| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
November 15, 2017 | 12:05 pm

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور برطانوی رکن پارلیمنٹ بن گیا

Pakistani Taxi Driver Became A British Mp

Pakistani Taxi Driver Became A British Mp

برطانیہ میں ٹیکسی چلاتے ہوئے رکن پارلیمنٹ بننے والے برٹش پاکستانی محمد یٰسین نے امید ظاہرکی ہے کہ انھوں نے سخت محنت کے بعد جو مقام بنایا ہے اس سے نوجوانوں کو آگے آکر سیاست میں حصہ لینے کاحوصلہ پیداہوگا۔

محمد یٰسین نے ٹوری پارٹی کے مضبوط گڑھ بیڈ فورڈ میں جہاں ہونے والی ووٹنگ کو قومی موڈ یامزاج تصور کیاجاتا ہے لیبر کے ٹکٹ پر 800 ووٹ کی برتری حاصل کی ، جیو نیوز کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے محمد یٰسین نے ایم پی نے اپنی جدوجہد اورمستقل مزاجی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ انھیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔

محمد یٰسین آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں پیداہوئے ان کے والد اپنے اہل وعیال کاپیٹ پالنے کیلئے ٹرک چلاتے تھے، محمد یٰسین نے ڈگری کالج میرپور سے بی کام کی ڈگری حاصل کی وہ 25سال کی عمر میں برطانیہ آئے تھے اوربیڈ فورڈ میں رہائش اختیار کی اب ان کی عمر 46سال ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے برطانیہ میں ایک فیکٹری میں معمولی کام سے زندگی کا آغاز کیا کچھ دنوں کے بعد انھوں نے ٹیکسی چلانے کالائسنس حاصل کرنے کے بعد ٹیکسی چلانا شروع کی اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے سے قبل تک ٹیکسی چلاتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ جب ٹیکسی چلانا ممکن نہیں رہاتو انھوں نے ٹیکسی چلانا ترک کردی، انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے باعث فخر ہے کہ میں نے سخت محنت اور جدوجہد کے ذریعہ یہ مقام حاصل کیاہے۔

انھوں نے بتایا کہ فیکٹری میں کام کے دوران انھوں نے مزدور تنظیم میں دلچسپی لیناشروع کی اور مزدور تنظیم میں کام کے دوران ہی سیاست میں ان کی دلچسپی بڑھی جس کے بعد انھوں نےلیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کی مقامی تقریبات اور جلسوں میں شرکت کرنے لگا جہاں مقامی مسائل پر بات چیت ہوتی تھی۔

سیاست میں محمد یٰسین کی دلچسپی بڑھتی گئی اور اس کے 10سال بعد انھوں نے لوکل کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا اور لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوگئے۔

مقامی مسائل میں ان کی دلچسپی اتنی بڑھی کہ انھوں نے ٹیکسی ڈرائیونگ اور کونسلر کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی کیلئے اپنا وقت باقاعدہ تقسیم کرلیااور مقامی ووٹروں کے مسائل حل کرنا شروع کئے۔

انھوںنے بتایا کہ کمیونٹی میں لوکل سطح پر کام کرنا میرے لئے فائدہ مند ثابت ہوا اور مجھے روزمرہ زندگی میں عام آدمی کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل ہوئی ،میں مقامی لوگوں کے مسائل مثلاً اسکول، سڑکوں ،ڈرینیج سسٹم ،معیار تعلیم ،پلیوں والدین کو درپیش مسائل، سماج دشمن رویئے ،نوجوانوں کو درپیش مسائل، ہائوسنگ، جرائم اور دیگر مسائل حل کرانے کیلئے مقامی لوگوںکے ساتھ مل کر کام کیا۔