• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خالصتان ریفرنڈم کو کرمنلائز کرنے کی بھارتی کوششیں، سکھ فار جسٹس نے معاملہ اقوام متحدہ میںاٹھادیا

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) سکھ فار جسٹس کے ایک وفد نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس سے متعلق ہائی کمشنر سے ملاقات کر کے انھیں خالصتان ریفرنڈم اور پوری خالصتان تحریک کو کرمنلائز کرنے کی مودی حکومت کی کوششوں سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی۔ اقوام متحدہ کے حکام سے ملاقات کرنے والے وفد میں سکھ فار جسٹس کے جنرل قونصل گرپت ونت سنگھ پنو اور خالصتان کونسل کے صدر ڈاکٹر بخشش سندھ سندھو شامل تھے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے افسران کو بین الاقوامی قانون کے تحت سکھوں کے حق خودارادی اور مودی حکومت کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کے بھارت میں موجود اور بیرون ملک مقیم کارکنوں پر غداری کے مقدمات قائم کرنے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔ سکھوں کے وفد نے اقوام متحدہ کے حکام کوبتایا کہ مودی کی ہندو توا حکومت سکھوں کوبھارتی قومیت ٹھونسنے کی کوشش کررہی اور سکھوں کے کلچر اور تاریخ کو مسخ کررہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مودی حکومت سوشل میڈیا، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور یوٹیوب پر انتہا پسندانہ بھارتی قومیت کا پرچار کر رہی ہے اور رائے شماری کے ذریعے بھارت سے پنجاب کی آزادی کی حمایت میں لگائے جانے والے مواد کو بلاک کر کے خالصتان کے ریفرنڈم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بھارت کے سیکورٹی حکام برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں حکام سے مل کر سکھ فار جسٹس کو دہشت قرار دلوانے اور خالصتان سے متعلق ریفرنڈم کو رکوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفد نے ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ کے حکام کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے کس طرح امریکہ میں مقیم وکیل گرپت ونت سنگھ پنوں، کینیڈا کے ہردیپ سنگھ نجار اور برطانیہ کے پرامیت جیت سنگھ پما کو گزشتہ سال یوم حقوق انسانی کے موقع پر بھارت کے قومی تفتیشی ادارے کے ذریعے بیرونی ممالک میں بھارتی مشن کے سامنے کسانوں کی حمایت میں ریلیوں کا اہتمام کرنے پر غداری کا الزام عائد کردیا ہے اور سکھ فار جسٹس کو دہشت گرد تنظیم اور اس کے جنرل قونصل گرپت ونت سنگھ پنو کو دہشت گردقرار دے دیا ہے۔ وفد نے اقوام متحدہ کے حکام کوبرطانیہ کی ایک این جی او سینٹر فار انفارمیشن ریسائلنس کی تیار کردہ ایک رپورٹ #RealSikh Influence Operation” کی ایک کاپی بھی پیش کی جس میں سکھوں کی جانب سے بھارتی حکومت اور بھارتی قومیت کی حمایت میں مختلف سوشل میڈیا پر جعلی افراد کی جانب سے پروگنڈہ کرا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بھارت اور بیرون ملک مقیم ہزاروں سکھوں پر خالصتان ریفرنڈم کے جمہوری اور پرامن عمل میں حصہ لینے پر کرمنل چارج لگا کر انھیں دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی سے متعلق کمشنر کو دیئے گئے ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ سکھ 1984 میں بھارتی حکومت کی جانب سے سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل دربار صاحب میں سکھوں کے قتل عام اور دربار صاحب کی بربادی کے بعد سے ظلم وجبر کا شکار ہیں۔ دربار صاحب کوبرباد کرنے کے بعد بھارتی فوج نے سکھوں کو تہہ تیغ کرنے کے ایک پروگرام پر عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب پولیس اور انتہا پسند بھارتی ہندو سکھوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہے ہیں، ان میں سے بہت سے افسران نے سابق وزیر خزانہ سے سکھوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے پر نقد انعامات حاصل کئے ہیں۔ بھارت میں آزادی کے بعد سے اب تک اقلیتوں کے ساتھ منظم انداز میں ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے، اس صورت حال کی وجہ سے سکھ حق خود ارادیت کے ذریعے اپنے حقوق کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کو دیئے گئے ڈوزیئر میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب ریفرنڈم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب بھارتی حکومت پنجاب ریفرنڈم کے حامیوں پر دہشت گرد کا لیبل لگا کر اس پرامن تحریک کو ہر قیمت پر کچلنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ اس ڈوزیئر میں بتایا گیا ہے کہ نیویارک میں لائسنس یافتہ اٹارنی گرپت ونت سنگھ پنوں پر ان کی سرگرمیوں اورپنجاب کی بھارت سے علیحدگی کیلئے سرگرم کردار ادا کر نے کی وجہ سے بھارتی حکومت نے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت میں 40 کرمنل چارجز لگا دیئے گئے ہیں۔
یورپ سے سے مزید