آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم نے اِس بار یومِ آزادی اِس کیفیت میں منایا کہ مختلف شہروں میں ہلالی پرچم لہرا رہے تھے اور جوانوں میں بہت جوش و خروش پایا جاتا تھا جبکہ دہشت گردی کے سائے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے اندیشے بہت گہرے ہو گئے تھے۔ دراصل ڈیرہ اسماعیل خاں میں جیل توڑنے کے واقعے اور کوئٹہ میں پولیس لائنز کے اندر ایس ایچ او کی نمازِ جنازہ کے موقع پر خود کش حملے میں اعلیٰ پولیس افسروں اور چیلاس میں اعلیٰ فوجی اور سول افسروں کی شہادت نے پورے ملک میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہمارے وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خاں پوری صورتِ حال کا جائزہ لینے کوئٹہ پہنچے اور اُنہوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس اور بعد ازاں اپنی طویل پریس کانفرنس میں بعض اہم اعلانات اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ واضح اشارے کیے ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے قلع قمع میں بڑی سنجیدہ ہے اور ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کرنے چلی ہے۔
یہ الگ بات کہ بعض قومی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر بڑے معاملے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ قومی سلامتی کی ایک پالیسی پارلیمنٹ نے 2008ء میں طے کی تھی جسے تھری ڈی سے موسوم کیا گیا تھا یعنی ڈویلپمنٹ، ڈائیلاگ اور ڈیٹرنس۔ مقصد یہ تھا کہ پہلے مرحلے میں

پسماندہ علاقے ڈیویلپ کیے جائیں اور دوسرے مرحلے میں مذہبی جنگجووٴں سے مذاکرات کیے جائیں۔ناکامی کی صورت میں آخری چارہ کار کے طور پر طاقت استعمال کی جائے  مگر واقعات کی رفتار اِس قدر تیز ہو گئی تھی کہ عوام کی بھرپور حمایت سے فوج نے سوات میں آپریشن کر کے اِس علاقے میں ریاستی رِٹ بحال کی اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے تھے۔
فوج اور ایف سی نے دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے ساتھ ساتھ فاٹا اور بلوچستان میں بہت سارے ترقیاتی کام بھی کیے۔ سڑکیں بنائیں  ہسپتال تعمیر کیے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر تعمیر کیا جبکہ ہمارے سیاست دان اور مذہبی جماعتیں طالبان کے بارے میں یکسوئی کا مظاہرہ نہ کر سکیں۔ ایک مکتبہٴ فکر یہ کہتا رہا کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم پر مسلط کر دی ہے اور طالبان افغانستان میں غیر ملکی غاصبوں کے خلاف برسرِپیکار ہیں  اِس لیے اتحادی افواج کے انخلا ہی سے امن قائم ہو سکتا ہے اور اِس حوالے سے طالبان سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرا مکتبہٴ فکر اِس خیال کا حامی تھا کہ پاکستانی طالبان پاکستان کے آئین  اُس کی ریاست  اُس کی جمہوریت اور خواتین کی جدید تعلیم کو غیراسلامی قرار دیتے ہیں اور بموں اور خودکش حملوں کے ذریعے چالیس ہزار سے زائد شہریوں اور پانچ ہزار سے زائد فوجی افسروں اور جوانوں کو شہید اور پچاس ارب ڈالر سے زائد کا انفراسٹرکچر تباہ کر چکے ہیں  اُن کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ اُن کے آگے سرنڈر کرنے کے مترادف ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اِس ناسور سے نبردآزما ہونے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی  کیونکہ اُسے ملک اور عوام کے مقابلے میں کرپشن کے طے شدہ مالی اہداف کا حصول زیادہ اہم تھا  چنانچہ مہران گیٹ اور ایبٹ آباد آپریشن جیسے حادثات رونما ہوئے اور ہماری قومی آزادی اور خودمختاری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے رہے۔ ڈرون حملوں کے بارے میں بھی قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وکی لیکس کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکی سفیر سے یہی کہتے رہے کہ آپ ڈرون حملے کرتے رہیں اور ہم اُن کے خلاف بیان دیتے رہیں گے۔ اِس منافقانہ خارجہ پالیسی نے دہشت گردی کو تقویت پہنچائی جس کے باعث ملک میں غیر یقینی صورتِ حال کا زہر پھیلتا چلا گیا۔
نئی منتخب حکومت کو طالبان کی دہشت گردی کے علاوہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے پُرتشدد واقعات ورثے میں ملے ہیں جن کی تباہ کاری اور خونخواری میں شدت آتی جا رہی ہے۔ گاہے گاہے ایسا محسوس ہوتا رہا کہ پولیس، رینجرز اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے اعصاب جواب دیتے جا رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خاں کی جیل کے واقعات ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں سیکورٹی فورسز یا خوف زدہ ہیں یا اُن کے سامنے ہتھیار پھینک چکی ہیں یا اُن کے حلقہٴ اثر میں آگئی ہیں۔ کوئٹہ کے حادثات نے اِس حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا کہ ہمارے سیکورٹی نظام کے اندر بڑے بڑے سقم پائے جاتے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ نومنتخب حکومت قومی سلامتی پالیسی کو حتمی شکل دینے میں اب زیادہ وقت نہیں لے گی۔ دراصل ایبٹ آباد کمیشن نے پورے مرض کی صحیح تشخیص کی ہے اور قومی سلامتی کی حکمت ِعملی کے خدوخال بڑی حد تک متعین کر دیے ہیں۔ اِس کے علاوہ قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی نے نہایت اچھی سفارشات مرتب کی ہیں جن کی روشنی میں فوری طور پر ایک لائحہ عمل وضع کیا جا سکتا ہے۔ اب اصل مسئلہ ہوشمندی اور اجتماعی دانش سے کام لینے کا ہے۔ تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات اِس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومتی سطح پر تقسیم کار کا ایک اعلیٰ نظام قائم کیا جائے اور وزیراعظم سارا بوجھ خود اُٹھانے کے بجائے وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع کا تقرر عمل میں لائیں تاکہ وہ پوری توجہ اور انہماک سے دہشت گردی کے عفریت کو قابو میں لانے کی موٴثر تجویز کر سکیں۔ اِس وقت سول اور فوجی قیادت میں مشاورت کا ایک ہی فورم ہے جسے آئین میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اِس کمیٹی کے گزشتہ پانچ برسوں میں فقط پانچ سات مختصر اجلاس ہوئے جن میں قومی اہمیت کے فیصلے نہیں کیے جا سکے۔ نئی حکومت کو آئے دو ماہ سے زائد ہو چکے ہیں جن میں بڑے بڑے ہولناک واقعات پیش آئے ہیں  مگر اِ س اہم کمیٹی کا اجلاس فوری طلب نہیں کیا گیا۔ اِس کی افادیت اِسی وقت قائم ہو سکے گی جب اِس کا ایک مستقل سیکرٹریٹ ہو گا جس میں پروفیشنل دن رات کام کریں اور اُٹھنے والے مسائل کی پیش بندی کا عمل جاری رکھیں۔
نئی حکومت سے عوام نے بجا طور پر توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور اِس کی عمدہ کارکردگی پر پاکستان کے مستقبل کا انحصار ہے  مگر لوگ یوں محسوس کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم اَن گنت مسائل میں گم ہو گئے ہیں اور بیشتر وزرائے کرام اپنی ذمے داریوں پر توجہ دینے کے بجائے پوری حکومت کو چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اخبارات میں آ رہا ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اپنے وزارتی فرائض پر جم کر توجہ دینے کے بجائے سیاسی معاملات طے کرنے میں بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں۔آج سب سے بڑی ضرورت سیکورٹی فورسز کے اصل مسائل پر بھرپور توجہ دینے  اُنہیں اچھا ماحول فراہم کرنے اُنہیں جدید قیمتی اسلحے سے لیس کرنے اور قومی معاملات میں پوری اہمیت دینے اور پوری یکسوئی کے ساتھ ملک دشمن عناصر کے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑنے کی ہے۔اُن کا مورال بلند رکھنے اور اُنہیں عوام کی حمایت فراہم کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اہم ترین کردار ادا کرنا ہو گا۔
اگر علیحدگی پسند بلوچوں اور گمراہ مذہبی عناصر کو مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی بند کرنے پر آمادہ کیا جا سکے تو ان کوششوں کو جلد سے جلد ایک واضح رُخ دیا جائے ورنہ قوم اور فوج اُن کے قلع قمع پر یکسو نظر آتی ہیں۔ اِس معاملے کا ایک وسیع تر پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اسلامی شعائر کا جو مذاق اُڑایا جا رہا ہے اور قانون کے بجائے طاقتور افراد بڑی ڈھٹائی سے من مانی کرتے نظر آتے ہیں  اُن سے تعلیم یافتہ نوجوان بھی آمادہٴ بغاوت ہوتے جا رہے ہیں۔ حکمت ِعملی کا تقاضا ہے کہ اسلحے کے استعمال کے ساتھ ساتھ اِس تباہ کن خرابی کا علاج کرنے پر بہت زیادہ توجہ دی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں