آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنوری کی چھ تاریخ تھی اور پیر کا دن۔ ہنگو کے گائوں ابراہیم زئی میں گورنمنٹ ہائی اسکول کے تین طالب علموں کو سڑک پر ایک اجنبی شخص نظر آیا جو اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسکول میں صبح کی دعا ہو رہی تھی اور ایک ہزار کے قریب طالب علم کھلے آسمان تلے صحن میں موجود تھے۔ دو طالب علم مشکوک شخص سے خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے لیکن پندرہ سالہ سید اعتزاز حسین نے لپک کر اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ اس کشمکش میں خودکش حملہ آور کی جیکٹ پھٹ گئی ۔ اعتزاز حسین نے اپنی جان دے کر بہت سے بچوں کی جان بچا لی۔ نویں جماعت کے اس بچے کی بہادری حیرت انگیز ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ خودکش حملہ آور کسی تلقین،ذہنی تطہیر اور نفسیاتی تربیت کے نتیجے میں اس خوفناک حرکت کے لئے تیار ہوا ہو لیکن کمسن اعتزاز حسین صرف ایک سادہ اصول کی پیروی میں اپنی جان پر کھیل گیا۔ مذہبی یا سیاسی مقاصد کے لئے دوسرے انسانوں کی جان سے کھیلنا ناجائز ہے اور اس طرح کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جانی چاہئے۔ خیبر پختونخوا کی زمین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے عظیم کردار پیدا کیے ہیں۔ ٹانک کے اسکول کا پرنسپل جس نے اپنے طالب علموں کے اغوا کی مزاحمت کرتے ہوئے جان دی، سوات کے لالہ افضل خان جو برسوں تک طالبان کے خلاف مزاحمت کی خونچکاں داستان رقم کرتے رہے لیکن جن کی اپنی

سیاسی جماعت اے این پی نے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی بجائے اعظم ہوتی کا انتخاب کیا۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا سربراہ صفوت غیور جو اپنے جوانوں کے درمیان شہادت سے ہمکنار ہوا، میاں افتخار حسین جس نے اکلوتے بیٹے کی قربانی دے کر بھی طالبان کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ بشیر احمد بلور جس نے باچا خان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے جان دی۔ پاکستانی فوج کے وہ بہادر جوان جنھوں نے سوات میں طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے کے باوجود خالی ہاتھوں سے دشمنوں کی گردنیں توڑ ڈالیں۔ سوات کی کم عمر بچی ملالہ یوسف زئی جس نے بچیوں کی تعلیم کا پرچم بلند کیا۔ طالبان کے ظالمانہ تسلط کے دوران سوات کے زمینی حقائق سے بے خبر لوگ اب بھی ملالہ کی بین الاقوامی پذیرائی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔اب اس درخشاں فہرست میں ایک معصوم اور بہادر بیٹے کے نام کا اضافہ ہوا ہے۔
تقویم میں سب دن ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انسان اپنے شعوری فیصلوں اور افعال سے کسی دن کو عظمت عطا کرتے ہیں اور کوئی دن کسی کوتاہی کے بوجھ تلے قہر مذلت میں ڈوب جاتا ہے۔ جس روز اعتزاز حسین انسانی عظمت کے درجۂ اولیٰ کو پہنچا، اسی روز، چھ جنوری ہی کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے خلاف ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مدرسے کے ’’چانسلر‘‘ مولانا سمیع الحق نے پولیو کی ویکسی نیشن کے حق میں جو فتویٰ دیا تھا ، ذرائع ابلاغ اسے بار بار دہرا کر امن مذاکرات کے ضمن میں مولانا سمیع الحق کی مفروضہ کوششوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ کیوں صاحب یہ کیسے؟ گزشتہ برس 10دسمبر کو مدرسہ حقانیہ نے پولیو کے قطرے پلانے کے حق میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا۔بعد ازاں 20دسمبر کو مولانا سمیع الحق نے نوشہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیو کے خلاف مہم کی حمایت کی تھی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بچوں کو قطرے پلاتے ہوئے ایک تصویر میں مولانا کی موہنی صورت بھی نظر آئی۔ پھر عمران خان کو ان عناصر کی طرف سے دھمکی ملی جن کے بارے میں ہمارا مؤقف ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں دہشت گردی پر آمادہ ہیں۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی پیغام زبانی حضرت مولانا سمیع الحق کو بھی پہنچا ہے۔ سو اب مولانا کا علم لدنی کہتا ہے کہ ان کے فتوے کو بار بار نشر کرکے ذرائع ابلاغ ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ مولانا کو ہمت کرنی چاہئے ،فتویٰ تو الاعلائے کلمتہ الحق ہوتا ہے۔ کلمہ حق مدرسہ حقانیہ کو بہت زیب دیتا ہے۔ کلمہ حق کی تشہیر تو ذرائع ابلاغ کی طرف سے کار خیر میں شرکت ہے۔ یہ عجیب بات کہی جا رہی ہے کہ کلمہ حق کی تشہیر ایک سازش ہے۔ مولاناسمیع الحق کی منشا غالباً یہ ہے کہ سیاسی تقاضوں کے پیش نظر اگر کوئی بیان یا فتویٰ دے ہی دیا تھا تو اسے بار بار بیان کر کے ان کے گلے کا طوق نہ بنایا جائے۔ کچھ تقاضے سیاسی ہوتے ہیں اور کچھ بشری۔ مولانا سے بہتر یہ کون جانتا ہے۔ مولانا آپ تو بہت بہادر عالم دین ہیں۔ امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتے ہیں۔ پہلے آپ نے دفاع افغانستان کونسل بنائی تھی اب آپ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ ہیں۔ اسلام آباد کے بحر ظلمات میں آپ کے گھوڑے بلا امتیاز صنف دوڑتے ہیں۔ طالبان تو آپ کے اپنے بچے ہیں۔ اگرچہ آپ نے کبھی یہ صراحت نہیں کی کہ طالبان کے افعال آپ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ہیں یا آپ سے تدریس میں کچھ کوتاہی ہوئی ہے۔ ہنگو کا ایک پندرہ سالہ نہتا بچہ خودکش بمبار سے جا بھڑتا ہے ، اپنی جان قربان کر دیتا ہے ، درجنوں مائوں کی گود آباد رکھتا ہے ۔ عام بچہ تھا ۔حکومت کے کھولے ہوئے اسکول میں تعلیم پاتا تھا۔ روحانی ارتفاع کی اس سے توقع نہیں تھی۔ وہ کیسی اعلیٰ منزلوں کو پہنچ گیا۔ مائیں اسے دعائیں دیتی ہیں۔ بہنیں اس پہ فخر کرتی ہیں۔ بھائی اس کے نام کی مالا جپتے ہیں۔ اس کا باپ مجاہد علی متحدہ عرب امارات کے صحرائوں میں مزدوری کرتا ہے مگر اس کے سینے میں انسانی محبت کی حرارت موجود ہے۔اسے اپنے بیٹے کی شہادت کے معنی معلوم ہیں۔ اہل دنیا میں ایسی استقامت اور منبر و محراب کے رکھوالے ایسے متزلزل کہ اپنے علم کی روشنی میں فتویٰ دے کر مراجعت کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ اس میں کچھ سبق ریاست کے فیصلہ سازوں کے لئے بھی ہے ۔ پاکستان میں پولیو کے مزاحمتی قطرے پلانے کی مہم 1994ء میں شروع ہوئی تھی۔ ہم پاکستان میں اس موذی مرض کو قریب قریب ختم کرچکے تھے۔ پھر طالبان آئے اور پولیو ویکسی نیشن کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی۔ تاریخ کو مسخ مت کیجئے۔ یہ مت کہئے کہ شکیل آفریدی والا معاملہ سامنے آنے کے باعث پولیو ویکسی نیٹر مارے جا رہے ہیں ۔ کوئٹہ میں پولیو ویکسی نیٹر 2004ء میں بھی مارے جا رہے تھے۔ تب کوئٹہ شوریٰ کی خبریں عام تھیں۔ 2007ء میں خیبر پختونخوا میں پولیو ویکسی نیٹر اغوا کیے گئے اور انہیں قتل کیا گیا۔ پاکستان کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو خوف ہے کہ گھر گھر مہم کے نتیجے میں ان کی نشان دہی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں پولیو کے بیس ویکسی نیٹر مارے گئے جنہیں اپنے فرض منصبی کی ادائیگی پہ 245 روپے روزانہ کی خطیر رقم ملتی تھی۔ 2013ء کے دوران پاکستان میں پولیو کے 45 کیس سامنے آئے۔ صرف ستمبر کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے 35 ہزار سے زیادہ گھرانوں نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حیرت ہے کہ پولیو کے قطروں کے منفی اثرات کے بارے میں والدین کا یہ شعور خیبر پختونخوا میں پایا جاتا ہے یا کراچی میں جس کے متعلق طالبان رہنما مسلم خان نے 2006ء میں دعویٰ کیا تھا کہ ہم کراچی میں موجود ہیں۔ ایس ایس پی چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد بھی ہم نہیں جانتے کہ کراچی میں طالبان موجود ہیں؟ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ حکومتوں کے معاملات فتوئوں کی روشنی میں نہیں چلائے جاتے۔ ریاست کو اپنے استحکام کے لئے فتوئوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اعتزاز حسین سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اس بچے نے اپنی جان دے کر بتایا ہے کہ بادشاہ ننگا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں