• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھارت کا مکروہ چہرہ پہچان چکی، کشمیر پر سیست نہیں ہوسکتی، قومی کشمیر کانفرنس

راولپنڈی (نمائندہ جنگ)پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی و مذہبی قیادت اور وکلاء نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے جس پر سیاست نہیں ہو سکتی، دنیا بھارت کا مکروہ چہرہ سمجھ چکی ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک اس خطے میں امن نہیں آسکتا، بھارتی فوج کے ریاستی ظلم انتہا پر ہونے کے باجود کشمیری اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان خیالات کا اظہار صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی زیرصدارت اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے زیر اہتمام ”قومی کشمیر کانفرنس“ سے خطاب کے دوران مقررین نے کیا، کانفرنس سے چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، سابق وفاقی وزیر اطلاعات و مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم، حریت کانفرنس کے رہنما یوسف نسیم، سپریم کورٹ بار کے صدر چوہدری احسن بھون، ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عبدالرازق نے بھی خطاب کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ کشمیر کی آزاردی کی بات پرہم سب ایک ہیں، دنیا سمجھ چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک اس خطہ میں امن نہیں آسکتا ،کشمیریوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب اس مسئلہ کا حل نکلنا چاہئے۔ ہمیں بین الاقوامی فورم پرجذباتی انداز اختیار کرنا ہوگا ۔کشمیر کمیٹی کے چیئر مین شہریار خان آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں حق خود ارادیت کا کہتی ہیں ، وزیراعظم پاکستان بتا رہے ہیں کہ کشمیر فلیش پوائنٹ ہوگا بھارت میں بیٹھا ایک شخص اقلیتوں کے لئے مسئلہ ہے، 5 اگست 2019 کے بعد کشمیر میں جنگی جرائم ہورہے ہے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کشمیر کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5اگست 2019 کو کشمیر پر شب خون مارا گیا، بھارتی فوج کے ریاستی ظلم انتہا پر ہونے کے باجود کشمیری اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے یہ فیصلہ ہو چکا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کرائے، سڑکوں کے نام تبدیل یا احتجاج کرکے کشمیر آزاد نہیں کرایا جا سکتا۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ کشمیر ایشو پر تمام سیاسی جماعتوں کا ایک موقف ہے ۔ اقوام متحدہ ڈکٹیٹ ہوتا ہے، یورپی یونین اور عرب لیگ اپنی بات کرتے ہیں، ایشیا کے ممالک اپنا ریجن بنا کر بات کیوں نہیں کرتے ہمیں بھی یورپی پارلیمنٹ کی طرح ایشین پارلیمنٹ کی ضرورت ہے، ۔جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ سید مودودی کی تربیت تھی کہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لانا ہے،56 مسلم ریاستیں بے حسی کا لبادہ اوڑھے ہیں ۔ کشمیریوں کی چیخ وپکار پر کب تک ہم بے حسی کی چادر اوڑھے سوتے رہیں گے ۔ حریت کا نفرنس کے رہنما یوسف نسیم نے کہا کہ بھارت 18 لاکھ فوج بھی لے آئے ہم سب شہید بھی ہوجائیں تب بھی بھارت سے کمپرومائز نہیں ہو سکتا ،شہید بے نظیر بھٹو کے دور کی کشمیر کمیٹی کے بعد آج تک ہم نے کسی کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ نہیں دیکھا ۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر دیگر سے مختلف ہے وادی کے لوگوں نے پاکستان سے الحاق کیا، عام آدمی سی پیک اور کشمیر کے معاملہ پر متفق ہے پاکستانی آواز کشمیریوں کو تقویت دے ۔ ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عبد الرازق نے کہا کہ بانی پاکستان نے فرمایا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس وقت یہ شہ رگ دشمن کے ہاتھ میں ہے ،ہم نے قومی قیادت کو یہاں اس لئے بلایا کہ دنیا کو ایک واضح پیغام دیں سکیں کہ ہم ایک ہیں۔
اسلام آباد سے مزید