| |
Home Page
ہفتہ 27 ربیع الاوّل 1439ھ 16 دسمبر2017ء
November 30, 2017 | 10:53 am

ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کاقاتل زہر پینے سے ہلاک

Thousands Of Bosnian Muslims Killed By Poisoning

بوسنیا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام اور جنگی جرائم میں ملوث کروشیا کے سابق کمانڈر سلوبودان پرالجیک نے جنگی جرائم کی عالمی عدالت کے جج کی جانب سے 20 سالہ سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد کمرہ عدالت میں زہرپی لیا ، وہ بعد ازاں دوران علاج اسپتال میں چل بسے ۔

کروشیا کی نیوز ایجنسی کے مطابق 72 سالہ سلوبودان پرالجیک نے دی ہیگ میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں اپیل کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں زہریلا مواد پی لیا تھا جنھیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

اقوام متحدہ کے ججز بوسنیا میں 1990 میں قتل عام کے جرم میں سزاپانے والے بوسنیا اور کروشیا سے تعلق رکھنے والے 6 سابق فوجی جنرلز اور سیاست دانوں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کررہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان سنتے ہی سیکنڈز میں انھوں نے غصے سے چلایا کہ ʼپرالجیک جرائم پیشہ نہیں، میں تمھ ا ر ے فیصلے کو مسترد کرتا ہوںجس کے بعد انھوں نے ایک بوتل نکالی اور سماعت کے دوران زہر کی بوتل پی لی ۔

یہ غیرمعمولی اقدام دیکھ کر جج نے دوسرے مجرم بوسنیا کروٹ کے سابق وزیراعظم جیڈرانکو پرلیس کی 25 سال قید اور سابق وزیر دفاع برونو اسٹوجیک کی 20 سالہ سزا سنانے کے فیصلے کو موخر کردیا۔

پرالجیک کے وکیل نے بھی اس موقع پر چلاتے ہوئے کہا کہ ʼمیرے موکل کا کہنا ہے کہ انھوں نے زہر پی لیا ہے۔

بعد ازاں انکشاف ہوا کہ سابق جنرل دواؤں کا استعمال کررہے تھے۔

سابق جنرل کی جانب سے مذکورہ اقدام کے فوری بعد عدالت کے عملے نے پرالجیک کو گھیر لیا اور جج نے سماعت معطل کردی اور کمرہ عدالت کو عوام کے لیے بند کردیا گیا۔