• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشہورِ زمانہ فلسفی شاعر و صحافی ... ریئس امروہوی

ممتاز شاعر، صحافی، فلسفی، دانش وَر اور روحانی علوم کے ماہر رئیس امروہوی کا اصل نام سیّد محمد مہدی تھا۔ وہ 12 ستمبر 1914ء کو بھارت کے شہر امروہہ کے ضلع مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد شفیق حسن ایلیا بھی اپنے عہد کے ایک مستند شاعر کے علاوہ فلسفہ، منطق، نجوم اور فلکیات کے ماہر تھے، جب کہ اُن کے بھائی سیّد محمد تقی ممتازصحافی، دانش وَر اور ’’روزنامہ جنگ‘‘ کے مدیر تھے۔ دوسرے بھائی جون ایلیا نے شاعری کے میدان میں عالم گیر شہرت حاصل کی، جب کہ سب سے چھوٹے بھائی سیّد محمد عباس ماہ نامہ ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر تھے۔

بھارت کے معروف فلم ساز کمال امروہوی اُن کے کزن تھے۔ رئیس امروہوی نے ابتدائی تعلیم امروہہ سے حاصل کی۔ دادا سیّد نصیرحسین کی نگرانی میں بنیادی تعلیم کے حصول کے ساتھ ہی ادبی زندگی کی ابتدا کم عُمری ہی میں ہوگئی تھی۔ پاکستان کے قیام سے قبل وہ 1937ء سے 1939ء تک کانگریس کے ساتھ منسلک رہے۔ اس دوران انھیں معروف ہندو سیاست دان، جواہر لال نہرو کی قربت بھی حاصل رہی، لیکن پھر جلد ہی آل پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور قیامِ پاکستان کے تقریباً دو ماہ بعد یعنی19 ؍اکتوبر 1947ء میں ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ پھر کچھ عرصے بعد ہی روزنامہ جنگ میں روزانہ قطعہ نگاری کے ساتھ ہفتہ وار کالم بھی لکھنے لگے، جو اُن کے انتقال تک جاری رہا۔روزنامہ جنگ میں روزانہ شایع ہونے والے اُن کے قطعات عوام و خواص میں بے حد مقبول ہوئے، بلکہ کئی شعر اور مصرعے تو زبان زد ِعام ہوگئے۔

وہ اُردو کے سب سے بڑے روزنامے ’’روزنامہ جنگ‘‘ سے وابستگی کے ساتھ پاک و ہند کے دیگر جرائد میں بھی باقاعدگی سے لکھتے تھے، جن میں روزنامہ ’’اسد‘‘، روزنامہ ’’سرفراز‘‘ لکھنؤ، ہفت روزہ ’’حمایت الاسلام‘‘، لاہور، ’’رسالہ حیات‘‘ امروہہ، ماہ نامہ ’’ادراک‘‘، امروہہ، ہفت روزہ ’’اتحاد‘‘، ’’انصاف‘‘ اور ’’قرطاس‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ روزنامہ جنگ میں قطعات اور ہفتہ وار کالم نگاری کے علاوہ انہوں نے نفسیات، مابعد نفسیات، سائنس، تاریخ، مذہب، توجیہات، مراقبے، ہپناٹزم، جنّات، عالمِ برزخ، حاضراتِ ارواح، عالمِ ارواح اوردیگر موضوعات پرلاتعداد نگارشات سپردِ قلم کیں، جب کہ شعری تخلیقات میں قطعات، قصائد، قصیدہ جات، غزلیات، مثنویاں، ساقی نامے، مسّدس، مخمص، سہرے، سہاگ، تاریخِ وفات اورقومی و ملّی نغمات شامل ہیں۔ ان کی شعری و نثری تصنیفات میں الف، مثنوی لالۂ صحرا، پسِ غبار، قطعات (چار جِلدیں) حکایتِ نے، بحضورِ یزداں، انَا مِن الحسین، ملبوسِ بہار، آثار، اچھے مرزا، نفسیات و مابعد نفسیات (تین جِلدیں) لمحاتِ نفس (چار جلدیں) لے سانس بھی آہستہ (دوجِلدیں) جنسیات (دو جلدیں) عالمِ برزخ (دو جِلدیں) ہپناٹزم، جنّات، حاضراتِ ارواح اور نجم السحرودیگر شامل ہیں۔

رئیس امروہوی کا شمار شعر و ادب کے حوالے سے نابغۂ روزگار ہستیوں میں ہوتا تھا۔قطعہ نگاری میں انھیں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ عصرِ رواں کی خامیوں کی نشان دہی پر مبنی اُن کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں؎ ہر عہد کی شہریت سے محروم.....ہر شہر میں بے وطن ہیں ہم لوگ.....یہ وادی ہے ٹھگوں کی رہ گزر للکارتے رہو.....گزرتے ہو تو یارانِ سفر للکارتے رہو۔ ان کے ایک شعر میں موت کا ذکر ایسے انداز میں ملتا ہے، جیسے انھیں اپنے سفر آخرت کے بارے میں پہلے سے اطلاع ہوگئی ہو، ملاحظہ فرمائیں؎ ابھی تدفین باقی ہے ابھی تو.....لہو سے اپنے نہلایا گیا ہوں۔ 

زندگی کی اضطرابی کیفیت اور بے چینی کو یوں بیان کرتے ہیں ؎صبحِ ازل سے شامِ ابد تک سے ایک دن.....یہ دن تڑپ تڑپ کر بسر کررہے ہیں ہم۔ انھوں نے اپنے شعری سفر کے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’میری فکر کے مایۂ خمیر نے بڑے پیچیدہ مادّوں سے ترتیب پائی ہے۔ میں شعر کی پرانی روایتوں سے مطمئن نہیں اور اجتہاد کی وہ صورتیں مضحکہ خیزنظر آتی ہیں، جن کا تذکرہ بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ 

جہاں تک شعر کی میکانیکی تخلیق کا تعلق ہے، تو بغیر کسی پس و پیش اور انکسار کے یہ حقیقت بیان کردینی چاہیے کہ اس میدان میں اردو کے کسی قادر البیان شاعر سے پس ماندہ نہیں ہوں۔ اردو شاعری کی روایتوں پر میری گرفت اتنی مضبوط ہے، جتنی کسی صاحبِ کامل یا صاحبِ کلام کی ہوسکتی ہے۔ میرے بزرگانِ خاندان اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنے کے عادی تھے۔ میں بھی دونوں زبانوں میں سخن سرائی کا عادی ہوں۔ عادی کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے، کیوں کہ شعر گوئی واقعی اسی طرح ہمارے معمولاتِ شب و روز میں داخل تھی، جس طرح زمیں داری اور جاگیر داری۔‘‘

رئیس امروہوی کے اشعار زندگی کے فلسفے سے بھر پور ہوتے تھے، مگر وہ عصرِ رواں کی اقدار کو ہمیشہ سامنے رکھتے تھے۔ انسانی اقدار، تہذیبی رویّوں اور معاشرتی میل جول کے ذیل میں جو خیالات ذہن میں آتے، انہیں سہلِ ممتنع میں اس طرح بیان کرتے کہ قاری کو ذہن نشین ہوجاتے۔ مثلاً ؎عروجِ نسلِ آدم ہو رہا ہے.....وقارِ آدمی کم ہو رہا ہے۔ نئے اور پرانے سندھیوں اور سندھ کی محبت پر مبنی اُن کے اس قطعے نے کافی شہرت حاصل کی؎تعریف نئے اور پرانے کی ہے بے جا.....ہم سندھ کے ہیںاور ہے ہم سب کے لیے سندھ.....چوبیس برس قبل کی عینک سے نہ دیکھو.....ماضی سے نرالا ہے نیا سندھ، ’’جیے سندھ۔‘‘ 

اُن کی 1948ء میں کہی گئے نظم ’’اُردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے‘‘ 1972ء میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیے جانے کے موقعے پر ’’روزنامہ جنگ‘‘ میں دوبارہ شایع ہوئی، تو مُلک بھر میں مشہور ہوگئی، خصوصاً نظم کا پہلا مصرع زبان زد عام اوربے انتہا مقبول ہوا۔ رئیس امروہوی اپنے دل و دماغ میں کوئی خلش باقی نہیں رکھتے تھے۔ برملا اور برجستہ، بلاخوف و خطر اظہار کردیا کرتے تھے۔ اُن کی شاعری میں جہاں جدید عہد کے مضامین، واقعیت و روحانیت کے پیکر میں ڈھلے ملتے ہیں، وہیں تراکیب کا استعمال، معاملہ بندی اور شعری بُنت آفاقی وسعتوں کے حامل ہیں۔ 

رئیس امروہوی کے محبوب موضوعات میں زندگی کی نفسیات، معاشرے کی اخلاقیات، مذہب و رواداری، حیات و کائنات کی وسعتیں اور تہذیب وتمدّن کے بدلتے زاویے شامل ہیں۔ اُن کے کلام میں تغزّل کا انداز بھی میرتقی میر اور غالب سے کسی طور کم نہ تھا کہ محبوب کے دل نشیں تصوّر میں کھو کر یوں گویا ہوتے تھے؎ یوں لگا جیسے کہ بل کھاکے دھنک ٹوٹ گئی.....اُس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں۔ اسی طرح ایک اور شعر دیکھیے؎ غیر نے بزم سجائی ہے، بڑے دعوے سے .....آپ تشریف نہ لائیں، تو مزہ آجائے۔

محولہ بالا اشعار اردو غزل میں ایک شاہ کار کی حیثیت رکھتے ہیں، تو زبان و بیان کے حوالے سے بھی اعتبار کے حامل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ محبوب کے تذکرے، اُس کے قیامت خیز جوبن کی تمثیل نگاری اور مضامینِ عشق و محبّت میں رئیس امروہوی کا سہل اندازمقبول عام تھا۔

راقم کے استاد، اذفر زیدی، رئیس امروہوی کے دوست تھے۔ اُن کے ساتھ مانک جی اسٹریٹ، گارڈن ایسٹ، کراچی میں کئی ملاقاتیں رہیں۔ نیز،’’اردو لٹریری ایسوسی ایشن‘‘ کے زیرِ اہتمام اُن کی صدارت میں مشاعرہ پڑھنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔ بلاشبہ، رئیس امروہوی کی شاعری بیسویں صدی میں تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ انہوں نے غزل پرکم توجّہ دی، مگر سرمایۂ غزل، نا آشنا منزلوں سے آشنا کرتا ہے۔ 

غزلیات میں بھی انسانی زندگی کے جذبات و احساسات کی کسک اور ذاتی منفرد مشاہدات کی، جن میں سیاسی، تہذیبی و معاشی موضوعات وغیرہ بھی شامل ہیں، بڑی خوش دلی اوراحسن انداز سے ترجمانی کی۔ یوں شعری مضامین وسعت پذیر ہوئے، تو شاعری کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا۔ اور اپنی شاعری و نثر نگاری کی آب یاری کرتے ہوئے ہی یہ عظیم شاعر 22 ستمبر 1988ء کو ایک بے رحم، سفّاک قاتل کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید