آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
طالبان سے مذاکرات کے لئے ایک کمیٹی تحلیل ہوئی اور اس کے بعد دوسری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی سیاسی قوتوں کی نمائندگی نہیں۔ سیاسی مذاکرات اور معاہدے کرنا سیاسی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مذاکرات کس سطح پر ہیں اور کہاں تک پہنچے، ریاست کے سامنے فریق مخالف کے چند سطحی مطالبات کے علاوہ کوئی بات واضح نہیں اور یہ مطالبات بھی ایسے ہیں جو امن کی منزل تک نہیں پہنچا سکیں گے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس کا انجام کیا ہو گا؟ آیا شدت پسند تنظیمیں ہتھیار پھینک کر قومی دھارے کا حصہ بنیں گی یا نہیں؟ وزیراعظم جو ملک کے انتظامی و سیاسی سربراہ ہیں، انہوں نے ایک مخصوص سیاسی جماعت جس کی خیبر پختونخوا میں اکثریت ہے کے سربراہ سے ملاقات کر کے مبینہ طور پر اسے اعتماد میں لیا ہے جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر ان تمام جزئیات سے لاعلم ہیں جس کی بنیاد پر مذاکرات کی داغ بیل ڈالی گئی ہے۔ اس پس منظر میں وہ سیاسی جماعتیں جو مذاکرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں، انہیں اعتماد میں لینا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت قوم کو اس حوالے سے اعتماد میں لے کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے کس قسم کے نتائج چاہتی ہے اور وہ مذاکرات کے بعد کا قومی منظر کس قسم کا دیکھنا چاہتی

ہے کیونکہ طالبان دستورِ پاکستان کو اسلامی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
تحلیل شدہ مذاکراتی کمیٹی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ گو کہ اس کے کو آرڈی نیٹر گویا ہیں کہ ہم نے رابطہ کاری کا مرحلہ کامیابی سے عبور کیا ہے اور اب فیصلہ سازی کا وقت ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ فیصلہ سازی کیلئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے وہ بھی بیوروکریٹس پر مشتمل ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت کو جوابدہ بیوروکریٹس قوم کے مستقبل کیلئے کوئی بڑا فیصلہ کر سکیں؟ تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل اراکین پارلیمنٹ کی ایک نمائندہ کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکتی تھی جو مذاکرات کے اس رائونڈ میں حصہ لیتی اور فیصلہ سازی کر کے رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کرتی۔ کہا یہ جارہا ہے کہ بیوروکریٹس اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ یہ رپورٹ کس استحقاق کے ساتھ پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت متعدد جماعتیں مذاکرات کے اس طریق کار پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں اور یہ جماعتیں پارلیمنٹ میں خاصا اثر رکھتی ہیں۔ ان کی موجودگی میں غیر جمہوری لوگوں کی رپورٹ کس طرح سے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرسکے گی؟ لہٰذا احتیاط لازم ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ یہ معاملہ ملک کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کا ہے۔ اس سلسلے میں ہر مرحلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے بند کمرہ اجلاس میں اعتماد میں لیا جائے اور غیر رسمی ملاقاتیں ایک جماعت تک محدود نہ رکھی جائیں بلکہ ان کا دائرہ تمام سیاسی جماعتوں تک پھیلایا جائے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں، معاہدوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ کسی غیر کی جنگ کا ایندھن بننے کے بجائے استحکامِ پاکستان کی جنگ لڑی جائے۔ ملک کی صورتحال خاصی نازک ہے۔ اس پر دو رائے نہیں کہ معاشی طور پر بظاہر کچھ استحکام نظر آتا ہے۔ راقم نے اپنے گزشتہ مضامین میں یہ رائے دی تھی کہ موجودہ حکومت کو کم از کم اتنا وقت ضرور دیا جائے جتنا وہ اقتصادی بہتری کے لئے مانگ رہے ہیں۔ موجودہ بہتری وقتی ہے یا پائیدار، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن ہر صورت میں حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسیاں بنانے میں آزادی ہونی چاہئے اور ملک کی تمام پارلیمانی سیاسی جماعتیں اپنی تجاویز سامنے رکھیں کیونکہ امن اسی وقت مستحکم ہو سکتا ہے جب ملک میں معاشی استحکام ہو لہٰذا اس تمام صورتحال کے اندر حکومت وقت کے کاندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام معاملات میں شفافیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے احتیاط سے کام لے۔ بالخصوص طالبان سے مذاکرات کے معاملے میں تنہا یا مخصوص سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر معاملات نہ کرے بلکہ اسے ملک کے عظیم تر مفاد میں وسیع البنیاد مشاورت سے جوڑے رکھے کیونکہ حکومت کا یہ رویہ سیاسی جماعتوں کے لئے ناقابل فہم ہے۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں امن و امان کی عمومی اور بالخصوص کراچی میں خراب صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ جرائم کی بیخ کنی کے مقاصد تاحال حاصل نہ ہو سکے۔ لوٹ مار، دہشت گردی ، گینگ وار جیسے مسائل سے کراچی ہنوز نبرد آزما ہے۔ ڈی جی رینجرز یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ لیاری میں ایک سیاسی جماعت کی سرپرستی کی وجہ سے گینگ وار کا خاتمہ اور سرکوبی نہیں ہو پارہی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ڈی جی رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحفظات کا ازالہ کرتے ہوئے انہیں آزادی کے ساتھ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کیاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپریشن کے آغاز کے وقت جس نگراں کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا، اسے تشکیل دیا جائے تاکہ کسی بھی مسئلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ براہِ راست سیاسی جماعتوں سے نہ الجھیں بلکہ عوام اور سیاسی جماعتوں کی شکایات کا ازالہ نگراں کمیٹی کے ذریعے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ معاملات سیاسی الجھائو کی طرف جا رہے ہیں اور امن و امان کا مسئلہ سردست حل طلب ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور جدید آلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان پر مناسب چیک بھی رکھا جائے تاکہ شکایات کا ازالہ بروقت ممکن ہو سکے۔