• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ کامران فریدی کو 7 سال قید کی سزا

لندن (مرتضیٰ علی شاہ ) امریکی ایف بی آئی کے ایک اہم خفیہ ایجنٹ کراچی کے57سالہ کامران فریدی کو نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ نے گزشتہ سال دسمبر میں 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔ جج کیتھی سیبیل نے اپنے اس فیصلے کو اپنی زندگی کامشکل ترین فیصلہ قرار دیا تھا۔ جج نے کہا کہ اس مقدمے میں ایسے حقائق موجود تھے جو شاید ہم سب ہی نے اپنی زندگی میں دیکھے ہوں گے۔ انھوں نے یہ فیصلہ کراچی میں پیدا ہونے والے کامران فریدی کے ماضی کے واقعات جاننے کے بعد کیا۔ کامران فریدی کراچی کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا تھا اور بڑے بڑے جرائم کرتا تھا، بعد میں اس نے امریکہ کی خفیہ سروس میں شمولیت اختیار کرلی،پھر اس نے اپنے ہینڈلر سے بغاوت کردی اور اپنے3سابقہ ساتھیوں ایف بی آئی میں اس کے سپروائزر، ایف بی آئی کی انسداد دہشت گردی سے متعلق ٹاسک فورس کے افسر اور ایف بی آئی میں اپنے سابقہ ہینڈلر کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس نمائندے نے عدالتی کاغذات دیکھے اور کامران فریدی سے، جو نیویارک جیل میں قید ہے، ایک ایسے شخص کی غیر معمولی زندگی کو سمجھنے کیلئے جس نے کراچی میں طلبہ سیاست سے مجرمانہ زندگی اختیار کی تھی، بات کی۔ کامران فریدی کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے بلاک3میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ کامران فریدی نے بتایا کہ اس نے اسلحہ کی فروخت، لوگوں کو تاوان کیلئے اغوا کرنے، کاریں چوری کرنے اور مسلح حملے کرنے شروع کردیئے۔ جلد ہی مقامی پولیس اور سی آئی ڈی نے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے اس کے گھر والوں نے ایک انسانی اسمگلر کو رقم دے کر اسے سوئیڈن بھیج دیا، سویڈن میں فریدی خاموشی سے نہ رہ سکا اور جلد ہی مقامی البانیہ اور بنگلہ دیشی باشندوں کے گینگ سے اس کی لڑائی ہوگئی۔1992 میں پولیس نے اسے کئی مرتبہ گرفتار کیا، سویڈن حکومت نے اس کی بدکرداری کی وجہ سے اسے بلیک لسٹ کردیا اور اسے ویزا دینے سے انکار کردیا جس کے بعد اس کی حیثیت غیرقانونی تارک وطن کی حیثیت اختیار کرگیا اس نے ایک جزیرے پر روپوشی اختیار کی جہاں گرین پیس کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اس کی مدد کی اور فریدی کے مطابق اسے آئس لینڈ جانے کیلئے ایک جعلی پاسپورٹ دلوا دیا جہاں سے وہ امریکہ چلا گیا اور نیویارک میں نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کیا، 1994میں وہ جارجیا چلا گیا اور پرتشدد علاقے بینک ہیڈ ہائی وے پر ایک گیس اسٹیشن خرید لیا۔ فریدی نے بتایا کہ اٹلانٹا پولیس اسے رشوت کیلئے بار بار پریشان کرتی تھی، ان سے تنگ آکر اس نے ایف بی آئی کو اس کی اطلاع دیدی، اس طرح فریدی پہلی مرتبہ ایف بی آئی کے رابطے میں آیا، وہ ایف بی آئی کے جن ایجنٹس کے رابطے میں تھا، انھوں نے اس شرط پر کہ پہلے وہ ان کی مدد کرے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا، وہ اسے اردو بولنے والے ایک گینگ میں شامل کرانا چاہتے تھے جو مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے درد سر بنا ہوا تھا، ایف بی آئی نے اردو، پنجابی اور ہندی پر کامران فریدی کی مہارت کو دیکھتے ہوئے 1996میں اسے اپنا کل وقتی ایجنٹ بنا لیا، اپنے مجرمانہ ماضی کی وجہ سے فریدی نے ایف بی آئی کی تفتیش میں خوب مدد کی۔ سی آئی اے، ڈی ای اے اور برطانیہ کی ایم آئی6، فرانسیسی انٹیلی جنس، آسٹریا کی وفاقی پولیس، تھائی لینڈ کی وفاقی پولیس اور ملائیشیا کی قومی پولیس اسے تفتیش کیلئے اسائنمنٹ دینے لگے، اسے باقاعدگی کے ساتھ ان مشکلات کا سبب بننے والے علاقوں میں بھیجا جاتا تھا، جہاں کرمنل اور دہشتگردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہوتی، 1999میں پرویز مشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد اسے پاکستان بھیجنے سے پہلے امریکی حکام نے فریدی کے والدین کو امریکہ کے ویزے جاری کئے تاکہ وہ کراچی سے امریکہ پہنچ سکیں، یہ لوگ اب فلوریڈا کے علاقے ٹمپا میں رہائش پذیر ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے عدالت کو فریدی سے متعلق بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس نے کئی بڑے پیمانے کے دہشت گردی سے متعلق آپریشنز میں حصہ لیا اور اس نے دنیا کے انتہائی خطرناک گروپوں اور لوگوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں، فریدی نے مئی 2011میں ایف بی آئی کو خطرناک جنوبی ایشیائی کرمنل نیٹ ورکD گروپ کے خلاف تفتیش میں مدد دینا شروع کی۔ ان کی محنت سے ایف بی آئی کو ڈی کمپنی کی ساخت اورحربوں کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہوئیں اس نے پاکستان میں ایف بی آئی کیلئے ایسے ذرائع پیدا کئے جو اتنے کامیاب ثابت ہوئے کہ ایف بی آئی نے 2 مرتبہ اس کی فیملی کو دوسری جگہوں پر منتقل کیا،2014میں فریدی طویل المیعاد انسداد دہشت گردی کے اوورسیز نیٹ ورک کی تفتیش کا بنیادی ذریعہ بن گیا۔ امریکی حکومت کے مطابق کامران فریدی نے2015میں امریکہ، یورپ اور ایشیا سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلئے جنگ زدہ علاقوں میں جانے کی کوشش کرنے والے نیٹ ورک اور اس سے ملحق اسٹرکچر، کمیونی کیشن کے طریقہ کار، باہر سے حملوں کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کر کے درجنوں افراد کی گرفتتاری میں مدد دی، فریدی نے داعش کے ایک حامی اور ترکی میں قیام پزیر داعش کے رہنما ولید الآغا کے ساتھ ایک مشترکہ سیف ہائوس قائم کیا اور داعش کے حامیوں کو شام اور ترکی کے درمیان سفر کی سہولتیں فراہم کیں،2015میں ترکی میں الآغا کو سزا ہوگئی اور امریکی حکومت نے اس کو سزا دلوانے میں نمایاں کردار ادا کرنے کا کریڈٹ کامران فریدی کو دیا، مارچ 2018 کامران فریدی جنوبی افریقہ گیا، جہاں اس نے ایف بی آئی کی ہدایت پر ایک سپورٹ نیٹ ورک کی نشاندہی کی جو دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے والوں کو سفر کی سہولت مہیا کرتا تھا، کامران فریدی نے برازیل میں القاعدہ کے ایک سینئر رکن محمد احمد السید ابراہیم سے جو دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا، تعلقات قائم کئے، فریدی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ کو القاعدہ کے ایک دوسرے رکن ابوجعفر کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جو جبوتی اور یورپ کی بندرگاہوں پر امریکہ اور غیرملکی بحری جہازوں پر دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا، جب ابوجعفر نے ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں اسکوبا غوطہ زنی کی تربیت حاصل کی تو کامران فریدی اس کے ہمراہ تھا اور فریدی کی رپورٹ اور تعاون سے ایف بی آئی نے جولائی 2018,میں ابوجعفر کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا، کامران فریدی مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ تجارتی مواقع کی تلاش میں افریقہ گیا، افریقہ میں کامران فریدی نے متعدد دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ تعلقات قائم کئے جو دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ ایف بی آئی نے فریدی کو2016 اور اس کے بعد2019میں دہشت گردوں کے سینئر رہنمائوں سے رابطے کیلئے کئی مرتبہ جنوب مشرقی ایشیا بھیجا، فروری2019میں فریدی کے تعاون کے نتیجے میں ملائیشیا میں القاعدہ کے 2اکان کو گرفتار کیا گیا، امریکی حکومت کے مطابق اس نے کراچی کے تاجر جابر موتی والا کی گرفتاری کیلئے جال بچھایا، جابر موتی والا کو اگست 2018 میں دائود ابراہیم کا ساتھی ہونے اور ڈی کمپنی کیلئے منشیات، بھتہ جمع کرنے اور منی لانڈرنگ کے شبہے میں لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فریدی نے جابر موتی والا کی گرفتاری سے کم و بیش 8سال قبل کراچی، دبئی اور امریکہ میں ملاقاتوں کے دوران جابر موتی والا کا اعتماد حاصل کیا تھا۔ جابر موتی والا کی امریکہ حوالگی تقریباً یقینی تھی جب موتی والا ونڈز ورتھ جیل میں تھا لیکن کامران فریدی نے جابر موتی والا کےخلاف گواہی دینے سے انکار کردیا، گواہی کے کاغذات پر فریدی نے دستخط کرنے سے انکار کردیا، جس پرجابر موتی والا کے خلاف مقدمہ ختم ہوگیا، ایف بی آئی نے فروری2020میں فریدی کا کنٹریکٹ ختم کردیا۔ فریدی نے اس نمائندے کو تحریری طور پر بتایا کہ ایف بی آئی نے اس کو جابر موتی والا کے مقدمے میں ڈی کمپنی، دائود ابراہیم، چھوٹا شکیل، انیس بھائی اور انیس ٹنگو کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کیلئے کہا تھا۔ جابر موتی والا کے خلاف مقدمے سے ان سب کا تعلق تھا، اسے مبینہ طور پر ان لوگوں کے خلاف پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کیلئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کیلئے خریداری کے جھوٹے الزام پر بھی دستخط کرنے کیلئے کہا گیا تھا لیکن چونکہ میں پاکستان پر جھوٹے الزام نہیں لگانا چاہتا تھا اور رقم حاصل کرنے کیلئےجھوٹ نہیں بولنا چاہتا تھا، اس لئے میں نے انکار کردیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے حافظ سعید اور لشکر طیبہ کی مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ کنٹریکٹ ختم کئے جانے کے بعد فریدی نے ای میل پر مبینہ طور پر ایف بی آئی کے افسران کو قتل کی دھمکیاں دی تھیں۔ فریدی کا کہنا ہے کہ 17اور18فروری کے دوران میرے ہینڈلرز نے میرے ساتھ دھوکہ کیا جس پر میں برہم تھا۔ عداالت کو بتایا گیا تھا کہ فریدی کی اہلیہ کیلی کو کینسر تشخیص کیا گیا اور اس کو برطرف کئے جانے کی خبر سے اس پر انتہائی خراب اثرات مرتب ہوئے، امریکی حکومت کے دشمنوں نے بھی عدالت کو بتایا کہ فریدی نے 4-5 مشتبہ افراد کو بتا دیا تھا کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جج نے کہا کہ اگرچہ وہ اس سے متفق ہیں کہ فریدی نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کام میں رکاوٹ ڈالی لیکن فریدی نے امریکہ کیلئے نمایاں کام انجام دیئے ہیں۔ اس نے امریکہ کی خدمت کیلئے انتہائی زبردست خطرات مول لئے، جن کو مکمل طور پر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جج نے اسے 7سال کی سزا سنائی، اب جیل میں اسے توقع ہے کہ جج اس کی خدمات کومد نظر رکھتے ہوئے اس کی سزا میں تخفیف کردیں گی۔ اس نے کہا کہ میں نے دل وجان سے امریکہ کی خدمت کی ہے، اس نے بتایا کہ سزا ختم ہوتے ہی وہ پاکستان واپس چلا جائے گا۔
یورپ سے سے مزید