آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمارےبزرگ ترین مشیرخارجہ جناب سرتاج عزیز نے دنیا کےتھانیدار اور اپنے ‘‘دیرینہ مہربان ’’ سےگلہ کیاہے کہ ‘‘امریکہ بڑامطلبی دوست ہے’’، ان الفاظ پر ہم میں سے بعضے توحیرت سے انگشت بدنداں تھے اور میرے جیسے کم فہم اس کا مطلب ہی مشکل سے سمجھ پائے،سوچا اس متاثرکن بیان کے پس پردہ اور زمینی حقائق سے خود اوراپنے قارئین کو جان کاری دوں۔ارض پاک کے بانی کی بہن کو بائی ڈیزائن ‘‘شکست’’ دینے والےملک کےپہلےڈکٹیٹر جنرل ایوب وفاقی کابینہ کےاجلاس کی صدارت کررہے تھے،سیکرٹری قریب آیا، کان میں بتایاکہ امریکی سفیرلائن پرہیں اور آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ،جنرل نےکہاکہ بتادو،اجلاس کےبعد بات کرتاہوں،سیکرٹری نےجواب پہنچایا، لائن کٹ گئی،اجلاس ختم ہواتو سیکرٹری نے شکایتی اندازمیں بتایاکہ امریکی سفیر ارجنٹ بات کرنا چاہتے تھے،آپ کی مصروفیت کا سن کرانہوں نے سخت بدتمیزی اورنامناسب الفاظ بھی استعمال کئے،وقت کےمضبوط اور طاقتور حکمران جنرل ایوب نےسپاٹ لہجے میں تاریخی جملےاداکئے،،
“Don’t bother ,beggers are not the Chosers”
دور ایوب میں پیسے کی ریل پیل اور مغربی کلچر کی یلغارجارہی،جب تک جنرل صاحب نے امریکی مفادات کو مقدم رکھا، اقتدار میں رہے ،جونہی امریکہ بہادر کا ‘‘مطلب ’’ نکلا،تواسی فیورٹ صدر کےگھرکےباہرمظاہرے،نتیجہ

مضبوط اقتدار سے محرومی نکلا اور یوں ریاست پاکستان کا مفاد ‘‘سرو’’ ہوگیا ۔؟
کہاجاتاہے کہ قیام پاکستان کے بعد سےملکی سیاست اور طرز حکمرانی کامحور امریکی مفادات بننے کی حکمت عملی نےپاکستان اور امریکہ کے تعلق کو ‘‘لو اینڈ ہیٹ’’ کے رشتہ میں تبدیل کردیا،اس ہردلعزیز رشتے اوربےپایاں محبت کی شدت نےجمہوریت کے تسلسل کی بجائےکبھی جنرل یحییٰ کو اقتدار بخشا تو کبھی جنرل ضیاء کی اسلامی آمریت کی صورت میں سادہ لوح قوم اسلام کےنفاذ کے دھوکے کا شکار رہی ہے،عشق کی انتہاکے مانند مسٹرسام نے طاقتور روس کی شکست وریخت میں تباہ کن کردار ادا کرنے پر،ایٹمی پروگرام سے بھی آنکھیں بند رکھیں لیکن محبت فنا ہوئی تواقتدار کےدوران ہی جنرل اپنےانجام کوپہنچ گئے،اس آمر کولانےسےلئےقبل ناخلف سیاسی رہنماکو بےتخت اورتختہ دارتک پہنچانےکا المناک سانحہ بھی مطلبی محبت کی لازوال کہانی کاحصہ ہے،1971میں وطن عزیز کےدولخت ہونےکی عظیم سازش اورکرب ناک داستان کا آغاز اور اختتام بھی اسی ظالم محبت کےنام رقم ہے،انتظار کےباوجود بحری بیڑا تومدد کونہ پہنچا، توپیں خاموش ہوئیں تو ایک چوتھائی فوج دشمن کی قیدی اورباقی ڈی مورلائز ہوچکی تھی،ملک دولخت ہوچکاتھا،‘‘طاقتوروں’’ کی منشا ہی یہی تھی کہ ایشیا میں وسائل سےمالامال پاکستان طاقت ور،مضبوط اورخوددار ملک نہ بن جائے،لیکن کمال یہ ہےکہ یک طرفہ محبت نےپھرجوش مارا،صدرنکسن نے شام کےآخری پہراندراگاندھی کوفون کیا،
“ Old witch enough is enough’’
امریکی لکھاریوں کادعویٰ ہے کہ بھارت باقی ماندہ پاکستان پربھی چڑھائی کی تیاری میں تھالیکن امریکی صدر نے بروقت مداخلت کرکے مغربی پاکستان کو بچالیا،،1999میں اس عشق کا نیا امتحان شروع ہوا جب منتخب وزیراعظم کو کال کوٹھڑی میں ڈال کرڈکٹیٹرمشرف اقتدارمیں آیا،زیادہ دیرنہ گزری تھی کہ اپنے گھر میں دہشت گردی کےواقعہ کو بنیاد بناکر امریکہ نےاسی ڈکٹیٹر دوست کو دھمکایاکہ بات مانو اورساتھ دو ورنہ پتھرکےزمانے میں دھکیل دئیے جاؤ گے،بے چارے دوست نے بھرپورساتھ بھی دیا،پرائی جنگ کو اپنا اور اپنی سرزمین کو دوسروں پر حملےکےلئےبھی پیش کیالیکن محبت رنگ نہ لاسکی، گلہ پرانااور تقاضا نیاتھا کہ‘‘ بی فیئر’’ اور ‘‘ڈو مور’’بہادر ڈکٹیٹر اپنی صفائیاں اوراپنی قوم کو طاقت کےمکے دکھاتاہوا رسوا ہوکر رخصت ہوگیا،، دہشت گردی کی شکار خون میں لت پت قوم پھر کھڑی ہوگئی ،جمہوری دور اورپھر دوسرا جمہوری دور،لیکن انداز بدلے نہ حالات ،،قوم نے دیکھاہےکہ حکمران ڈکٹیٹر کی صورت ہوں یا جمہوریت نواز ہمیشہ آئین کی من پسند شقوں کی آڑ میں ان کی اپنے مفاد کی خاطر ملکی خودمختاری، سالمیت اور عوامی مفاد کی باتیں اور دعوے،بے بنیاد اور کھوکھلےہیں،انہی میں نصف صدی سےزائد حکومتوں کا حصہ اور اب بھی ایوان اقتدار کےاہم ترین عہدے پرمتمکن ہمارے معمرمشیرخارجہ بھی ہیں جو اب بھی بہت سادا ہیں کیونکہ عوام جن حقائق کو آنکھیں بند کرکے بھی محسوس اورجان سکتے وہ ہمارے ہر دلعزیز حکمران شاید سمجھنے سے قاصر ہیں یاجان کرخود اور عوام کو دھوکے میں رکھناچاہتے ہیں،کیونکہ دنیا میں تودوستی کاسادہ سا اصول ہے کہ یہ اپنے جیسوں ، برابر اور ہم پلہ کے ساتھ ہی ہوتی ہے،امداد اور قرض دینے والےاورلینے والےدوست کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہی نہیں مفادات کی دنیا نے تعلق کے تصور کو بھی یکسر بدل ڈالا ہے،ملاحظہ کریں توتصویر کا دوسرا رخ اس بھی زیادہ تلخ ہے،امیر اور ہم پلہ طاقت ور ریاستوں کاباہمی تعلق اور رویہ بھی کھلے تضادکاشکارہے، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں دوستی نہیں صرف مفاد چلتا ہے، امریکہ بہادر مقامی سطح پر سیاست کومذہب اور جمہوریت کو عبادت سمجھتاہے لیکن عالمی سطح پر سیاست اور جمہوریت کے بارے میں اس کے معیار مختلف ہیں، روس جیسی ماضی کی عالمی طاقتیں ہوں یاموجودہ ابھرتی معاشی طاقتیں چین اوربھارت ،مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب، عراق ، شام اور مصر کے ساتھ تعلق اور سلوک، ہرجگہ امریکہ کی دوستی ومحبت حتیٰ کہ نفرت کے پیمانے بھی واضح طور پر الگ الگ ہیں،اپنی طرف ہی دیکھیں جب بھی کوئی آمرآیا، امریکہ نے اپنےمفادات کے پیش نظر امداد اور قرضوں کی مقدار اس قدر بڑھائی کہ ہرسطح پر مصنوعی عمل تنفس تیزی سےرواں دکھائی دیا، زرمبادلہ کے ذخائراربوں ڈالرہوئے اوراسٹاک ایکسچینج میں تیزی آئی ،بنکوں کےلین دین میں یکسراضافہ ہوا، عوام کی بجائےہم پیالہ سیاسدانوں پرنوازشات اور قرضوں کی برسات ہوئی،کھوکھلےلکھاری اس کوتیزرفتار ترقی لکھتے رہےاور سچ دہائی دیتارہا کہ سب نظرکادھوکا اور سراب ہے،پھرحقیقت نےآنکھ کھولی توپتہ چلا کہ‘‘ خداہی ملا نہ وصال صنم ’’بدقسمتی ہےکہ آج پھر ہم شاہرائے محبت کےدوراہے پرکھڑے ہیں، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کرنے اور اپنی دھرتی کا ہرنظام تباہ وبرباد ہوجانے کے باوجود امریکہ اور دیگرملکوں کی نظروں میں شک کی نظر سے دیکھے جارہے ہیں؟ ہمیں ڈومور کے دشنام طراز جملوں کوباربارسنناپڑرہا ہے؟ رقم کی ادائیگی کے باجود ایف سولہ طیاروں کی فراہمی سے انکار کردیا گیا ہے؟ ہمارے مفادات کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر اور معاشی شعبوں میں اربوں ڈالرکےمعاہدے کرکے ہمیں واضح پیغام دیا جارہا ہے؟ خطے میں امن کوششوں پرہماری بہادر مسلح افواج پر بےسروپا الزامات لگا کر جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کا شور مچایا جارہا ہے۔
لیکن جناب والا ۔۔ سادہ لوح پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ہمارے سرتاج آپ اور آپکی کی حکومت کوسب کچھ باآسانی سمجھ آجائےگا کہ مانگنے والوں کا کوئی دوست نہیں ہوتا،وقت آگیاہےکہ اب ہمیں بھی اپنی سمت درست کرنا ہوگی،ایک صفحے پرہونے کےدعوؤں کو حقیقت کا روپ دیناہوگا،اپنا بیانیہ بدلنے کی کوششوں کے ساتھ اپنا میزانیہ بھی بدلناہوگا اور میزانیہ اپنی قوم کی طرف دیکھ بدلناہوگا کہ صرف دووقت کی روٹی نہیں بلکہ بلند معیار زندگی،،صحت، روزگار اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی ان کا اولین حق ہے۔کرپشن کی روک تھام اور اس میں شریک افراد کو کیفرکردار تک پہنچا کرشفافیت کےمعیار مقرر کرنا ہوں گے، سیاست کو عوام کی حقیقی خدمت اور جمہوریت کو اصولوں کا پاسدار بنانا ہوگا، خدارا اس راستے کی سمت کا تعین کرلیں، آئندہ آپ کو کبھی کسی کی بے وفائی یامطلبی ہونے کا گلہ نہیں ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں