| |
Home Page
ہفتہ 2؍ جمادی الاوّل 1439ھ 20 ؍ جنوری2018ء
January 14, 2018 | 03:39 pm

کراچی میں 6 منزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت

Allowed To Six Floor Buildings In Karachi

Allowed To Six Floor Buildings In Karachi

سپریم کورٹ نے کراچی کے بلڈرز کو 6منزلہ تک کی عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دے دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ اس شہر سے ٹینکر مافیا کا خاتمہ کردیں گے، اپنے فیصلوں پر خود عمل درآمد کرائیں گے۔

سپریم کورٹ کراچی میں چھٹی کے دن کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 6منزلہ سےزیادہ تعمیر کی جانے عمارت کی بکنگ کی بھی اجازت نہیں ہوگی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو بلڈر خلاف ورزی کرے گا اسے کہیں گے گھر سے بستر منگوالے، ایک بلڈر کو جیل بھیجیں گے تو سب کو سبق مل جائے گا۔

سماعت کے موقع پر فہیم الزمان نے کہا کہ بلڈرز صرف کروڑوں کے فلیٹ ہی بناتے ہیں، بلڈرز غریبوں کےلیے ہاؤسنگ اسکیم کیوں نہیں بناتے ہیں؟

پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹس میں ہمیں مت الجھائیں، یہ بتائیں کہ اس شہر میں پانی کی کمی کیوں ہے، سیدھا بتایا جائے کہ منصوبے پر عمل کب ہوگا۔

اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے علاقے کچی آبادیاں ہیں، جہاں لائنیں نہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پانی کی کمی ٹینکرز سے کیوں پوری ہوتی ہے، چلیں پینے کے پانی کو چھوڑیں، استعمال کا پانی ٹینکرز سے کیوں پورا ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ذمہ داری ادا نہیں کر رہے تو عہدہ چھوڑ دیں، اگر اختیار نہیں یا ناکام ہیں تو کوئی بات نہیں، ٹینکرز مافیا سے نمٹنا ہمارا کام ہے، اگر وہ ہڑتال کریں گے تو ان سے ہم نمٹ لیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے میئر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مسائل حل کرنا آپ کی بھی ذمے داری ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت میں بتایا کہ شہر میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں تین تین ماہ پانی نہیں آتاہے، لوگ بتاتے ہیں کہ تین ماہ سے نہائے نہیں ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میئر کراچی جھوٹ کیوں بولیں گےجو انہوں نے کہا ہے وہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی سے ٹینکرز مافیا کا خاتمہ کر دیں گے، دو ماہ لگیں یا تین ماہ میں ہر صورت ٹینکرز مافیا کا خاتمہ کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ خدا کا خوف کریں، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اپنے فیصلوں پر خود عمل درآمد کرائیں گے۔