• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
, ,

وزیراعلیٰ بزدار کیلئے گڈ گورننس قائم کرنا بہت بڑا چیلنج

پاکستان تحریک انصاف نے آخری معرکہ بھی مار لیا ،صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو شاندار فتح دلاکر پی ٹی آئی نے تاریخ رقم کردی ہے ۔اب دعوے پورے کرنے کا وقت شروع ہو چکا ہے ۔چونکہ پاکستان تحریک انصاف کرپشن کیخلاف جنگ اور سسٹم میں تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے میدان میں اتری اور طویل جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی ہی تقریر میں عوامی توقعات کو عروج پر پہنچادیا۔کپتان نے جو باتیں کیں، وہ دل سے نکلیں اور دل میں اتر گئیں،حلف اٹھانے کے بعد اصل امتحان شروع ہوا،کفایت شعاری کی مہم کا اعلان کیا تو اس پر عمل درآمد بھی شروع ہوا،اپوزیشن کی طرف سے اس خلوص میں ملاوٹ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ،سب سے اہم معرکہ پنجاب میں حکومت سازی اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب تھا،کئی نام چند روز تک گردش میں رہے،پھر اچانک ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا کہ جس کی کوئی توقع نہیں کررہا تھا،عثمان بزدار کا دودور تک کہیں ذکر تک نہیں تھا،بہرحال کپتان کا فیصلہ تھا، ہر کھلاڑی نے قبول کیا،پنجاب میں کابینہ کی تشکیل سے قبل ہی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی کی ذاتیات کے حوالے گھڑے مردے اکھاڑنے کی بھی کوشش ہوئی، یہ تاثر دینے والوں کی بھی کمی نہیں تھی کہ سردار عثمان بزدار ایک ڈمی وزیر اعلیٰ ہونگے اور معاملات پی ٹی آئی کی قیادت میں موجود دیگر سینئرز چلائیں گے،آگے چل کر جہانگیر ترین کے کیسز سے کلیئر ہونے اور پنجاب کی کمان سنبھالنے کی باتیں بھی ہوئیں، وزیر اعلٰی سردار عثمان بزدار کی کابینہ مکمل ہوئی تو عملی اقدامات کاسلسلہ شروع ہوا، مختلف وزارتوں میں گڈ گورننس کے ابتدائی نقوش تراشنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے لاہور کا رخ کیا تو کئی چیزیں ایسی دیکھنے میں آئیں جیسے کہ سردار عثمان بزدار کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوتی نظر آئیں،کپتان نے ایک بار پھر کھل کر ان کی صلاحیتوں اور نیک نیتی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ،اندر کی خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے پہلے سرکاری لاہور کے حالیہ دورے میں عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہو ئی تھی جس کے دوران وزیر اعظم نے پنجاب حکومت کی کارکر دگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم عمران خان لاہور ائیر پورٹ پہنچے تو خصوصی ہدایت تھی کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ا ہی ان کا استقبال کریں گے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے صوبائی کابینہ کے ارکان کو ائیر پورٹ آنے سے منع کر دیا تھا چونکہ وزیر اعلیٰ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلیٰ سردار عثمان احمد بزدار کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس کے دوران پنجاب میں وزرا کی کارکردگی ، پولیس اصلاحات ، نئے بلدیاتی نظام، صدارتی انتخابات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سردار عثمان احمد بزدار نے وزیر اعظم کو صوبائی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر وزیر اعظم نے اطمینان اور سردار عثمان بزدار پر مکمل اعتماد کا ظہار کیا اور کہا کہ عوام کی خدمت کے لئے وفاقی حکومت ہر طرح صوبائی حکومت سے تعاون کرے گی۔ ذرائع کا یہ بھی بتانا تھا کہ عمراں خان نے سب کو واضح کردیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار پر اعتماد کرتے ہیں ۔اور ان کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ اور یہ بات ضرور واضح ہوگئی کہ مضبوط اپوزیشن کی وجہ سے پنجاب میں حکمرانی کے مشکل سفر میں کپتان کا اپنے کھلاڑی پر اعتماد برقرار ہے،اس صورتحال میں شاید ان سینئرز کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی ہوگی جو خود کو پنجاب کا چوہدری سمجھنے کی غلط فہمی میں تھے۔بہرحال پی ٹی آئی کو وفاق اور پنجاب میں اپنے دعووں کی سچائی ثابت کرنے کا چیلنج درپش ہے،ہر گزرتے دن کیساتھ 100روزہ پلان کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ فی الحال بات کفایت شعاری،سادگی،گڈگورننس کی پلاننگ اور میٹنگز تک محدود ہے، صرف شجرکاری مہم کا عملی آغاز ہوا ہے، کئی بڑے اور اہم اقدامات اٹھانے کیلئے بیوروکریسی کو نئی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے کیساتھ مالی وسائل کی بھی اشد ضرورت ہوگی، معیشت میں سدھار لائے بغیر کسی بھی منصوبے کو مکمل کرنے کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، سیاسی محاذپر پی ٹی آئی کی جدوجہد فی الحال ختم ہوچکی،منتشر اپوزیشن نے مشترکہ امیدوار پر اتفاق نہ کرتے ہوئے اپنی شکست پر خود ہی مہر لگادی،یوں حکومت سازی کے عمل میں آخری رکاوٹ بھی پی ٹی آئی کی راہ سے ہٹ گئی،اگلے محاذ پر حکمران جماعت کا خود سے ہی مقابلہ ہے،گڈ گورننس کی جھلک نظر نہ آئی تو مضبوط اپوزیشن اور عوام دونوں آڑے ہاتھوں لیں گے، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ہیلی کاپٹر کا استعمال اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا بنادیا گیا،اگر واقعی بڑی غلطیاں ہوئیں تو بڑا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا،وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کی زبان سے پھسلنے والے الفاظ پر ردعمل اس کی ایک مثال ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان اقتدار سے قبل ہرطرح کے حالات کے حوالے سے بات کرنے کے ماہر جانے جاتے ہیں لیکن معلوم نہیں اب کیا ہوا ہے کہ انہیں بار بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ۔کچھ یار دوستوں کا کہنا ہے کہ انہیں نظر لگ گئی ہے ۔فیاض الحسن ایک ایماندار رکن اسمبلی ہیں۔ لیکن خدشہ ہے کہیں ایسا نہ ہو ان کی صاف گوئی ان کے لیے نقصان دہ ہو جائے۔فیاض الحسن چوہان کو کچھ تو کنٹرول کرنا ہی ہوگا ۔یار دوستوں کا کہنا کہ ان کو ایک عدد مخلص مشیر کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترین