آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ شوال المکرم 1440 ھ21؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایک خبر کے مطابق نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) نے انتہائی خفیہ طریقے سے شہر کی تمام مساجد کو دہشت گردی کے اڈے اور تنظیمیں قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کو مساجد میں ہونے والی تقاریب، محافل، تقاریر اور خطبات کو ریکارڈ کرنے، ان کے ویڈیو اور آڈیو بنانے، نماز کی ادائیگی اور وہاں آنے جانے والوں کی جاسوسی اور نگرانی کرنے کی بھی چھوٹ مل گئی ہے۔ مسجد کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطلب ہے کہ یہاں آنے والے کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے اور ان گرفتاریوں کے لئے امریکی انٹیلی جنس اداروں میں ایک لاکھ سات ہزار 95 افراد ملازم ہیں۔
یہ اب کی بات نہیں بہت سال پہلے نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ نے شہر میں اور اس کے اطراف زائد از 250 مساجد اور مسلم طلبا گروپس کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات اکٹھی کی تھیں۔ میڈیا، عہدے داروں اور اے پی کے حاصل کردہ راز کے داخل دستاویزات کے بہ موٴجب امریکہ کے اس سب سے بڑے شہر کی مسلم آبادی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات و اطلاعات کے حصول کے لئے اکثر خفیہ عہدے داروں، مخبروں اور جاسوسوں کو استعمال کیا گیا۔ مخبر اور جاسوس بھرتی کرنے کے لئے سی آئی اے اور ایف بی آئی نے اخبارات میں اشتہارات شائع کروائے جن میں یہاں تک تحریر تھا کہ اردو، فارسی اور پشتو بولنے والوں کو ترجیح دی

جائے گی۔ ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں سے کئی دستاویزات پر ”راز یا خفیہ“ (Secret) کا لفظ درج ہوتا ہے۔ ان دستاویزات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ عشرے کے دوران دہشت گردوں، انتہاپسندوں وغیرہ کی ایک خاصی تعداد سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی روزمرّہ عبادت کے لئے مساجد جایا کرتے تھے یا پھر مساجد جانے والوں سے ان کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ کئی سماجی گروپس کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا۔ گزشتہ چند ماہ کی پوچھ تاچھ اور تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک خفیہ اسکواڈ المعروف ”ڈیموگرافکس یونٹ“ نے کئی مسلم گروپس کے بارے میں چھان بین میں مدد کے لئے خفیہ عہدے داروں کی ٹیمیں روانہ کی تھیں۔ ایک ناقابل تردید حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کئی مسلم خواتین و حضرات مسلمانوں ہی کی صفوں میں جاسوسی کے لئے تعینات کیے گئے ہیں۔ 2001ء میں نائن الیون کے بعد سے پولیس ڈپارٹمنٹ نے امریکا کی ایک نہایت جارح ”داخلی انٹیلی جنس ایجنسی“ قائم کی ہے جو اس شہر کی حدود سے کافی باہر بھی پیر پھیلائے ہوئے ہے اور ایک حساس فہرست بھی رکھتی ہے جس کی روشنی میں خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی اور کوششوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ان خفیہ سرگرمیوں اور پوچھ تاچھ کے لئے وفاق سے ایک ”ہیوی بجٹ“ وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ایجنسی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ساتھ غیرمعمولی قریبی تعلق رکھتی ہے اور بعض صورتوں میں تو اس ایجنسی اور سی آئی اے کے درمیان فرق و امتیاز مشکل ہو جاتا ہے۔
2006ء کے بعد پولیس دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ صرف نیویارک کی زائد از 250 مساجد کا بہ غور جائزہ لے کر اور معلومات اکٹھی کر کے ”نسلی شناخت، قیادت، فرقہ، گروپ، وابستگی، تعلیم، پیشہ، آبائی ملک، گاؤں یا شہر سے تعلق وغیرہ جیسی معلومات لے کر فائلیں بنائی گئیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں مخبروں، جاسوسوں اور سادہ لباس میں ملبوس کارکنوں سے بھی کام لیا۔ اس تفتیش میں ملوّث ایک عہدیدار نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ میری انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیس نے 53 مساجد کی نشاندہی کی۔ ان مساجد کو ”بے حد تشویشناک مساجد“ کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ ان مساجد کے آس پاس سادہ کپڑوں میں ملبوس مخبروں اور خفیہ ایجنسی کے لوگوں کو تعینات کیا گیا، ان میں کئی مساجد کو ”بے حد خطرناک اور مجرمانہ سرگرمیوں کی حامل عبادت گاہ“ قرار دیا گیا، اس کے علاوہ اسمگلنگ، حماس فنڈنگ، فلسطینی عسکریت پسندی، القاعدہ فنڈنگ اور خفیہ دولت جمع کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ بعض مساجد کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان مساجد کا تعلق سلفی فرقہ سے ہے جو اسلام کا انتہاپسند فرقہ کہلاتا ہے۔ بعض دیگر مساجد کی شناخت ”بیان بازی کی مساجد“ کے طور پر بھی کی گئی جو صرف اپنے بیانات سے مسلمانوں کے جذبات بھڑکاتے تھے۔ دو مساجد کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا تعلق جامعة الا زہر سے ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جامعة الا زہر ان اوّلین مذہبی اداروں میں سے ہے جس نے نائن الیون کے حملوں کی مذمت کی تھی۔ مغربی دنیا میں صرف امریکا ہی مساجد اور مسلم گروپس پر نظر نہیں رکھ رہا، برطانیہ بھی مسلم انتہاپسندی کو روکنے کیلئے مدارس اور مساجد میں جاسوسوں کا تقرر کر رہا ہے۔ ڈچ نیوز ایجنسیوں کے مطابق حکومت برطانیہ نے انتہاپسندی اور انتہاپسندوں کے خاتمے کے لئے مدارس اور مساجد میں جاسوسی کے لئے سابق ایم آئی فائیو وفور کے جاسوسوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ برطانیہ کے اخبار ڈیلی ایکسپریس کے حوالے سے ہالینڈ کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ برطانیہ کی حکومت کو مسلم مبلغین کی سرگرمیوں پر تشویش ہے کہ یہ علماء حضرات مدارس میں انتہاپسند خیالات کی تعلیم دیتے ہیں۔ حکومت نے خفیہ محکمہ کے سابق عہدے داروں کو بھرتی کیا اور انہیں مدارس میں اسلامی انتہاپسندوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ ادھر برطانوی وزیر تعلیم کو بھی تشویش لاحق ہے کہ نئی نسل کے ”فری اسکول“ مسلم مبلغین کے نشانے پر ہیں۔ حکومت نے محکمہٴ پولیس میں بھی مذہبی انتہاپسندی روکنے کیلئے یونٹس قائم کیے ہیں۔
برطانوی جریدے اسکاٹ ہیرالڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نارویجن دہشت گرد آندرے بہرنگ بریویک کی جانب سے برطانیہ میں اپنے ساتھیوں اور اپنے ہم خیال لوگوں کی موجودگی اور ایک مضبوط نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد برطانیہ کے عوام اور برطانوی سیکورٹی میں کھلبلی اور ہلچل مچ گئی ہے اور کئی برطانوی شہروں میں سیکورٹی اسکریننگ شروع ہو گئی ہے کہ برطانیہ کو دو جانب سے خطرہ لاحق ہے۔ مسلم انتہاپسند اور کرسچین انتہاپسند۔ برطانیہ کو القاعدہ کے ساتھ ساتھ اب عیسائی دہشت گردوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے، قطع نظر اس بات کے کہ دونوں کے نقطہٴ نظر اور منزل الگ الگ ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے حال ہی میں بی بی سی کے اینڈریوم شو میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانوی سیکورٹی فورسز ممکنہ طور پر ”ناروے کی طرز“ کا حملہ روکنے کی اہل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ جیسے جدید نیٹ ورکس کے مقابلے میں انفرادی سطح پر ڈھائی جانے والی تباہی کو روکنا برطانیہ کے لئے انتہائی مشکل ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ القاعدہ اب تک مغرب کے لئے ”سب سے بڑا خطرہ“ ہے حالانکہ اوسلو میں حملہ کسی ”بین الاقوامی سازش“ سے تعلق ظاہر نہیں کرتا۔ ہیگ نے کہا کہ ملک میں ایسے خطرات کی سطح بہت بلند ہے۔ انہوں نے بی بی سی شو میں ملک کو حملوں سے محفوظ رکھنے میں پولیس اور انٹیلی جنس سروسز کے انتہائی ”اعلیٰ سطح“ کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ ہم مزید چیک کریں گے کہ کیا دہشت گردی کی تمام اقسام پر ہماری توجّہ مرکوز ہے؟
میرے حساب سے تاریخ میں تشدد، طاقت اور انتہا پسندی کو دوام حاصل نہیں رہا ۔ نہ بادشاہت نہ شہنشاہیت اور نہ ہی فوجی آمریت لازوال رہی ہے، خواہ اس کے جبر و استبداد کتنے ہی بڑھے ہوئے کیوں نہ ہوں اور تشدد و انتہاپسندی کی شکل کچھ بھی رہی ہو۔ شدت، سختی، تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی خواہ کیسی بھی ہو، اس کا انجام شکست ہے صرف شکست کہ انتہاپسندی مجھے کسی طور بھی قبول نہیں جیسے عدل و انصاف کے معاملے میں مجھے اعتدال پسندی کسی طور بھی قبول نہیں۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جتنا کام اب تک ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ ایسا ہے جو نہیں ہو سکا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں