• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیر طبقے پر ٹیکس خوش آئند لیکن پیسہ صارف سے ہی وصول ہوگا، عوامی آراء

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کی بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہو گیا۔

ایک جانب تو امیر طبقے پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کو خوش آئندقرار دیا گیا تو دوسری جانب اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ اسکے اثرات بھی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں عوام کو ہی برداشت کرنا ہونگے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ صنعتوں اور انکے مالکان پر سپر ٹیکس لگنے سے حکومتی خسارہ کم ہو گا اور عام آدمی کو ریلیف ملنے کا امکان بڑھے گا، امیروں پر نئے ٹیکس پوری دنیا میں لگ رہے ہیں کیونکہ ان کو زیادہ فرق نہیں پڑیگا۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ سپر ٹیکس کے بارے میں کیا محسوس کیا جائے۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا لیکن کچھ حد تک حمایت ضرور کروں گا۔ امیر پر ٹیکس لگانا درست سمت میں قدم ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اسکا معیشت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ادھر دوسری جانب ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فیصلے کو ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔

 ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اب وہ تمام انڈسٹریز اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں گی جن پر ٹیکس لگا ہے اس لیے سپر ٹیکس کا اثر صارف پر ہی پڑیگا جو افسوس ناک ہے۔ ’اس سے بہتر حل یہ تھا کہ ان انڈسٹریز کی کمائی پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جاتی۔

 ایک صارف جس نے امیر ترین افراد پر سپر ٹیکس کی حمایت میں ٹویٹ کی نے ساتھ ہی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ریئل اسٹیٹ پر بھی یہ ٹیکس لاگو کیا جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اور پالیسی بنائی جائے کہ یہ ٹیکس صارف کی جیب سے ہی ادا نہ ہو رہا ہو۔

اہم خبریں سے مزید