• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برشور توبہ کاکڑی کو ضلع کاریزات میں شامل کرنا قبول نہیں،اسفند یار کاکڑ

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)سابق صوبائی وزیر اسفند یار کاکڑ، ملک عبدالحئی کاکڑ و دیگر نے کہا ہے کہ برشور توبہ کاکڑی کو ضلع کاریزات میں شامل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ، حکومت بر شور کو علیحدہ ضلع قرار دے،آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئےبر شور توبہ کاکڑی کے قبائلی اور سیا سی رہنماء جلد مشاورت کے لئے سیا سی جماعتوں سے رابطہ کریں گے ،یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل برشور توبہ کاکڑی جو 16 یونین کونسلز پر مشتمل اور جغرافیائی طور پر ایک اہم اور دورافتادہ علاقہ ہے جو کئی لحاظ سے پسماندہ بھی ہے نئے اضلاع کے بننے سے یہ علاقہ مزید متاثر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ برشور تاریخی طور پر کوئٹہ کا حصہ رہا ہے جب کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا تو برشور پشین میں شامل کیا گیا بعد میں پشین کو مزید تقسیم کرکے قلعہ عبداللہ کو نیا ضلع بنایا گیا تب بھی برشور ضلع پشین کا حصہ رہا اس دوران برشور اور توبہ کاکڑی کے عوام قحط و خشک سالی ، بے روزگاری کے سبب کوئٹہ اور پشین منتقل ہوتے رہے اور وہاں آبادیاں قائم کیں انہوں نے کہا کہ کاریزات کو ضلع بنانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن جغرافیائی طور پر برشور اور توبہ کاکڑی وہاں سے کافی دور ہیں جبکہ برشور تحصیل کی تمام یونین کونسلیں پشین سے قریب تر ہیں اور لوگوں کی آمد و رفت اور روزگار بھی پشین شہر سے منسلک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برشور اور توبہ کاکڑی وسیع وعریض تحصیل ہے اس کی افغانستان کیساتھ طویل سرحد لگتی ہے ضلعی حیثیت ملنے پر انتظامی معاملات میں انتہائی کارآمد ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ برشور توبہ کاکڑی ماضی میں 16 جبکہ اس وقت 14 یونین کونسل پر مشتمل ہے ، برشور توبہ کاکڑی کی اصل آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے روزگار کی وجہ سے اکثر لوگ ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت برشور کو علیحدہ ضلع قرار دے اگر کوئی ٹیکنیکل وجوہات ہیں تو پھر برشور اور توبہ کاکڑی کو ضلع پشین کا حصہ رکھا جائے ۔
کوئٹہ سے مزید