are Also Increased

Womens Cricketers Salaries Are Also Increased

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی اعلیٰ عہدیدار کلیئر کونر نے کہا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو مثال بناتے ہوئے خواتین کھلاڑیوں کو دی جانے والی مراعات میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ مالی مشکلات کے باعث کرکٹ کو خیرباد کہنا چھوڑ دیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سابق انگلش خاتون کپتان کلیئر کونر کے حوالے سے بتایا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تاکہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے اس کھیل سے کنارہ کش نہ ہوں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی خواتین کھلاڑیوں کی کمیٹی کی سربراہ کونر کے مطابق اس تناظر میں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مثال بنانا چاہیے۔

حال ہی میں آسٹریلیا میں خواتین کرکٹرز کی تنخواہوں میں ڈرامائی طور پر آٹھ گنا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ساتھ ہی ان کو ملنے والی دیگر مراعات میں بھی بہتری پیدا کی گئی۔

کونر کے مطابق’ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ خواتین کھلاڑیوں کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اگر ہم ان کھلاڑیوں کا خیال نہیں کریں گے تو وہ کرکٹ سے الگ ہو کر دیگر کھیلوں کی طرف راغب ہوں گی یا ملازمتوں کے دیگر مواقع ڈھونڈیں گی۔ میرے خیال میں یہ پیش رفت ایک سانحہ ہو گی۔‘

اس مرتبہ خواتین کا عالمی کپ انگلش ٹیم نے جیتا تھا اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کو خواتین کی کرکٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا کیونکہ نہ صرف اسٹیڈیمز میں شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود رہی بلکہ ٹیلی وژن پر بھی اسپانسرز کی دلچسپی قابل ستائش رہی۔

اس تناظر میں بحث جاری ہے کہ خواتین کی کرکٹ سے ہونے والی عالمی کمائی سے کھلاڑیوں کو کیا حصہ مل رہا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے بعد دنیا کے امیر ترین بھارتی کرکٹ بورڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ خواتین کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کرے گا۔ تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان کونر کے مطابق اس کھیل میں مردوں کو زیادہ مراعات دی جاتی ہیں جبکہ خواتین پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے البتہ کہا کہ رواں ہفتے آکلینڈ میں منعقد ہونے والی آئی سی سی کی ایک میٹنگ میں اس حوالے سے بحث کی جائے گی۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کرکٹرز کے لیے ایک اچھی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔