آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو کی پنجاب آمد متوقع ہے۔ انہیں ان کی قومی سیاسی وراثت کی یاددہانی ، شاید وقت کا ناگزیر تقاضا ہے!
برصغیر کی دھرتی پہ گزشتہ ایک سو برس کی سیاسی تاریخ کے واقعاتی سمندر کی سیپیوں سے دو واقعات سنگل آئوٹ کئے جا سکتے ہیں۔ پہلا 15؍ اگست 1947ء کو قیام پاکستان، دوسرا نومبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اعلانِ تاسیس! پاکستان پیپلز پارٹی کے معرضِ وجود میں آنے کی خبر کا اگلی صبح پاکستانی پریس نے تقریباً بلیک آئوٹ کیاسوائے اُس وقت کی اپوزیشن کے ترجمان ایک قومی معاصر کے جس نے بقول راوی ’’یہ خبر غیر نمایاں سے انداز میں شائع کی۔‘‘ پاکستانی اور عالمی برادرای سمیت جنوبی ایشیا کے عوام کو اس وقوعہ سے آگاہی بی بی سی لندن سے نشر ہونے والی خبروں سے ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو بظاہر اپنے متنازع سیاسی و جاگیردارانہ سماجی پس منظر میں پاکستانی حکمرانی کے برآمدے سے نمودار ہوئے تھے۔ عوام نے ان دونوں وزنی اسباب کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کو سو فی صد قبول کیا۔ پارٹی کے بانی چیئرمین اور ان کے ساتھیوں کی بیدار مغز قیادت نے پاکستان کے قومی سیاسی ڈھانچے کی یاس انگیز ننداسی کیفیت ایک فیصلہ کن اجتماعی جھٹکے کے ساتھ ختم کر دی۔ پورے ملک کے

قومی اجزائے ترکیبی میں تحریکی طرز عمل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہو گیا۔ اس سمندر کی لہروں کے زور شور سے ٹکرانے کی آوازیں، جیسا کہ عرض کیا، پاکستانی کے عوامی ساحل سے ہی نہیں جنوبی ایشیا سمیت عالمی برادری کے عوامی ذہنوں کو بھی سنائی دینے لگیں!
پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی پیغام کی حیرت زا اجتماعی صورت گری نے ایک عالم کو زندگی پہ اعتماد کے ایک جہانِ نو سے آشنا ہی نہ کیا سب اس جہانِ نو کی تشکیل و تخلیق میں جت گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تاریخ ساز تقریر کے دوش پر نشتر پارک کراچی سے جس عوامی پیغام کی صدا بلند کرتے معراج محمد خان حیدر آباد میں، صاحبزادہ فاروق علی خان اور بابو فیروز الدین انصاری ملتان میں، ڈاکٹر مبشر حسن، حنیف رامے، ملک معراج خالد اور شیخ رشید لاہور میں، فاضل رشید ی گوجرانوالہ میں، احسان اللہ صدیقی وزیر آباد، خورشید حسن میر راولپنڈی میں، حیات محمد خان شیر پائو پشاور میں اور حق نواز گنڈا پور ڈیرہ اسماعیل خاں میں دھرا رہے ہوتے، نہ کوئی نظریاتی سست روی تھی نہ کوئی نظریاتی ابہام تھا نہ کوئی نظریاتی ضعف کسی بھی مرحلے پر فکری لکنت کا باعث بنتا تھا۔ پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق زندگی کا چارٹ نیت کے اخلاص اور لفظوں کے ایماندارانہ انتخاب کے سیل رواں کی شکل میں رواں دواں ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، پھر کہتا ہوں ، پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیا سمیت عالمی برادری کے عوام نے، ان کہے عوامی نعرے کا روپ دھار لیا یعنی دنیا بھر کے انسان اپنے بنیادی حقوق میں برابر ہیں، اُن میں مساوات ہے جس کی عدل کے ترازو میں تنصیب اور نفاذ انسانیت کی اول و آخر منزل ہے، یہی اللہ کی حاکمیت ہو گی، یہی اس کا منشا ہے ، یہی فطرت کا سندیہ ٹھہرے گا۔
1967ء نومبر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے اس قومی سیاسی سفر کو آج چھیالیسواں برس ہونے کو ہے۔ ان چھیالیس برسوں میں پاکستان کے عوام کی دہلیز پہ انہیں بنیادی انسانی حقوق کے خواب کی عملی تعبیر دینے کی جدوجہد میں پیپلز پارٹی کی تاریخ آگ اور خون سے ہی عبارت نہیں کشمکش حیات کے سینکڑوں اور ہزاروں نشیب و فراز کی وادیوں میں لکھی جاتی رہی جن میں کبھی کبھی پھول بھی کھلتے رہے، بہرحال زیادہ تر ان الم انگیز داستانوں میں ہجرت، دربدری، جیلوں، کوڑوں، بے روزگاریوں، سرکاری چیرہ دستیوں، پھانسیوں، اور شہادتوں کے واقعات نے ان داستانوں کو کبھی ایک لحظے کے لئے بھی تو بانجھ نہ ہونے دیا۔ چھیالیسواں برس ہونے پر بھی پیپلز پارٹی کی بھاگ بھری گود سے پاکستانی عوام کے حسین خوابوں کا رشتہ نہیں ٹوٹا، ایک بزرگ کالم نگار نے یہ لکھ کر چڑھتے سورج جیسی سچائی کا یوں اعتراف کیا کہ ’’ملک کی ایک بڑی پارٹی جو اس وقت بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر جان دار صلاحیتیں موجود ہیں وہ ہے پیپلز پارٹی!‘‘
1967ء نومبر سے 2013ء کے اس مارچ تک کی ان تقریباً چار دہائیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین نے تختہ دار کو سرفراز کیا، پارٹی کی چیئرپرسن کو شہادت کا رتبہ ملا، دو جواں سال بھائی موت کی خشک ٹہنیوں پہ وارے گئے، ضیاء الحق کے عہد اقتدار میں پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے پہلی اور آخری سیاسی ہجرت کی کہانی لکھی گئی، پارٹی چیئرمین کے ’’عدالتی قتل‘‘ کے بعد چار بار اقتدار کے ایوانوں کے لئے منتخب ہوئی، چاروں دفعہ عوام نے ریاستی سازشوں کی ہوس آرائیوں اور تشدد و تعذیب کے زخموں سے چور ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کو اپنے انتخاب کاسزاوار قرار دیا۔ پانچویں بار پی پی کے شریک چیئرمین اور ’’ صدر‘‘ آصف علی زرداری کی اپروچ کے مطابق ’’الیکشن Openچھوڑ دیئے۔ دراصل بعض بین الاقوامی دوست اس خطے کی کسی اور پروگرامنگ میں مصروف تھے، ہم نے اپنے متعلق انہیں ہچکچاہٹ میں مبتلا پایا۔‘‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے مئی 2013ء کے قومی انتخاب کا یہ ایک اہم ترین پہلو ہے۔ اتنا ہی اہم بلکہ حقیقی معنوں میں اس بین الاقوامی شطرنج کے تقاضوں سے بھی زیادہ اہم دہشت گردوں کی وہ کھلی دھمکیاں تھیں جن سے تحفظ کے معاملے میں ، ریاست کے اندرونی کوارٹرز میں موجود پی پی مخالف قوتوں کے باعث، تحفظ کا کوئی سامان نہیں تھا۔ نتیجتاً مئی 2013ء کی انتخابی جنگ میں پی پی نے صفیں باندھی ہی نہیں ، جو ملا وہ اسی سچائی کے بطن سے ملا کہ ’’ملک کی ایک بڑی پارٹی جو اس وقت بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر جان دار صلاحیتیں موجود ہیں، وہ ہے پیپلز پارٹی۔ ‘‘
نومبر 1967ء سے پاکستان پیپلز پارٹی کے قومی سیاسی سفر کا اسی تناظر میں تجزیہ اور احتساب کرنا چاہئے۔ نواز شریف 1980ء کی دھائی میں پاکستان کی سیاست میں شامل کئے گئے۔ ان کی ذات، ان کا سیاسی گروہ اور ان کی جماعت شروع سے آج تک ’’فوجی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے زیر سایہ اقتدار کے ایوان میں برا جمان ہوتی رہی جبکہ پیپلز پارٹی کو 1980ء کے ہر قومی انتخاب میں ان پس پردہ قوتوں اور پنجاب میں نواز شریف فیکٹر کی صوبائی ریاستی طاقتوں سے جان لیوا مقابلوں کے بعد اپنا وجود منوانا پڑا۔ وجود منوا لیا گیا تو اسٹیبلشمنٹ نے اسے دوسرے طریقوں سے اپنی حکومتوں کی آئینی مدتیں پوری کرنے سے پہلے نکال باہر کیا۔ پاکستانی تاریخ میں بار ’’صدر‘‘ آصف علی زرداری کی قیادت میں پی پی کی منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی، ’’صدر‘‘ نواز شریف فیکٹر کے ریاستی عناصر، ان کا انداز منصوبہ بندی، پاکستانی معاشرے میں ان کی مذہبی ساخت کا تسلیم شدہ اجتماعی تاثر گزشتہ تیس برسوں میں پنجاب کے ریاسی ڈھانچے پر ان کی بلا واسطہ اور بالواسطہ مکمل گرفت جیسے سیاسی اور سماجی جغرافیے پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے ایک بار پیپلز پارٹی کے قومی سیاسی سفر کو پاور گیم کے تکمیلی سنگ میل تک پہنچانے کو ٹارگٹ گیا۔ یہ حاصل ہوا، حاصل ہی نہیں ہوا پاکستان کا قومی اقتدار پہلی بار ’’صراط مستقیم‘‘ کی نعمت سے بھی فیض یاب ہوا۔
مئی 2013ء کے قومی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ’’شکست‘‘ کو ایک ’’علاقائی سندھی جماعت‘‘ کی سیاسی ریاضی تک محدود ہو جانے کے منفی امیج کی اجتماعی مبالغہ آرائی، دروغ گوئی اور غیر واقعاتی مہمات کا ایک ہی وقت میں کاروبار شروع کر دیا گیا۔ توقعات کے محلات مسمار ہوئے، ابھی 2013ء کے صرف دس گیارہ ماہ گزرے ہیں، پیپلز پارٹی پاکستانی عوام کے لاشعور سے 1970ء کا افق بن کر ابھر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پنجاب میں آمد متوقع ہے۔ انہیں ان کی قومی سیاسی وراثت کی یاددہانی، شاید وقت کا ناگزیر تقاضا ہے ،بات ابھی جاری رہے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں