آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارت ۔ تنازعات کے حل کیلئے تجربہ۔ عدالت سے رجوع کیا جائے یا سیاسی فورم سے؟
ریاستوں کے درمیان مستقبل میں درپیش پانی کے جھگڑوں کو حل کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بھارت کی مرکزی حکومت کو آئین کے آرٹیکل 262 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اِن تنازعات کو حل کرنے کیلئے عدالتی فورم قائم کر سکتی ہے۔تاہم آرٹیکل 262 کے تحت پانی کے جھگڑوں کو حل کرنے کیلئے بنائے گئے ٹربیونل غیر مؤثر ثابت ہوئے ۔ بیشتر تنازعات کا حل عدالتی طریقہ کار کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی سطح پر مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا گیا۔بھارت میں 14بڑے دریا ہیں اور یہ سارے ایک سے زیادہ ریاستوں میں بہتے ہیں۔اِسی طرح بھارت کے اندر 44درمیانے دریا ہیں، اِن میں سے 9 دریائوں کا پانی ایک سے زیادہ ریاستیں استعمال کرتی ہیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک بھارت کی ریاستوں کے درمیان پانی پر جھگڑوں کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ دریائے جمنا(Yumna) کے بارے میں دہلی، ہریانہ اور اترپردیش کی ریاستوں کے درمیان حالیہ اختلافِ رائے کو تینوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی حکومت نے مل بیٹھ کر کامیابی کے ساتھ دور کر لیا۔ سیاسی طور پر مفاہمت تلاش کرنے کا یہ طریقہ اُس وقت اختیار کیا گیا جب سپریم کورٹ کے ذریعے مسئلے کے حل میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔بھارتی ریاستیں پانی پر اپنے جھگڑوں کو

باہمی معاہدوں کے ذریعے بھی طے کرسکتی ہیں۔انڈین سینٹرل واٹر کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ریاستوں کے درمیان پانی کے بارے میںطے پانے والے معاہدوں کی تعداد 125 ہے۔ زیرِنظر مضمون میں مذکورہ معاہدوں میں سے صرف چار کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ قارئین پر یہ بات واضح کی جاسکے کہ وہ ریاستیں جو کسی دریا کے بیسن میں دوسری ریاستوں کے ساتھ شراکت دار ہیں ، انہوں نے کس طرح ایک دوسرے کے نقطہ ٔ نظرکو تسلیم کرنے کے جذبے کیساتھ پانی پر اپنے تنازعات کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان چاروں مثالوں میں بہت سے حساس اور نازک معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جن میں دریا کے بیسن سے باہر پانی کی منتقلی، ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں حصہ داری اور ریاستوں کے درمیان پانی کی خرید و فروخت جیسے امور شامل ہیں ۔بدقسمتی سے پاکستان میں صوبے پانی کے وسائل سے متعلق انتظامات میں سرمایہ کاری کرنے پر مائل نہیں ہیں۔ اِسی طرح وہ پانی کی حقیقی قیمت کا تعین کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔
پانی کا لین دین:اشیائے صرف کی طرح پانی کے لین دین کی مثال مدراس اور میسور (کرناٹک) کے درمیان 1944 ء میں دریائے تنگا بھدرا ے پانی میں شراکت داری کے معاملہ سے واضح کی جاسکتی ہے۔ میسور کیساتھ طے پانے والے معاہدے کی رُو سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دریائے کاویری(Cauvery) کے پانی میں مدراس کا حصہ استعمال کرنے کے عوض اُسے رائلٹی ادا کی جائے گی۔ اس معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستیں کس طرح اپنے مشترکہ وسائل کے لین دین سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
پروجیکٹ کی لاگت میں شراکت داری:مُوسیٰ کھنڈڈیم دو ریاستوں کے درمیان مشترکہ دریا پر لاگت اور فوائد میں شراکت داری کی بنیاد پر تعمیر کئے گئے منصوبوں کی ایک اچھی مثال ہے۔ یہ پروجیکٹ اُترپردیش اور بہار کی ریاستوں نے مل کر تعمیر کیا۔ اس منصوبے کی تعمیر پر آنے والی لاگت دونوں ریاستوں نے اِس ڈیم کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد کی شرح سے مِل کر برداشت کی۔
دریا کے بیسن سے باہر پانی کی منتقلی:اِس نوعیت کا معاملہ 1978 ء میں دریائے نرمدا(Narmada) پر پانی کے تنازع کے دوران چار بھارتی ریاستوں مدھیا پردیش، راجستھان، مہاراشٹر اور گجرات کے درمیان پیش آیا۔مذکورہ پس منظر میں نرمداواٹر ٹربیونل قائم کیا گیا اوریہ تنازع اِس ٹربیونل کو بھجوا دیا گیا۔ اپنے فیصلے میں ٹربیونل نے انڈس کمیشن (رائو کمیشن) اور 1966 ء کے ہیلسنکی (Helsinki)رولز کے آرٹیکل چار اور پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اس طرح کے تصفیے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم ہی مناسب قانون کا درجہ رکھتی ہے۔ ٹربیونل نے یہ بھی کہا کہ :’’ایک سے زیادہ ریاستوں میں بہنے والے دریا کے پانی کا اُس دریا کے بیسن سے باہر منتقل کرنا قانونی طور پر درست ہے اور کسی تنازع میں مخصوص حالات کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کے سوال پر دریا کے پانی کی ایک بیسن سے دوسرے بیسن میں منتقلی ایک قابلِ غور عمل ہوسکتا ہے۔ پانی کو ایک بیسن سے دوسرے بیسن میں لے جانا کوئی قانونی سوال نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سوال ہے اور اسے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حل کیاجانا چاہئے‘‘۔ٹربیونل کا یہ فیصلہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے اصول پر مبنی تھا۔
پانی میں شراکت داری۔ دریائے کاویری پر طول پکڑتا تنازع:بھارت میں پانی کے بارے میں ریاستوں کے درمیان اختلافِ رائے سے متعلق تمام معاملات کا حتمی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔دریائے کاویری کا تنازع مختلف فورم پر زیرِبحث لایا جاچکا ہے۔تاہم ابھی اس کا حل تلاش کیا جانا باقی ہے۔
دریائے کاویری پر جھگڑا درحقیقت تامل ناڈو اور کرناٹک کی ریاستوں کے درمیان مفادات کا تصادم ہے۔ تامل ناڈو دریائے کاویری کے زیریں حصے میں واقع ہے اور یہاں آبپاش زراعت کی ایک طویل تاریخ ہے جبکہ ریاست کرناٹک دریا کے بالائی حصے میں واقع ہے اور یہاں آبپاشی کے منصوبے بہت بعد میں شروع کئے گئے۔ کرناٹک کو بالائی ریاست ہونے کی وجہ سے پانی کے بہائو پر کنٹرول حاصل تھا ، لیکن زیادہ پانی حاصل کرنے کیلئے کرناٹک کے منصوبوں کو زیریں ریاست یعنی تامل ناڈو نے بڑی کامیابی کے ساتھ چیلنج کیا۔ کیرالہ اور پڈوچیری(Puducherry) کی ریاستیں بھی اب اس تنازع میں فریق بن چکی ہیں۔ کرناٹک کی طرح کیرالہ کی ریاست بھی دریائے کورے کے بالائی حصے میں واقع ہے اور یہ اپنے لئے پانی کی مناسب مقدارمتعین کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پڈوچری ریاست دریا کے سب سے زیریں علاقے میں ہے اور یہ اپنے حصے کے طور پربہت تھوڑے پانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس معاملے کا پائیدار حل تلاش کرنے کیلئے مرکزی حکومت متعدد اقدامات آزما چکی ہے۔ لیکن تاحال اس معاملے کا حل ایک خواب کی مانند ہے۔ سیاسی مذاکرات کی ناکامی پر بھارتی سپریم کورٹ نے مداخلت کی جس پر مرکزی حکومت نے 1990 ء میں کاویری واٹر ڈسپیوٹ ٹربیونل قائم کیا۔ ٹربیونل نے ماضی میں تامل ناڈو کے پانی کے استعمال کا جائزہ لیتے ہوئے کرناٹک کیلئے پانی کا ایک معقول حصہ مختص کر دیا۔لیکن پانی کا یہ حصہ کرناٹک کے مطالبے کے مطابق نہیں تھا۔ کرناٹک کی دانست میں ٹربیونل کا فیصلہ نامناسب اور ناقابلِ عمل تھا، چنانچہ اُس نے مذکورہ فیصلے کو کالعدم قرار دینے کیلئے آرڈیننس جاری کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے معاملے کو دوبارہ ٹربیونل میں بھجوا دیا۔ 1998 ء میں کاویری ریور اتھارٹی قائم کی گئی، جس کا سربراہ وزیراعظم تھا جبکہ متعلقہ وزرائے اعلیٰ اِس اتھارٹی کے ارکان تھے۔ 2007ء میں ٹربیونل کے حتمی فیصلے کی متعدد شقوں کو تمام ریاستوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔ یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیرِ التوا ہے۔پانی کی قلت اور قحط سالی کے دوران پانی کی تقسیم اس طول پکڑتے جھگڑے کابنیادی نکتہ ہے۔
بھارت میں پانی کے انتظام و انصرام کا ایک اور پہلو ہمارے تجربے سے مختلف ہے۔ وہاں آبی ذخائرکی تعمیر کا اختیار زیادہ تر ریاستوں کے پاس ہے، تاکہ پانی کی کمی کے دنوں میں ان ذخائر سے استفادہ کرتے ہوئے پانی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری لائی جاسکے۔آبپاشی کیلئے بڑے ڈیم بھارت کی مرکزی حکومت کی ملکیت نہیں ہیں۔ یہ ذمہ داری ریاستوں کے پاس ہے اور گزشتہ سو سال سے بھی زائد عرصے سے ریاستیں بھارت کے بڑے دریائوں پر نہ صرف ڈیم بنا رہی ہیں بلکہ ان کا انتظام و انصرام بھی چلا رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے مقابلے میں ہمارے یہاں سندھ طاس پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت ہی کم ہے۔
مرکزی حکومت نے ڈیم تعمیر کرنے کیلئے ریاستوں کے ساتھ مل کر متعدد مشترکہ کاروباری ادارے/ جوائنٹ ونچرز قائم کئے ہیں۔ اس حوالے سے مرکزی حکومت اور ہماچل پردیش کے باہمی اشتراک سے قائم ناتھپا جھاکڑی پاور کارپوریشن جبکہ مرکزی حکومت اور اترپردیش کے باہمی اشتراک پر مبنی تہری(Tehri) ہائیڈرو ڈویلپمنٹ کارپوریشن کواِس ضمن میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ اور بھارت میں ریاستوں کے درمیان تنازعات کی یہ مثالیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پانی کے بارے میں ریاستوں یا صوبوں کے درمیان شدید ترین جھگڑے بھی مذاکرات اور ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر حل کئے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت بھی وفاق میںشامل مختلف اکائیوں کی معاونت کرتی ہے تاکہ اتفاقِ رائے کا حصول ممکن بناتے ہوئے پانی سے متعلق پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں