آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اپنے اپنے مطلب کے لیے قوم کے خرچ پر پاکستان کے میڈیا پر دھاڑنے والوں کو اپنے خرچ پر پٹرول ڈال کر گھر سے نکلنا بھی گوارہ نہیںہے۔ کیا چوہدری اسلم والی واردات اور نئے ریٹائر شدہ VIP کو وفاقی حکومت سے ملنے والی بُلٹ پروف گاڑی کے بعد بھی کسی کو کوئی شک باقی رہ گیا ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے۔۔۔؟ ان مالکان کا مزارعہ کون۔۔۔؟ اور ان کے کرایہ دار کون ہیں۔۔۔؟
آج سے تقریباً 14 سال پہلے جنرل موسیٰ کے قریبی نادر چنگیزی بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری تھے۔ اُن دنوں میرے ایک عزیز کوئٹہ کینٹ کے کمانڈر تھے۔ میں میجر نادر چنگیزی کا مقدمہ لڑنے کے لیئے کوئٹہ پہنچا ۔ ائر پورٹ سے میرے سابق کلاس فیلو نواب اسلم رئیسانی اور سینیٹر لشکری رئیسانی کے لوگوں نے ریسیو کیا اور کمانڈر کے گھر پہنچایا۔ اگلی صبح ایک لمبی فوجی بیرک میں اس وقت کے سیشن جج جو احتساب عدالت کی سربراہی کررہے تھے اُن کے سامنے مقدمہ پیش ہوا ۔ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جناب انور کانسی سے میرا پہلا تعارف تھا۔ دوسرا تب ہوا جب میں وزیرِ قانون تھا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اُن کی تعیناتی ہوئی۔ وہ درویشوں کے ماننے والے صوفی منش آدمی ہیں۔ اسی لیے بلوچستان میں ہی رہتے ہیں۔ اور چیف جسٹس ہونے کے باوجود پروٹوکول کے بغیر اپنی ایک عدد گاڑی میں سفر

کرتے ہیں۔ عام آدمی کی طرح زندگی گزارنے والے اس چیف جسٹس کی گاڑی پنجاب پولیس کے شیر جوانوں نے نہ صرف روکی بلکہ اُس پر مکّے بھی برسائے۔ اِس "حسنِ سلوک" کی وجہ یہ بنی کہ ایک دولت مند گھرانے کی چوتھی نسل کے بچے کی سرکاری بُلٹ پروف گاڑی پروٹوکول کے ساتھ گزر سکے۔ اب بھی کسی کو کوئی شبہ ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے ۔۔۔؟ ان مالکان کا مزارعہ کون۔۔۔؟ اور ان کے کرایہ دار کون ہیں۔۔۔؟ کرایہ داروں سے یاد آیا کہ ہمارے ضابطہ فوج داری میں کسی خاتون کو مردانہ تھانے تک کسی بھی جرم میں لے جانے کی اجازت نہیں۔ پیر ارشاد احمد عارف بجا طور پر ایک سرکاری اہلکار کی بیٹی کو ملنے والی دھمکی پر مضطرب ہوئے۔ مگر مالکان ِ پاکستان کی مرضی ہے وہ جب چاہیں کسی صاحبِ عزت کی بیٹی کو ریورس گاڑی کی" تیز رفتاری" کے الزام میں حوالات کے اندر کریں۔ یا حوالات کے باہر کیمروں کا بازار سجا کر عفت مآب خاتون ڈرائیور سے تفتیش کر کے اُس کی لائیو ویڈیو دُنیا بھر میں نشر کروائیں۔ چار دیواری تو پہلے ہی بوسیدہ تھی اب قانون کے لمبے ہاتھ چادروں تک پہنچ رہے ہیں۔۔۔ خدا سب کے پردے رکھے۔ ان دل شکن حالات میںلاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس نفرت انگیز واقعے میں بدبو دار پروٹوکول کی سنگین واردات کا نوٹس لیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا شکریہ۔ لیکن اس وقوعے سے جنم لینے والے سوالات ایک کالم پر یا ایک نوٹس پر ختم نہیں ہوسکتے۔ پاکستانی ریاست میں اختیار کی تقسیم، اقتدار کے مُک مُکا اور وسائل پر قابض مافیا جس طرح آئین کے آرٹیکل 3، 4،9 اور آرٹیکل 25 کو ہر روز اپنے پیروں تلے روند کر سرکاری سڑکوں کو سرکاری پٹرول اور سرکاری خرچ پر چلنے والی سرکاری بُلٹ پروف گاڑیوں سے روندتے ہیں۔ کیا کبھی اِن مفت خوروں کا یہ آئین توڑ اقدام بھی آرٹیکل6کی زد میں آئے گا۔۔۔؟
1973 کے آئین میں کہیں نہیں لکھا ہوا کہ آئین کا کون سا آرٹیکل زیادہ مقدس اور معتبر ہے اور کون سا آرٹیکل بے توقیر یا بے وقعت ہے۔ پاکستان کا آئین صرف یہ کہتا ہے کہ جو بھی اس آئین کی کسی دفعہ کو توڑے گا اُس کا ٹرائل ضرور ہوگا۔ خواہ وہ سیاست کار ہو، جج ہو، جرنلسٹ ہو ، جرنیل یا کوئی دوسرا۔ اسی آرٹیکل نمبر 6 کے تحت بنائے گئےHigh Treason Punishment Act مجریہ 1973اور ترمیمی ایکٹ مجریہ 1976 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جو کوئی بھی آئین کے کسی حصے کو توڑے گا اُس کا ٹرائل23 مارچ1956 سے لے کر آنے والے سارے سالوں میں بطورملزم ہوگا۔ اس ٹرائل کے لیے نہ کوئی وقت کی قید ہے، نہ ہی کسی حکمران، منصف، عسکری یا لشکری کے لیے کسی طرح کا بھی کوئی استثناء موجود ہے ۔ لیکن پاکستان کے مالکان قومی اور سرکاری وسائل پر قابض مقدر کے سکندر ہیں۔ جبکہ بے وسیلہ اور بے آواز عوام تین قسموں میں بٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ۔ اُن میں سے پہلی قسم گُمشدہ پاکستانیوں کی ہے جن کا نہ کوئی اتہ پتہ ملتا ہے اور نہ کوئی حال احوال ، نہ ہی انہیں گُم کرنے والا ملزم پکڑا جاتا ہے۔ خواہ ملزم کسی بڑی بیرک میں ہو، کسی ایوان میں یا کسی بڑے شہر میں۔ آج تک گُمشدہ پاکستانیوں کے عزیزوں اور گھر والوں کو نہ پاکستان کا نظامِ ریاست مطمئن کر سکا ۔ نہ نظامِ عدل اور نہ ہی نظامِ حکومت اُن کی دستگیری یا داد رسی کے لیے پہنچا۔ ہاں سب جگہ سے لمبے دعوے اور اونچے وعدے اخباروں کی شہ سُرخیاں بنتے رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔
پاکستان کے عوام کی دوسری قسم وہ لوگ ہیں جو اغوا شدہ ہیں۔جن میں ہر طبقے کے شہری شامل ہیں۔ ہمارے وطن کا اسلامی، جمہوری، وفاقی، پارلیمانی مگر معذور اور مجبور آئین نہ ہی ان لوگوں کی برآمدگی کے لیے کوئی موثر اور نتیجہ خیز رِٹ جاری کر سکا۔ نہ ہی ہماری" شرمیلی ریاست " غیر محرم ملزموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ رہی جمہوری حکومت تو اُس کا حال بڑے گھر کے بڑے قیدی سے پوچھ لیجیے۔ پاکستانی عوام کی آخری کیٹیگری مسترد شدہ لوگوں پر مشتمل ہے۔ ایسے لوگوں کی اکثریت کے نام انتخابی فہرستوں میں لکھے جاتے ہیں۔ ایسی انتخابی فہرستیں جو نہ یہ عوام بنا سکتے ہیں نہ ہی اپنے فوت شدہ لوگوں کے نام اُن لسٹوں سے نکال سکتے ہیں اور نہ تو اِن انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی یا اِن کی درستی کا اختیار اُن کے ہاتھ میں ہے۔ یہ مخلوق تو اس قابل بھی نہیں کہ اُن کے بادشاہوں یا شہزادوں ، شہزادیوں میں سے کوئی انہیں گیس سپلائی بند کرنے پر سوری کہہ دے ۔ یا اُن کے گھروں میں ہونے والے 12سے 18 گھنٹے تک کی میراتھون لوڈ شیڈنگ پر کوئی بیان ہی جاری کرسکے۔ فرمان تو دُور کی بات ہے۔
یہ مسترد شدہ مخلوق بھی عجیب مخلوق ہے۔ کسی زمانے میں یہ روٹی، کپڑا اور مکان کی تلاش میں تھی۔ تب اسے اپنے مقام سے لذت آشنائی کا تجربہ ہوا۔ آج یہ مخلوق دال ، چپاتی ، امن و امان کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ مسترد شدہ مخلوق کو اپنے ہاتھوں پر اعتبار ہی نہیں۔ وہ ہاتھ جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اقوام کی تقدیر وہی لکھتے ہیں۔ نئے زمانے کے طائرِ لاہوتی کی تقدیر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، اے ڈی بی، اور خیمہ و کھجور برانڈ برادرانِ اسلام کے ہاتھوں میں ہے۔ بلکہ اب تو یہ تقدیر بھی غریب کی غیرت کی طرح گُم شدہ، اغوا شدہ اور مسترد شدہ جنس بن گئی ہے۔ جس مُلک کے 6 منتخب ایوان بیابان قبرستانوں کا نقشہ پیش کر رہے ہوں۔ جہاں سے ذاتی لڑائیوں اور مفاداتی جنگوں کے گھمسان کی آوازوں کے علاوہ مزید کچھ نہ سُنائی دے۔ وہاں گم شدہ، اغوا شدہ اور مسترد شدہ لوگوں کے لئے وقت کس کے پاس ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں