• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے کوویڈ کے شکار اور شدید بیمار پڑنے کے زیادہ خطرات

لندن (پی اے) ایک بڑے ریویو میں پتہ چلا ہے کہ کچھ نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والےافراد کے کورونا وائرس کوویڈ 19 کا شکار اور شدید بیمار ہونے کے زیادہ خطرات ہیں۔ حکومت کی جاری کردہ کوویڈ ڈسپیریٹیز رپورٹ میں ہر پینڈامک کی لہر پرغور کیا گیا، جس میں سامنے آیا کہ بلیک اینڈ سائوتھ ایشین افراد ان میں شامل ہیں، جو پینڈامک سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور ان متاثرین کا تناسب شہروں میں محرومی کی بلند ترین سطح کے شکار افراد کے ساتھ سب سے زیادہ ہے۔ اس کی وجوہ انتہائی پیچیدہ ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو کورونا ویکسین لگوا کر زندگیاں بچائی جائیں گی۔ ماہرین کورونا ویکسن لگوانے کے اہل افراد، جنہوں نے اب تک کوئی خوراک نہیں لگوائی ہے، پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ویکسین کی پہلی خوراک جلد از جلد لگوائیں۔ کیونکہ یہ خود کو اور اپنی فیملیز کو مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ برطانیہ میں لوگ اب بھی کورونا ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک لگوا سکتے ہیں۔ اگر وہ تیسری خوراک بوسٹر کے اہل ہیں تو یہ این ایچ ایس میں فری ہے۔ عمر اور صحت کی تشویشناک صورت حال شدید ترین کوویڈ کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن بہت سے دیگر اہم اسباب کوویڈ 19 سے غیر متناسب اموات اور شدید بیماری سے منسلک ہیں اور کچھ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا اس سے خاصا تعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے سب سے زیادہ متاثرین میں مثال کے طور پر پیشہ، ہیلتھ کیئر ورکرز اور ٹیکسی ڈرائیورز شامل ہیں۔ ہائوس ہولڈ سائز، خاص طور پر ملٹی جنریشنل، جن میں مکس سکول ایج کے بچے اور معمر شتہ دار، ہوا کی خراب کوالٹی اور محرومی کی بلند ترین سطح کے کثیر آبادی والے علاقوں میں رہائش پذیر افراد بھی اس کے شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈیٹا سے پتہ چلا کہ کوروناویکسین کی دستیابی سے قبل کوویڈ 19 کی پہلی لہر سے قبل اور جب ہسپتالوں اور کیئر ہومز میں پرسنل پروٹیکٹیو ایکوئپمنٹس کی فراہمی ناقص تھی، کی وجہ سے آکوپیشن سے منسلک خطرات مستحکم تھے۔ دوسری لہر میں جب سکول کھلے تھے اور ملٹی جنریشنل ہائرس ہولڈز میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت کے بہت سے بیمار مریضوں کو کورونا ویکسین نہیں لگائی گئی۔ مجموعی طور پر سفید فاموں میں کورونا ویکسین کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صحت کے تفاوت سے نمٹنے کیلئے اس ریسرچ کے نتائج کو استعمال کرے گی۔ ایکویلٹیز منسٹر کمی بیڈینوچ نے کہا کہ یہ کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ حکومت پبلک ہیلتھ میں اس پینڈامک کی وجہ سے اہم سبق سیکھنے اور اس کا اطلاق کرنے کیلئے پر عزم ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کی زندگی لمبی خوشگوار اور صحت مند ہو۔

یورپ سے سے مزید