| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
November 14, 2017 | 09:45 pm

مفلوج انتظامیہ نے پنڈی اسلام آباد والوں کو بھی مفلوج بنا دیا

Interactive Administration Makes Pindi Islamabad Interactive

Interactive Administration Makes Pindi Islamabad Interactive

میٹرو بند، موبائل فون سگنلز بند، سڑکیں بند،جگہ جگہ کنٹینرز، مفلوج حکومت اور مفلوج انتظامیہ نے راول پنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو بھی مفلوج بنا دیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر دھرنے والوں کے ہاتھوں یرغمال ہے،جا بجا کنٹینرز، بند سڑکیں اور متبادل راستے کے متلاشی شہری ہیں۔

فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کا آج نواں روز تھا، راول پنڈی اسلام آباد کا رابطہ کٹے 9روز گزر گئے، شہری متبادل راستے ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔

خواتین، طلبہ اور ڈیوٹی پر جانے والوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، مظاہرین کبھی ڈنڈے لہراتے ہوئے احتجاجی کیمپ سے باہر آتے ہیں تو کبھی دائیں بائیں کے علاقوں میں گھس جاتے ہیں۔

شہریوں میں اس صورت حال سے شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، حکومت اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بن گئے، عوام چیخ پڑے۔

نئے راستے ڈھونڈنےکے متلاشی شہری آئے روز کے دھرنوں سے اب تنگ آ چکے ہیں، جو چاہے، جب چاہے، جیسے چاہے، جہاں چاہے، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مٹھی بھر افراد لا کر راستے بند کر دے،اسے کوئی روکنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انتظامیہ مظاہرین کو پریڈ گراؤنڈ کی راہ دکھاتی ہے مگر راول پنڈی اسلام آباد کا درمیانی راستہ کاٹنے والوں کے سامنے بے بسی کی تصویر اور خاموش تماشائی بنی دکھائی دیتی ہے۔

پہلے ایک دھڑے نے 7روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیا اور شہریوں کو پریشان کیا، اب دوسرے دھڑے کا دھرنا جاری ہے۔

مٹھی بھر افراد نے راول پنڈی اسلام آباد کا راستہ 9روز سے بند کر رکھا ہے، حکومت نہ انہیں اٹھانے کے لیے کارروائی کررہی ہے نہ ہی مذاکرات کر رہی ہے، جبکہ ڈنڈا بردار مظاہرین نے پتھر جمع کیے اور فیض آباد فلائی اوور سے اتر کر میٹرو اسٹیشن تک آگئے۔

اس احتجاج سے سب سے زیادہ طلبامتاثر ہورہے ہیں، جنہیں اپنے اسکول، کالج اور یونیورسٹی تک پہنچنے میں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑ رہا ہے۔

مذہب کی آڑ میں عام شہریوں کی زندگی دو بھر کرنے والے مظاہرین کبھی راولپنڈی کی جانب مارچ کرتے ہیں اور کبھی اسلام آباد کی جانب۔

راہگیروں کا یہاں سے گزرنا محال ہے تو مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے، میٹرو بس سروس کئی روز سے معطل ہے، ٹیکسی والے بھی حکومت سے فریاد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دھرنے کے باعث سڑکیں بند ہونے سے ایک بچہ اسپتال نہ پہنچے کے سبب انتقال کرچکا ہے۔

مظاہرین کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے کسی بڑے نقصان کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والوں کے زیادہ تر مطالبات غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ عوام کی مشکلات کو اب زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جا سکتا، مذاکرات کا آخری موقع ہے اس کے بعد کوئی اور حل نکالیں گے۔

طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ تمام ایجنسیاں اور ادارے حکومت کے ساتھ ہیں، دھرنے والوں کے پیچھے کسی کا ہاتھ نہیں۔