آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
نہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مولوی مشتاق ہیں نہ ہی عمران خان ذوالفقار علی بھٹو، پھر بھی نہ جانے کیوں وقت کے پرانے گنبد سے یہ سوال باز گشت بن کر ذہن سے ٹکرانے لگا ہے ”مولوی مشتاق کسے یاد ہے؟“۔
مولوی مشتاق محض ایک جج کا نام نہیں۔ پاکستان کے اکثر لوگوں کے ساتھ ایک سلوک کا نام ہے۔ تاریخ کے گالوں پر ایک تھپڑ کا نام ہے۔ یاد ہے ملک کے منتخب اور تاریخ کے متنازع لیکن مقبول ترین وزیر اعظم کی پنجاب ہائی کورٹ میں قتل کے مقدمے میں پیشیاں اور پیشیوں کے دوران مولوی مشتاق کا رویہ بھٹو کے ساتھ جلّادوں سے بھی برا تھا۔ یاد رہے ایک ایسے ہی موقع پر چیف جسٹس مولوی مشتاق نے فائل بھٹو کے وکیل ایم ڈی اعوان کے منہ پر دے ماری تھی! بھٹو کو نام کا مسلمان کہا گیا اور اس کے عقیدے کے متعلق بھی سوال اٹھائے گئے۔ وہ سلوک جو ایک وزیر اعظم تو درکنار ایک پاکستانی شہری اور ایک ملزم سے ہونا چاہئے تھا مولوی مشتاق جیسے جج نے وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو سے گوارا نہیں کیا تھا۔
کبھی نہیں ہوا کہ اوریجنل حدود اربع والی عدالت یا ٹرائل سیشن عدالت کے بجائے قتل کا مقدمہ براہ راست ہائیکورٹ میں چلایا جائے بھٹو کے کیس میں ان کے ساتھ یہی ہوا کہ ایمرجنسی میں لاہور ہائیکورٹ میں متعین کردہ جج مولوی مشتاق حسین نے مقدمہ سیشن عدالت سے لاہور ہائیکورٹ منتقل

کرنے کا حکم دیا اور جو بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ سننے والی بنچ تشکیل دی گئی تھی اس کے سربراہ چیف جسٹس مولوی مشتاق خود تھے۔
مولوی مشتاق اور بھٹو کے درمیان مخاصمت بہت پرانی تھی جب انیس سو ساٹھ کی دہائی کی شروعات میں بھٹو ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تھے اور مولوی مشتاق مرکزی حکومت میں سیکرٹری قانون۔جب بھٹو وزیر اعظم انیس سو اکہتر میں اقتدار میں آئے تو انہوں نے مولوی مشتاق کو لاہور ہائیکورٹ میں ترقی دینے سے انکار کیا تھا۔ مولوی مشتاق جو خود بھی بھٹو کی طرح دشمن کو معاف نہ کرنے والا اور انتقام پسند تھا، اس نے بھٹو کو کبھی معاف نہیں کیا۔
جنرل ضیاء جو مولوی مشتاق اور بھٹو کے درمیان اس بیر کے متعلق سب جانتے تھے اور جن کی خود چھ سینئر جنریلوں کو نظرانداز کر کر چیف آف دی آرمی اسٹاف کے عہدے پرترقی دالونے والے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل جیلانی تھے (جو بعد میں پنجاب کے گورنر اور شریف خاندان کے اصل محسن اور ان کو سیاست میں لانے والے بھی بنے) نے بھٹو حکومت کے دھڑن تختہ کرنے کے بعد مولوی مشتاق حسین کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تقرری کے احکام دیئے۔ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کے نایاب موتی کے ایم صمدانی نے جب بھٹو کی ضمانت کی درخواست منظور کردی تو مولوی مشتاق حسین نے بھٹو کا مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے اور خود کو اس بنچ کا سربراہ مقرر کیا، باقی سب تاریخ ہے۔
اصل میں پاکستان کی بدقسمتی چار اپریل انیس سو نواسی کو نہیں اٹھارہ مارچ انیس سو اٹھہترکو شروع ہوتی ہے جب مولوی مشتاق کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی تھی۔ لاطینی امریکی مصنف فرینک سناؤتھ نے اپنی کتاب دی لاسٹ کال میں لکھا ہے کہ بھٹو کو سزا دینے والی کورٹ نے فیصلہ کسی کاؤ بوائے کورٹ کی طرح سنایا۔ بھٹو نے خود سپریم کورٹ اپنی سزا پر نظرثانی کی سماعت کے دوران اپنے چار دنوں تک محیط دفاعی بیان میں اسے جہان خانی انصاف کہا تھا۔”مائی لارڈ ہم سندھی میں اس کو جہان خانی انصاف کہتے ہیں“۔ بھٹو نے کہا تھا۔وہ سوجے ہوئے مسوڑوں کے باوجود چار دن تک سپریم کورٹ سے مخاطب رہے تھے۔ اس سے قبل وہ کئی راتیں نہیں سو سکے تھے کہ ان کے جیل کے سیل کے آگے چریا وارڈ سے لاکر پچاس پاگل چھوڑ دئیے گئے تھے جو ساری رات شور مچاتے رہتے اور ان کے سیل کی چھت پر پتھر پھینکے جاتے۔ خواجہ غلام فرید کی درداں دی ماری دلڑی علیل ہے سے لیکر مغربی ادب سے لیکر خلیفہ ہارون الرشید کی دربار تک کے قصے بھٹو نے اپنی اس دفاعی تقریر میں بیان کئے تھے۔ بھٹو نے اسی موقع پر کہا تھا کہ ایس ایچ او عبدالحئی نیازی اگر جسٹس شفیع ٹربیونل کے سامنے ایک بیان دیکر دوسری جگہ مکر جاتا ہے تو اس کا بھی تعلق میرے (بھٹو کے) دور حکومت کے سماجی حالات سے جوڑا جاتا ہے۔ بھٹو جو کچھ بھی تھا لیکن بھٹو جیسے سیاستدان و لیڈر کی نظر پریس فوٹوگرافر کی کیمرے کی طرف نہیں بلکہ مورخ کے ہاتھ میں قلم پر تھی۔ اس نے اٹھہتر میں لکھا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس سے لگتا ہے کہ ہمارا مادر وطن ویتنام سے بھی بہت بڑا میدان جنگ بننے جا رہا ہے۔اسی اخبار کے صفحات میں کئی برس قبل پیر علی محمد راشدی جیسے زمانہ روزگار ادیب و کالم نگار نے اپنے کالم مشرق و مغرب میں بھٹو پر لکھا تھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھٹو جیسے شخص کو نگلنا ایسا مشکل ہوگا جیسے بارہ سنگھے کیلئے اژدہے کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ مجھے تب بھی یاد آیا جب پاکستان کے چیف جسٹس نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کے دوران اپنے ریمارکس میں ایک موقع پر کہا ذوالفقار علی بھٹو یاد ہے؟ توہین عدالت کا قانون جو شاید انگلش کامن لا میں پاکستان، انڈیا ، برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ میں لاگو ہوا تھا وہ سب سے پہلے آٹھویں صدی عیسوی میں بادشاہ ہنری اوّل کے زمانے میں لاگو ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو ایک اجتماعی یادگیری بن چکا ہے لیکن میں نے سوچا مولوی مشتاق کسے یاد ہے۔ سوائے احمد رضا قصوری اورگجرات کے چوہدری خاندان کے جنہوں نے وہ قلم سنبھال کر رکھا تھا جس سے مولوی مشتاق نے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے پر دستخط کئے تھے۔ مولوی مشتاق اس حملے میں زخمی ہوکر اپاہج ہوئے تھے جس میں چوہدری ظہور الٰہی قتل ہوگئے تھے۔ یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایسی کارروائی لاہور کے قریب الذولفقار والوں نے کی تھی کہ سکھوں کے تربیتی کیمپ چلانے والے مال پر لڑائی کا شاخسانہ۔
لیکن جو مولوی مشتاق کے ساتھ ہوا کئی بھٹو کے عاشقوں کیلئے صوفی اسے مکافات عمل کہتے ہیں۔ بھٹو نے تو کہا تھا کہ مولوی مشتاق ان کے کیس میں تمام ہدایات ضیاء الحق سے حاصل کرتے تھے۔ کیا یہ مکافات عمل تھا کہ محض تاریخ کے اتفاقات کہ قصور میں عظیم صوفی بلہے شاہ کا جنازہ نہ پڑھنے کا فتویٰ دینے والے، بھگت سنگھ کی پھانسی کی نگرانی کرنے والے مجسٹریٹ اور بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمہ چلانے والے بقول ڈرامہ، بلھا کے مصنف کے، سب ایک ہی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ نواب محمد احمد لاہور میں راوی کے کنارے بالکل اس جگہ قتل ہوا جہاں بھگت سنگھ کو پھانسی ہوئی تھی۔ بھگت سنگھ کے پھانسی پر اختلافی نوٹ لکھنے والے مجسٹریٹ آغا علی حیدر کا تعلق سندھ سے تھا۔ جنرل ضیاء اور مولوی مشتاق میں بھٹو دشمنی کے علاوہ ایک اور قدر مشترک دونوں کا جالندھری ہونا تھا۔ عمران خان کے رشتہ داروں میں بھی کئی جالندھری ہیں۔
بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے والے بنچ کے سربراہ مولوی مشتاق کے جنازے پر مکھیوں کے چھتے نے حملہ کردیا اسے بھی بھٹو کے چاہنے والے مکافات عمل کہتے ہیں۔
یہ بھی تاریخ کا کیسا اتفاق ہے کہ بھٹو کو ہٹلر، نام کا مسلمان اور نہ جانے کیا کیا کہنے والا استغاثہ وکیل اعجاز بٹالوی (جس کا ذکر قرت العین حیدر نے اپنے دوست کے طور پر اپنی سوانح عمری میں کیا ہے) نواز شریف کا دفاعی وکیل تھا ،گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر ڈکنسن کی مثال کہ جنٹلمین بے عزتی محسوس نہیں کرتے کے جواب میں بھٹو نے کہا تھا جنٹلمین ہی بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔
عمران خان کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیا کریں معافی مانگ لیں یا نہ مانگیں مگر حقیقت یہی ہے کہ گلیلو کے چرچ سے معافی مانگنے کے باوجود زمین سورج کے گرد چکر لگاتی رہی تھی، زمین سورج کے گرد چکر لگاتی رہے گی۔