آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی کے سوگوار لوگوں کا ذکر آتا ہے تو بزم حیات کے جام لبوں سے چھوٹ جاتے ہیں اور یو ں لگتا ہے جیسے پہ درپے بربتء دل کے تار ٹوٹ جاتے ہیں ۔کیفیت کچھ ایسی ہے کہ ہمت التجاء ہے نہ ضبط کا حوصلہ ۔کراچی تو کبھی ایسا نہیں تھا۔ٹمٹماتی روشنیوں سے جگمگاتا ہوا شہر قائد ملکی کامیابی کی نوید سمجھا جاتا تھا۔ملکی معیشت کا گہوارہ سمجھے جانے والے شہر پر آخر کس آسیب کے سائے منڈلانے لگے ہیں؟پھر سوچتا ہوں کہ آسیب کو دوش کیوں دوں۔کراچی کو آسیب نہیں وسیب کی نظر کھاگئی ہے۔اگر آج کراچی کے کونے کونے میں آگ لگی ہے،خون کا بازار گرم ہے تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ اس شہر پر برسر اقتدار حکمرانوں نے کبھی اس کے معاملات کو اتنا سنجیدہ لیا ہی نہیں جتنا لینے کا حق تھا۔پوری دنیا میں اگر کراچی کا کسی شہر سے موازنہ کیا جاسکتا ہے تو وہ ممبئی ہے۔ ممبئی پرانا بمبے آج دنیا کی دوسری بڑی فلمی دنیا کی آما جگاہ سمجھا جاتا ہے۔جرائم کی وارداتیں اب بھی اس شہر میں کراچی سے زیادہ ہوتیں ہیں مگر اس کے باوجود بھارت کی اربوں ڈالر کی معیشت اسی شہر کی مرحون منت ہے۔لیکن پھر ایسی کونسی وجہ ہے کہ ہمارا شہر قائد روز بہ روز زوال کی طرف گامزن ہے۔ وہ کون ہے جو اس شہر کا امن چھین رہا ہے؟وہ کون ہے جو اس شہر لازوال کو پامال کرناچا ہتا ہے؟۔ایسے بہت سے سوالات ہیں مگر ان

کا جواب ایک ہی ہے کہ کراچی پر برسراقتدار حکمران ۔
پیپلز پارٹی،متحدہ قومی مومنٹ اور جماعت اسلامی تو باقاعدہ کراچی پر حکومت کرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں۔جبکہ اے این پی اور سنی تحریک بھی کراچی میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی رہی ہیں۔اگر آج کوئی جماعت دوسری جماعت کے بارے میں کہے کہ ان کا عسکری ونگ ان حالات کا ذمہ دار ہے تو یہ بالکل غلط ہوگا۔ماضی میں کراچی میں پیدا ہونے والی بدامنی،ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں اپنی اپنی سطح پر ہر جماعت ملوث اور ذمہ دار رہی ہے۔مگر اب جب حالات اس حد تک بے قابو ہوگئے تو سیاسی جماعتوں نے تو عسکری گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا مگر اس دوران غیر ملکی تخریب کاروں اور طالبان جیسے گروہوں کا اونٹ کراچی کے خیمے میں داخل ہوچکا تھا۔
آج عمومی رائے پائی جارہی ہے کہ ماضی میں بھتہ خوری تھی،چوری ڈکیتی کی وارداتیں تو ہوتی تھیں مگر کراچی کے حالات اس قدر سنگین نہیں تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت غیر ملکی عناصر اور طالبان کے گروہ اس میں ملوث نہیں تھے۔ سپریم کورٹ گزشتہ تین سال سے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے کئی احکامات دے چکی ہے ۔مگر مجال ہے کہ کسی ایک پر بھی عملدرآمد کرنے کی زحمت گوارہ کی ہو۔کراچی میں آج جب فوج طلب کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تو ایسی کونسی وجہ ہے 113تھانے ہونے کے باوجود پولیس بار بار ناکام ہورہی ہے؟اصل وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دو دھائیوں کے دوران کراچی میں سیاسی بنیادوں پر پولیس میں سینکڑوں اسسٹنٹ سب انسپکٹرز بھرتی کئیے گئے۔یہ پولیس افسران وہ تھے جو یا تو کسی سیاسی جماعت کے رکن تھے یا ان کے لئیے بطور آلہ کار کام کررہے تھے۔90کی دھائی میں جس وقت ان افراد کو تعینات کیا گیااس وقت جونئیر اور خاص عہدوں پر براجمان نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد باقاعدہ مخصوص سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔کراچی کی آبادی کا محتاط اندازہ بھی لگایا جائے تو یہ 2کروڑ سے زیادہ بتائی جاتی ہے اوریہ ممکن نہیں ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے شہر کے حالات 24گھنٹے معمول پر رہیں۔چند وارداتیں تو قابل براداشت ہیں مگر ہر گلی محلے میں خوف کا عالم تاری ہونا اور ہر شاہراہ کو مقتل گاہ بنا دینا ہر گز برداشت نہیں۔کراچی میں حالات اس وقت ابتر ہوئے جب دس سال کی ملازمت کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں بھرتی کئیے گئے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز ترقی پاکر انسپکٹرز بن گئے اور 113تھانوں میں بطور تھانے دار فرائض سرانجام دینے لگے۔سیاسی بنیاد پر تعینات کئیے گئے ان افسران کے لئیے اب ممکن نہیں تھا کہ میرٹ پر فرائض کی انجام دہی کرسکیں۔۔حتی کہ پولیس لائن میں موجود پوسٹنگ کے منتظر انسپکٹرز بھی کسی نہ کسی جماعت کے آلہ کار ہیں۔کیونکہ جس طرح اگر کسی درسگاہ میں میرٹ سے ہٹ کر نالائق شخص کو معلم بنادیا جائے تو وہ آنے والی ایک نسل کو تباہ کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اسی طرح کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے وابستہ ایک پولیس افسر اس علاقے کا امن چھیننے کے لئیے کافی ہوتا ہے۔ آج کراچی کے ساتھ اصل میں یہی ہورہا ہے۔صورتحال اس حد تک خوفناک ہے کہ پولیس کے سیکرٹ وائرلیس فون سیٹس مختلف گروہوں کے پاس ہیں۔آئی جی سے لے کر ایک حوالدار تک کوئی بھی سرکاری حکم نامہ جاری ہوتا ہے تو متعلقہ گروہ باآسانی اس گفتگو کو سنتے ہیں۔کراچی میں فوج کی نہیں بلکہ میرٹ پر کام کرنے والے پولیس افسران کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی حکومت اگر صرف تین کام کرلے تو کراچی کے حالات دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں معمول پر آسکتے ہیں۔چوہدری نثار نے گزشتہ دنوں خود کہا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کئیے گئے۔اگر وزیر داخلہ محترم ان فہرستوں کی جانچ پڑتال کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے 70فیصد صرف کراچی شہر کے مکینوں کو دئیے گئے۔جو فی الفور بغیر کسی تاخیر کے کینسل کردئیے جائیں۔اتنی بڑی مقدار میں جدید اسلحہ پورے ملک میں نہیں ہے،جتنا اکیلے کراچی شہر میں ہے۔حکم دیا جاسکتا ہے کہ تمام افراد ممنوعہ و غیر ممنوعہ اسلحہ جمع کرائیں ،مقررہ تاریخ تک جمع کرائے جانے والے کو معاف کیا جائے گا وگرنہ سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔سیاسی بنیادوں پر تعینات کئیے گئے انسپکٹرز و دیگر افسران کو ملازمتوں سے بے شک فارغ مت کیا جائے لیکن انہیں کراچی بدر کرتے ہوئے دیگر اضلاع میں تعینات کردیا جائے اور حساس اداروں کے افسران سے مشاورت کے بعد ایماندار اور میرٹ پر کام کرنے والے افراد کی فہرست تیار کی جائے اور انہیں متعلقہ تھانوں کا چارج دیا جائے۔ان میں سے کوئی ایک عمل بھی ایسا نہیں ہے جو کہ قابل عمل نہ ہو۔اگر جیو نیوز اپنی خصوصی نشریات میں تمام جماعتوں کو ایک میز پر لاسکتا ہے تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بااختیا ر حکمران کیوں نہیں۔اگر کراچی کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مطالبہ کررہے ہیں کراچی میں بدامنی سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک ہر جرم کی جڑ موبائیل فون ہے اس لئیے پری پیڈ موبائیل نمبرز کو بند کرکے تمام سمیں دئیے گئے پتہ پرپوسٹ کی جائیں تو 90فیصد نمبر جعلی نکلیں گے اور کرائم کی شرح یک دم نیچے آجائے گی۔توایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چائیے۔ایک حکم نامے سے اگر اتنا بڑا فائدہ ہوسکتا ہے تو پھر دیر کیوں کی جارہی ہے؟کراچی کو ہم سب نے مل کر بچانا ہے۔اگر کراچی نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ۔۔ مجھے تو ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ جو حسرت و یاس کی تصویر بنے پھرتے ہیں اور مایوسی بھرے لہجے میں کہتے ہیں کراچی تیرے مقدر میں سیاہ لکھا ہے۔میں تو خوب جانتا ہوں کہ کراچی کے مقدر میں کیا لکھا ہے۔ کیونکہ زندہ اقوام اپنا مقدر خود لکھا کرتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ کراچی کے جوان ہمت شہری اپنی قسمت خود تحریر کرنے کو تیار ہیں ۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ ارباب اختیار لاچار نظر آتے ہیں اگر آج وہ طے کرلیں کہ اب یا کبھی نہیں اور کراچی کی عوام کو اس منزل کا پتا نہ دیں جہاں وہ جانا چاہتی ہے بلکہ اسے اس منزل کا پتہ دیں جہاں اسے جانا چائیے ۔
ِٓآج میرا دل فکر میں ہے اے روشنیوں کے شہر
شب خون سے منہ پھیر نہ جانے ارمانوں کی رو
خیر ہو تیری لیلاوٴں کی،ان سب سے کہہ دو
آج کی شب جب دئیے جلائیں،اونچی رکھیں لو

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں