| |
Home Page
پیر4؍ جمادی الاوّل 1439ھ 22 ؍ جنوری2018ء
December 11, 2017 | 11:58 am

آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟وجہ ضرور جانئے

Why Is The Eye Flowing Learn The Reason

Why Is The Eye Flowing Learn The Reason

کسی شاعر نے کہا تھا ’کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی۔۔یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا‘۔ ہم آپ سے وفا اور بے وفائی کی کوئی بات فی الحال نہیں کریں گے بس یہ ضرور کہیں گے کہ اگر آپ کی آنکھ بار بار پھڑکتی ہے تو ۔۔نے وجہ نہیں۔‘

کچھ لوگ کہتے ہیں دائیں آنکھ پھڑکے تو خوشی اور بائیں آنکھ پھڑکے تو غم ملتا ہے ۔خوشی کے احساس پر تو لوگ فکر مند نہیں ہوتے لیکن غم کے احساس سے ہی ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔حالانکہ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ آنکھ پھڑکنے کا سب سے عام سبب کشیدگی،تھکاوٹ ،نیند کی کمی اورکیفین کا زیادہ استعمال ہے۔

اگر آپ آنکھوں کے پھڑکنے سے پریشان ہیں تو آپ کیفین کی مقدار کوکم کردیں۔سب سے زیادہ کیفین چائے میں ہوتا ہے لہذا چائے اگر آپ ضرورت سے زیادہ پیتے ہیں تو اسے کم کردیجئے ۔۔۔نہ پھڑکے کی آنکھ اور نہ دھڑکے گا دل اس غم میں کہ پتہ نہیں کون سا غم ملے گا ۔۔؟ْ

آنکھ کاپھڑکنا یا مایوکیمیا پپوٹوں کے پٹھوں کا باربارغیراختیاری طورپرسکڑنا ہے ۔ عموماً آنکھ کے اوپر والا حصہ زیادہ پھڑکتا ہے لیکن یہ عمل اوپری اورنچلے دونوں حصوں میں ہوتا ہے۔

اکثرلوگوں میں یہ کھنچاؤ بہت معمولی سا ہوتا ہے اسی لئے پپوٹے پرہلکا سا کھچاؤ محسوس ہوتاہے جبکہ کچھ لوگوں میں یہ کھچاؤ شدید ہوتا ہے۔

یہ حالت آنکھوں کے پھڑکنے کاعمل چندسیکنڈ یاایک منٹ ہوتاہے۔ یہ عمل چند دن تک جاری رہ سکتاہے لیکن یہ ہفتوں یا مہینوں نہیں ہوتا۔اس سے نہ تو درد ہوتاہے اورنہ ہی یہ نقصان دہ ہیں لیکن اس عمل سے آپ پریشان ضرورہوجاتے ہیں۔ویسے تو یہ خود ہی ٹھیک ہوجاتاہے لیکن اگریہ مسلسل ہوتو یہ دائمی موومنٹ ڈس آرڈر کی نشانی ہوسکتی ہے۔

آنکھ پھڑکنے کی وجوہات
کبھی کبھارآنکھ پھڑکنے کی وجوہات نہیں ہوتیں لیکن اس کی زیادتی مختلف مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔اس کی وجہ آنکھوں میں جلن،پپوٹے میں کشیدگی،تھکاوٹ ،کشیدگی،نیند کی کمی،جسمانی محنت کی زیادتی،ادویات کے منفی نقصانات اور تمباکو یا کیفین کازیادہ استعمال ہے۔

اگرآنکھوں کے پھڑکنے کی شکایت مستقل رہے تویہ حالت عام طورسے دونوںآنکھوں کومتاثرکرتی ہے۔اس حالت کی صحیح وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی لیکن یہ صورتحال اسے مزید نقصان کاباعث بنادیتی ہیں۔

اس میں پپوٹے کی سوزش،آنکھوں کاخشک ہونا،آشوب چشم،ماحولیاتی اثرات جیسے ہوا،تیزروشنی ،سورج اورآلودگی وغیرہ،تھکاوٹ اورکشیدگی،روشنی سے حساسیت اورالکحل،تمباکواورکیفین کازیادہ استعمال شامل ہے۔

مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ عام ہے۔اگریہ حالت شدت اختیارکرجائے تو اس کے سبب دھندلا نظرآنے لگتا ہے اور روشنی کی حساسیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔