| |
Home Page
ہفتہ 7؍ جمادی الثانی 1439ھ 24؍ فروری 2018ء
February 14, 2018 | 12:18 pm

آمدن سے زائد اثاثے: تفتیشی افسرکا بیان آج بھی ریکارڈ نہ ہوسکا

Asset Reference Case Proceedings Postponed Till February 23

Asset Reference Case Proceedings Postponed Till February 23

اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے ریفرنس میں نیب کےتفتیشی افسر نادر عباس کا بیان آج بھی قلم بند نہ ہو سکا ۔ تفتیشی افسر نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کے لیے مہلت مانگ لی جبکہ سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔


اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس کا بیان ریکارڈجبکہ اسحاق ڈارکی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ بھی سنایا جانا تھا۔

آج عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا تھا۔

آج سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس عدالت میں پیش ہوئے اور ضمنی ریفرنس دائر کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسر کے علاوہ صرف ایک گواہ انعام الحق باقی ہے جس کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'گواہ کی طبیعت خراب تھی، لیکن اب وہ بہتر ہے مگر اس کے باوجود پیش نہیں ہوا۔

پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 'گواہ کو طلب کیا جائے، بےشک عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کر دے۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے گواہ انعام الحق کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'استغاثہ کے گواہ کو پیش ہونے کے لیے آخری موقع دے رہے ہیں۔

عدالت نے گواہ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ 'بہتر ہوگا کہ ضمنی ریفرنس کے بعد ایک ہی بار تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کر لیا جائے۔

بعدازاں اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔