| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
January 14, 2018 | 03:20 pm

حسن ظفر عارف لاش پر بظاہر کوئی نشان نہیں، ڈاکٹرز

Hasan Zafar Arif Body Is Not A Signdoctors

Hasan Zafar Arif Body Is Not A Signdoctors

ایم کیوایم لندن کے ڈپٹی کنوینر حسن ظفر عارف کی میت پولیس نے جناح اسپتال منتقل کر دی۔ ڈاکٹرز کے مطابق لاش پر بظاہر کوئی نشان نہیں اور نہ ہی ان کی موت کا سبب فوری طور پر معلوم ہو سکا ہے۔

72 سالہ حسن ظفر عارف کی لاش آج دوپہر کراچی شرقی کے علاقے ابراہیم حیدری کی الیاس گوٹھ میں کھڑی ایک کار کی پچھلی سیٹ سے ملی تھی۔

ابراہیم حیدری کے ایس ایچ او انسپکٹر نذیر چانڈیو کے مطابق لاش کی شناخت اور اس کی جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ سے ہوئی۔

حسن ظفرعارف ڈیفنس کراچی کے رہنے والے تھے، انہوں نے اگست 2016 میں بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریراور ایم کیو ایم پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ لندن کے لیے پاکستان میں نمائندگی شروع کی تھی، جس پر انہیں حراست میں بھی لے لیا گیا تھا اور انہیں کچھ عرصہ جیل میں رہنا پڑا۔

گزشتہ سال سے حسن ظفر عارف گوکہ ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر کہلائے جاتے تھے لیکن وہ سیاسی طور پر متحرک نہیں تھے۔

ایم کیو ایم لندن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور انہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔

حسن ظفر عارف کی میت ابراہیم حیدری سے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کردی گئی ہے جہاں ڈاکٹر ان کا پوسٹ مارٹم کررہے۔

ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم سے قبل لاش کا معائنہ کرنے کے بعد حسن ظفر عارف کو قتل کئے جانے کے امکان کو رد کیا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق پوسٹ مارٹم کرکے لاش کے اجزاء لیباٹری ٹیسٹ کے لیے روانہ کیے جائیں گے۔ کیمیکل ایگزامنر کی حتمی رپورٹ کے بعد حسن ظفر عارف کی موت کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔