• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اسلام

ابھی ہم دفتر سےگھر نہیں پہنچے تھے بلکہ گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ محلے کے بچوں نے کورس کے انداز میں نعرے لگانا شروع کردیئے۔ ’’آگئی ، آگئی ، آگئی ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ ہم دفتر سے مذکر چلے تھے بچوں نے ہمیں مونث کیوں کر باور کرلیا، پھر ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارے گلی میں داخل ہوتے ہی بجلی کی سپلائی بحال ہوئی ہے، جس کی وجہ سے بچے خوشی سےنعرے مار رہے ہیں۔ ہماری قوم کے بچے ایسی ہزاروں خوشیاں روزانہ اور بعض اوقات دن میں کئی کئی بار سمیٹتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کے بس کی بات نہیں۔ یہ ادارہ اب محض بچوں کو خوش کرنے کا فریضہ انجام دے رہاہے ۔ ہم اورہماری عمر کے بچے آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے بڑے ہوگئے۔ بچپن گزرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم آنکھ مچولی کھیلنے سے محروم ہوگئے ہیں، لیکن کے الیکٹرک عمر میں کہیں ہم سے بڑے ہیں لیکن اپنی طویل عمری کے باوجود اب بھی آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور اپنی طفلانہ حرکتوں سے بڑے بڑوں کو تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں۔ 

موسم کوئی بھی ہو ان کی کارکردگی اللہ ماشاء اللہ ہوتی ہے لیکن گرمی کے موسم میں یہ بالکل اسی طرح ڈھیر ہوجاتے ہیں، جس طرح کوئی بدمست ہاتھی ، اگر گرمی کا جواز تسلیم کرلیا جائے تو پوری دنیا میں موسم گرما میں بجلی کی سپلائی منقطع ہونی چاہئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ واپڈا اور کے الیکٹرک سفید ہاتھی ہیں۔ کچھ لوگ پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور ریلوے وغیرہ کو بھی سفید ہاتھی قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ کا ہاتھیوں سے واسطہ پڑا ہو تو یقیناً، پھر آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ ہاتھیوں کا سالانہ بجٹ اتنا نہیں، جتنا ان اداروں کا ہے۔ ہاتھی کبھی بھی اتنا نہیں کھاتے جتنا سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کھا جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے۔ اگر بجلی دن میں جائے تو خیر ہے اور ا گر رات میں جائے تو شب باخیر نہیں رہتی۔ رات کی نیندیں چرا کر لے جاتی ہے۔ لوڈ شیڈنگ اعلانیہ یا غیراعلانیہ ہو یا کوئی اور سبب ہو ، بجلی کا بار بار جانا لوگوں کو سخت ناگوار گزرتا ہے۔

بقول ساحر لدھیانوی

ٹھکرا نہ دیں کہیں بے دلی سے دنیا ہم کو

کے مصداق ایک صاحب ہاتھ اٹھا اٹھا کر یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ،

یا اللہ بجلی بار بار جانے کے بجائے ہمیشہ کے لئے چلی جائے، ان کا نظریہ ہے کہ آخر لوگ اس وقت بھی تو رہتے تھے جب بجلی نہیں تھی، دیئے کی روشنی میں پڑھتے تھے اور عالم بن جاتے تھے۔

اگر بجلی رات بھر غائب رہے تو بہت سے طالب علموں کی شامت آجاتی ہے کسی طالبہ کو یہ ڈر لاحق ہوتا ہے کہ اگر وہ اسکول گئی تو مس پوچھیں گی کہ، بغیر استری کا یونیفارم کیوں پہن کر آئی ہو، کسی بچے کو ہوم ورک کا ڈرہوتاہے،یو ں بیشتر بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔

کنڈا سسٹم کے بارے میں دو متضاد نظریات ہیں بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ، کے اس ادارے کےبعض اہلکاروں نے کنڈ ا سسٹم متعارف کرایا تھا، جبکہ ان کے حکام کا کہنا ہے کہ غریب عوام، اس کے خالق ہیں۔ بہرحال کنڈا سٹم کسی کی بھی دریافت ہو لیکن فائدہ دونوں فریقوں کو پہنچتاہے۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد صارف کو بجلی کا بل تھمادیا جاتا ہے جو اکثر زائد ہوتا ہے، جسے درست کرنے کے لئے کے الیکٹرک ایک بار پھر اپنی ’’خدمات‘‘ پیش کرتے ہیں لیکن خدمت تو ان کی بھی کرنی پڑتی ہے۔

تازہ ترین