آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حکومت کوئی بھی ہو اور نظام کیسا بھی ہو۔ اپنے عوام کو جان و مال، عزت و آبرو کی ضمانت اور ان کا تحفظ حکومت کا اولین فرض ہے اور جب کوئی حکومت یا حکمران ایسا کرنے میں ناکام ہو جائے تو چاہے کچھ بھی ہو اسے اچھا حکمران نہیں کہا جا سکتا۔ غضب خدا کا کہ تھر کے علاقہ میں غذائی قلت سے دس بارہ نہیں 124معصوم اور بن کھلے پھول مرجھا گئے۔ کسی نے توجہ نہیں دی۔ کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ تھر قحط سے دوچار ہے جہاں بچے موت کی وادی میں جا رہے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ اس علاقے میں تقسیم کرنے کے لئے گندم فراہم کی گئی لیکن متاثرین تک نہ پہنچ سکی۔ جب میڈیا نے ’’اونچے ایوانوں‘‘ پر دستک دی اور ’’خواب اقتدار‘‘ سے بیدار ہوئے تو علاقہ ’’بھوک اور بیماری‘‘ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ سندھ جہاں پیپلز پارٹی کے سرپرست بلاول بھٹو زرداری نے سندھی ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لئے باقاعدہ ایک میلہ منعقد کیا اسی سندھ کا ایک علاقہ ’’آفت زدہ‘‘ ہے اور ستم یہ ہے کہ اسی صوبہ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی ہے۔ جناب بلاول بھٹو زرداری ایسی عظیم خاتون کے صاحبزادے ہیں جو ’’عوام کی آواز‘‘ جمہوریت کی بحالی کی جنگ لڑتی ہوئی شہید ہوئیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کو ان کے حقوق دلوائیں گے۔ انہوں نے ابھی تک اس ظالمانہ غفلت کا نوٹس کیوں نہیں لیا۔ اس دھرتی پر جہاں انہوں نے

ثقافت کا جشن منایا تھا وہیں معصوم بچے بھوک سے مر گئے ہیں۔ جب میڈیا نے شور مچایا تو گھبرا کر سندھ کے وزیر اعلیٰ نے غفلت کا اعتراف کیا۔ سابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو سانحہ تھر کا از خود نوٹس لینے کے لئے مراسلہ لکھا اور اب ہر طرف سے شور برپا ہے۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی نوٹس لیا ہے۔ وزیراعظم نے فوری امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور پنجاب حکومت نے امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے سب سے اہم قدم بحریہ ٹائون کے سربراہ ملک ریاض حسین کی جانب سے اٹھایا گیا جنہوں نے فوری طور پر 20کروڑ روپے کی نہ صرف امداد کا اعلان کیا ہے بلکہ تھر میں بحریہ دسترخوان قائم کرنے اور طبی سہولتیں مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جب تک تھر میں مکمل بحالی نہیں ہوتی ان کا ادارہ موجود رہے گا ان کا کہنا ہے کہ تھر کے عوام کے لئے جان بھی حاضر ہے۔ روزنامہ جنگ نے ’’شاباش ملک ریاض‘‘ کی سرخی لگا کر ان کی خبر دی ہے جو ہر صورت درست بھی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ عبدالستار ایدھی اور ان جیسے دوسرے سماجی رہنما خود تھر پہنچ جاتے اور ان خاندانوں کے سروں پر ہاتھ رکھتے جن کے معصوم بچے خوراک اور دوا نہ ہونے کی وجہ سے چھین لئے گئے ہیں۔ ملک ریاض حسین نے آگے بڑھ کر ان کی مدد کی ہے۔ لاہور میں ایک ماں نے دو بچوں کا اپنے ہی ہاتھوں گلا گھونٹ دیا کہ وہ انہیں بھوک سے تڑپتا نہیں دیکھ سکی۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ کیا ملک ریاض حسین اور دوسرے فلاحی، سماجی اداروں کے ذمہ داران مل بیٹھ کر اس کے سدباب کے لئے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کر سکتے کیا ایک ایسا ادارہ قائم نہیں کیا جا سکتا جو ایسے واقعات کی روک تھام کر سکے تاکہ بھوک و بیماری سے معصوم بچے ہلاک نہ ہوں۔ کسی کا گھر بھوک سے نہ اجڑے۔ یہ ایک ضروری اور فوری کرنے کا کام ہے۔ اگرچہ تھر میں ایک قیامت ہو گزری۔ جن کے پھول جیسے بچے بچھڑ گئے لیکن اب تو ایسے مستقل اقدامات کئے جائیں کہ آئندہ ایسی ظالمانہ غفلت کا ارتکاب نہ ہو۔ تھر کے علاقے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں قحط اور بیماری کی وجہ سے اس علاقے میں ایک بڑی تعداد میں مور مر گئے تھے اس وقت بھی سندھ حکومت نے پیشگی حفاظتی اقدامات نہیں کئے تھے اور اب بھی مال مویشی بیماری کا شکار ہیں۔ اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے اور اعلیٰ عدالتوں نے اس سانحہ کا نوٹس لیا ہے تو ذمہ داری کا یقین کر کےانہیں ایک بار سزا بھی دی جائے۔ یہ کتنے ظالم ہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلتے رہتے ہیں اور جانتے، بوجھتے بھی کوئی اس کی گرفت نہیں کرتا۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ ملک ’’چند پیاروں‘‘ لاڈ دلاروں کا ہی ہے۔ اس ملک کے قومی رہنما دن رات عوام کے دکھوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ ہر طرف سے یہی آواز آ رہی ہوتی ہے کہ فلاں مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ فلاں منصوبہ اتنا بڑا ہے کہ تمام دکھ درد دور ہو جائیں گے ۔ لیکن وہ وعدے وفا نہیں ہوئے ان کے محلوں کی دیواریں اور بلند ہو جاتی ہیں۔ ان کی تجوریاں ایسی ہیں جو بھرنے کا نام بھی نہیں لیتیں لیکن حرف آخر یہ ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اتنی کہ پیدائش کے وقت بچے کے کان میں جو اذان دی جاتی ہے اس کی نماز جنازہ پر بھی اسی اذان کا اعادہ ہوتا ہے اس لئے ہم سب کو چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ موت سب کو آنی ہے۔ میرے مولا امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ موت ہر شخص کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے لیکن مومن وہ ہے جو موت کا پیچھا کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں موت کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ یہ مال و دولت تو یہیں رہ جائے گا!!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں