آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تخریب جو گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جاری ہے ،ہم اِس کے ہولناک نتائج بھگت رہے ہیں۔ انتہاپسندی، دہشت گردی ،بددیانتی اور نااہلی کے باعث ہمارا چمنِ زار زہرناک شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ لاشیں گر رہی ہیں ، ریاست کے ادارے مفلوج نظر آتے ہیں جبکہ توانائی کے بحران سے ترقی کا عمل بے حد متاثر ہوا ہے۔ دل پژمردہ ہیں اور بے کس لوگوں کی نااُمیدی دیکھی نہیں جاتی۔ یہ ایک ایسا آشوب ہے جو اُردو کے عظیم شاعر سوداؔ نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ آخری حدوں کو چھونے کے بعد ہمارے آشوب کے اندر سے قدرے بہتری کے آثار پیدا ہونے لگے ہیں اور حکومت کے طالبان سے بالواسطہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیا میں جو تجزیے کیے جا رہے ہیں ،اُن میں بے یقینی خاصی نمایاں ہے اور طالبان سے بے سروپا پندرہ نکاتی مطالبات منسوب کیے جا رہے ہیں۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ معاملات کو سلجھانے کی انتہائی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں اور دونوں طرف یہ احساس غالب آ رہا ہے کہ ملک میں ہر قیمت پر امن قائم ہونا چاہیے۔ اِس احساس کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ہمیں یقینا سخت مقامات سے گزرنا اور غیرمعمولی قوتِ برداشت اور بصیرت سے کام لینا ہو گا۔ دس بارہ سال کی بدامنی دو چار ہفتوں میں ختم نہیں ہو سکتی،البتہ گزشتہ آٹھ دس دنوں میں دو بنیادی باتیں اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ مذاکرات آئین کی

حدود میں ہوں گے اور دوسری یہ کہ پاکستان کے آئین میں اسلام کے تمام بنیادی تصورات موجود ہیں۔ مولانا عبدالعزیز جو لال مسجد کے خطیب ہیں، اُن کے فہمِ شریعت کو علماء نے تسلیم نہیں کیا اور اُن کا یہ موقف مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے مسترد کر دیا کہ پاکستان میں جو آئین اور جمہوریت رائج ہے ، وہ کفر پر مبنی ہے۔ اِس کے برعکس علمائے حق اور سیاسی مبصرین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جس آئین پر مولانا مفتی محمود ،مولانا شاہ احمد نورانی ،مولانا ظفر احمد انصاری اور پروفیسر غفور احمد نے دستخط ثبت کیے اور سید ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا غلام اﷲ اور مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک نے تائید کی ،وہ کفر پر مبنی کیسے ہو سکتا ہے؟ اِن مباحث نے طالبان کی قیادت کو سوچنے اور اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، چنانچہ اُن کی قیادت نے آئین کی مسلمہ حیثیت کھلے بندوں تسلیم کر لی ہے اور اِسی کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بڑی مثبت اور اطمینان بخش پیش رفت ہے۔
اب مذاکرات کو حقیقی کامیابی میں ڈھالنے کے لیے تمام اہم عناصر کو اپنا اپنا کردار بڑی حکمت سے ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کی طرح طالبان میں بھی امن مذاکرات کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے شریعت کے نام پر جوانوں کو خودکش جیکٹس پہنائی ہوں ، اُن کے لیے امن کا راستہ اختیار کرنا بظاہر خاصا دشوار ہو گا۔ اِسی طرح جن اداروں کے ہزاروں افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں ،اُن کے لیے مصالحت کی راہ اختیار کرنا بڑے دل گردے کی بات ہو گی۔ اِس کے علاوہ وہ نام نہاد لبرل عناصر جو اسلام کا نام سننے اور اُس کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے تیار نہیں، وہ فوجی آپریشن کی ’’برکات‘‘ بڑی فصاحت سے بیان کر رہے ہیں۔ ملک میں صرف جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام ،تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ کی چوٹی کی قیادت مذاکرات کے حق میں تھیں لیکن مولانا فضل الرحمٰن وقت آنے پر اپنی اَنا کے ہاتھوں پیچھے ہٹ گئے اور جناب عمران خاں بھی فرنٹ لائن سے غائب ہو گئے۔ مولانا سمیع الحق اپنے آپ کو ’’بابائے طالبان‘‘ کہتے ہیں مگر جب سیاسی شوریٰ سے بالمشافہ بات چیت کا وقت آیا ، تو اُنہوں نے اپنی جگہ جناب یوسف شاہ کو آگے کر دیا۔ اِس طرح طالبان کی قیادت سے تبادلۂ خیال کے لیے زیادہ تر بار جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم خاں پر آن پڑا جنہوں نے بڑی بیدار مغزی اور جاں فشانی کا ثبوت دیتے ہوئے امن مذاکرات کو صحیح ڈگر پر ڈال دیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خاں مذاکراتی عمل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور اُمید ہے کہ جنگ بندی کا ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان کو اُن عناصر کو سمجھانا اور اُن کے مدِمقابل آنا ہو گا جو بم دھماکے اور خودکش حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب طالبان کو بھی امن کی ضرورت ہے کہ فاٹا کے باشندے بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں۔ شاہد اﷲ شاہد کا جو انٹرویو نیوز ویک میں شائع ہوا ہے ،وہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے کا ہے جس کی اب کوئی زیادہ اہمیت نہیں رہی۔گزشتہ پانچ سال ہمارے حکمرانوں نے لوٹ مار اور عیش و عشرت میں گزار دیے اور توانائیوں کے سرچشمے خشک کر ڈالے۔صدر زرداری ہر تین چار ماہ بعد چین کے دورے کرتے اور افواہوں کو جنم دیتے رہے۔ اُن کے مقابلے میں نئے حکمرانوں کی اپنے وطن کے لیے تڑپ اور لگن قابلِ دید ہے۔ وزیراعظم نوازشریف، وزرائے اعلیٰ شہباز شریف ،پرویزخٹک ،عبدالمالک بلوچ ،وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات پرویزرشید ، ریلوے کے وزیر خواجہ سعدرفیق ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر مملکت عابدشیرعلی شب و روز پاکستان کا امیج، اِس کی معیشت اور اِس کے اداروں کی بحالی میں لگے ہوئے ہیں۔
شریف برادران جس دیوانگی اور برق رفتاری سے کام کر رہے ہیں ، اِس سے اُمید بندھتی ہے کہ گیس کی قلت پر ایک ڈیڑھ سال میں قابو پا لیا جائے گا اور کوئلے ،سولر اور پانی سے اتنی مقدار میں بجلی پیدا کر لی جائے گی کہ آئندہ پچیس برسوں تک اِس کی فراوانی رہے گی اور نرخ بھی کم ہوجائیں گے۔ پچھلے دنوں جناب شہبازشریف نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کا ذکر کیا ،تو یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی خرابیٔ صحت کے باوجود شب و روز نئے نئے آئیڈیاز کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور پوری حکومتی مشینری کو منصوبوں کی تکمیل کے لیے بڑی ذہانت سے استعمال کرتے ہیں۔وہ یہ سب کچھ عام آدمی کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے کر رہے ہیں ، تاہم اُنہیں سماجی ترقی پر پوری توجہ دینا ہو گی کہ گڈگورننس اور پائیدار ڈلیوری سسٹم کے ذریعے ہی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔تخریب سے تعمیر کے سفر میں خواجہ سعد رفیق سنگِ میل ثبت کرتے جا رہے ہیں۔ ریلوے عام آدمی کے لیے سفر کا سب سے سستا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جو گزشتہ برسوں میں تباہی سے دوچار ہو چکی ہے۔ گزشتہ دنوں خواجہ صاحب نے 200دنوں کی کارگزاری بیان کی ،تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اُن کی شبانہ روز کوششوں اور اعلیٰ مناصب پر دیانت دار اور فرض شناس لوگوں کو فائز کرنے سے اِس شعبے کی آمدنی میں تقریباً ساڑھے تین ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ مسافر گاڑیوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور پچپن فیصد وقت پر چلنے لگی ہیں۔ مال بردار ٹرینیں جو بند ہو چکی تھیں ،اُن کی تعداد میں اب روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اسٹیشن آباد ہو رہے ہیں اور پشاور سے کراچی تک بجلی سے گاڑیاں چلانے کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
چین اور جاپان کے تعاون سے ایک عظیم الشان انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے لاکھوں ٹن کوئلے کی باربرداری کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی سے حفاظت کے لیے ایک عظیم الشان منصوبہ وجود میں آنے لگا ہے۔گوادر کو کراچی سے ملانے کے لیے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ دہشت گردی سے حفاظت کا ایک ہمہ پہلو نظام وجود میں آ چکا ہے اور فضائی نگرانی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اُنہوں نے اِس روح پرور حقیقت کا بھی اظہار کیا کہ مسافر گاڑیوں میں نماز کی جگہ مختص کرنے کے لیے کوچز کے ڈیزائن میں تبدیلی کا عمل جاری ہے اور تیار شدہ تین کوچز کراچی ایکسپریس میں لگا دی گئی ہیں۔ خواجہ صاحب نے بڑے انکسار اور بڑے اعتماد سے بحالی کے سفر کی جو رُوداد سنائی ،اُس نے میرے اِس یقین میں زبردست اضافہ کر دیا کہ اچھے دن آ رہے ہیں اور تعمیر کا سفر تیزتر ہوتا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں